مقالہ جات

حضرت عمر بن عبدالعزیز کی قبر کی مسماری۔۔۔ پاکستان کے خلاف ایک ناکام سازش

پاکستان کی مذہبی جماعتوں نے ناصرف اس حوالے سےزور شور سے پریس کانفرنسز کیں بلکہ ریاست سے اس کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ بھی کرڈالا

شیعت نیوز: پتا نہیں کیوں مجھے ہمیشہ سے یہ یقین رہا ہے کہ ہماری اہم انتظامی نشستوں پر نااہل لوگ کسی خاص سفارش یا موقع سے فائدہ اٹھا کر مکمل طریقے سے براجمان ہیں۔ وہ اپنی حرکتوں سے ثابت کرتے آئے ہیں کہ وہ صرف نااہل ہی نہیں ہیں بلکہ دماغی طور پر ڈفر بھی ہیں اور جب وہ ایسی حرکتیں ہمارے سامنے کرتے ہیں جو پکڑی جاتی ہیں تو وہ کام جو بظاہرا” مفاد عامہ کیلئے کرتے ہونگے تو اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہوگا یہ ایک الگ بحث ہے ۔

ابھی حال ہی میں پورے ملک کے اہم مقامات پر ایک شور و غوغا جان بوجھ کر پیدا کرکے اس سے اپنے تعیں مناسب نتائج حاصل کرنے کی کوشش کی گئی مگر وہ کوشش نہ صرف بری طرح ناکام ہوئی بلکہ پکڑی بھی گئی اس پوری سازش کے پیچھے بیٹھے ہوئے چہرے اپنی عقلی منطقی استدلال کے مطابق دگرگوں ہونے کے قریب ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں: امریکہ میں جاری پرتشدد مظاہرے ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار کا سورج غروب کر کے ہی تھمیں گے، علامہ عبدالخالق اسدی

قصہ یوں ہے کہ اسلام آباد سے مخصوص نشستوں پر آئی ہوئی پاکستان تحریک انصاف کی ایک رکن صوبائی اسمبلی مومنہ وحید نے ایوان میں ایک قرارداد جمع کروائی جس میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ ہم حضرت عمر بن عبدالعزیز ر ح کے مزار کی شام میں ہونے والی بے حرمتی کی مذمت کرتے ہیں اور ایک خاص فرقے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس کا سارا ملبہ انھوں نے ان پر ڈالنے کی کوشش کی ۔ اس کے فورا” بعد سابق بیوروکریٹ اور تکفیری ذہنیت کے پروردہ نام نہاد تجزیہ کار جناب اوریا مقبول جان نے یہ سارا ملبہ رافضیوں پر ڈالتے ہوئے اسے ایک خاص مسلک کی طرف جوڑنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنے ٹویٹ پر لکھا کہ شام میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کی قبر کی بے حرمتی کرنے والے رافضیوں پر اللہ کی لعنت ہو اور مار پڑے ۔

اس کے فوری بعد تکفیری گروہ کے سرغنہ اورنگ زیب فاروقی نے اپنے ٹویٹ پر پیغام تحریر کیا کہ راٖفضیوں نے مسلمانوں کے خلیفہ عمر بن عبدالعزیز اور ان کی اہلیہ اور ایک خادم کی قبر کھود کر ان کی باقیات کونکال کر جلانے کے بعد پورے مقبرے کو جلا دیا ہے اور اسکے ساتھ ساتھ کچھ تصاویر بھی اپ لوڈ کردی گئیں ۔ بس پھر کیا تھا وہ بہت سارے ٹوئیٹر اکاونٹس جن پر ایک ہی تحریر ہمیشہ سے آجایا کرتی ہے اس نے اپنا کام شروع کیا اور ٹوئیٹر کا ٹرینڈ سیٹ کردیا اور یہ سار ا ملبہ ایک خاص مسلک اور اس کے پیروکاروں پر ڈالنے کی کوشش کی گئی ۔

یہ بھی پڑھیں: صیہونی منصوبوں کی تکمیل کے لئے سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان خفیہ رابطے

پاکستان کی مذہبی جماعتوں نے ناصرف اس حوالے سےزور شور سے پریس کانفرنسز کیں بلکہ ریاست سے اس کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ بھی کرڈالا۔یہ وہی مذہبی جماعتیں ہیں جو ہمیشہ ریاست کے اہم لوگوں کیلئے کسی بھی قسم کا فتوہ دینے کیلئے ہمیشہ تیار رہتی ہیں ۔

کہنے کو یہ تحریک انتہائی منظم اور بہترین تھی اور ایک ایسے وقت میں سامنے آئی تھی جب پاکستان کے مسلمان اور مخصوص مسالک جن میں اہل تشیع اور بریلوی حضرات شامل تھے وہ 8 شوال کو یوم انہدام جنت البقیع کے حوالے سے پورے ملک میں احتجاجی جلوس نکالنے کی تیاری پورے زور و شور سے کررہے تھے اور اس تیاری کو کاونٹر کرنے کیلئے حضرت عمر بن عبدالعزیز اور ان کی اہلیہ کی قبور کی بے حرمتی والی پوری اسٹوری مکمل کرلی گئی تھی مگر دماغی طور پر خود کو ہمیشہ بہترین کہنے والوں سے ایک بڑی غلطی ہوگئی جس سے اس منظم تحریک کا بھانڈہ عین وقت میں پھوٹ گیا ۔

اس سے پہلے کہ ہم اس غلطی کی بابت بات کریں پہلے ہمیں جان لینا چاہیے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رح کون ہیں ۔ مسلمانوں کے درمیان موجود مسالک میں صرف ایک مکتب تشیع ایسا نظریہ ہے جو باقی مسلمانوں سے اپنے نظرئیات کی وجہ سے مختلف ہے جن میں خلافت کی جگہ امامت کا نظریہ مانا جاتا ہے اور اختلافات کی وجہ اولین خلافت ہی ہے اس کے بعد جناب فاطمہ صلواۃ ؑ کی جاگیر فدک سرفہرست ہیں پھر بنی امیہ کے خانداہ رسول پر ہونے والے مظالم کی ایک طویل فہرست ہے جس کی وجہ سے اہل تشیع بنی امیہ پر تبرہ بھی کرنے کے قائل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امام خمینی رح کی انقلابی فکر نے دنیا بھر کے مسلمانوں میں احیاء اسلام کی فکر بیدار کی،علامہ مقصودڈومکی

61 ہجری میں واقعہ کربلا اور امام حسین ؑ کی شہادت کے بعد آلِ رسول کی بے حرمتی کی گئی اور یزید نے اپنے دور اقتدار میں مسلمانوں پر مظالم کا پہاڑ کھڑا کردیا تو فاطمی سادات سیاسی میدان سے بالکل الگ ہوگئے اور لوگوں سے لاتعلق ہوکر زندگی گزارنے لگے ۔ شہادت امام حسین کے بعد امام زین العابدین کی بظاہر زندگی 40 سال تک کی روایات کی حامل ہے اس کے بعد امام محمد باقر کا دور ہے اور اسی دور میں98 یا 99 ہجری میں حضرت عمر بن عبدالعزیز ؑ آٹھویں اُموی خلیفہ کے طور پر سلطنت اسلامیہ پر بیٹھے ۔ ان کے بہترین عمل خلافت سے وہ مکتب تشیع جو اموی خاندان سے ہمہ وقت نالاں رہتا تھا پہلے بار ایک اموی خلیفہ کی تعریف کرنے لگا ۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز رح نے اقتدار میں آنے کے بعد سب سے پہلا جو کام کیا وہ یہ تھا کہ ہر نماز جمعہ کے خطبے میں حضرت علی ؑ کا نام لیکر شب وستم کا اجراء کیا جاتا تھا اور ننگی گالیاں تک دی جاتی تھیں جس پر پابندی لگائی گئی ۔( حالانکہ امیر شام سے ہونے والے امام حسن ؑ کی صلح کی شقوں میں سب سے پہلی شق یہی تھی جس کی رو سے امام حسن ؑ نے امیر شام سے یہ بات تحریرا” طے کی تھی کی میرے بابا علی ؑ پر تم لوگ شب و ستم اب بند کردو گے مگر یزید کے دور میں یہ دوبار شروع کردیا گیا تھا ) عمر بن عبدالعزیز کے خطبہ جمعہ سے حضرت علی ؑ پر شب و ستم بند کروانے کے اس کام کے بعد حضرت امام محمد باقر نے انہیں نجیب بنی امیہ کا خطاب دیا تھا ۔

یہ بھی پڑھیں:جنوبی ایشیاکے عدم استحکام کی کوششوں کے نتیجے میں جنرل قمر جاوید باجوہ کا سنگین تنائج کا عندیہ

اس کے بعد حضرت عمر بن عبدالعزیز نے جناب فاطمہ کی جاگیر فدک اور اس کے انتظامات سے متعلق تمام تر چیزیں امام محمد باقر کے حوالے کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس پر بنی امیہ کو کوئی حق نہیں یہ آپ کا ہے اور آپ ہی اس کے وارث ہیں۔( یہ ایک الگ بحث ہے کہ ان کے بعد آنے والے اُموی خلفاء نے اس جاگیر دوبارہ فاطمیوں سے کیسے چھین لیا ) روایات میں یہ بھی ملتا ہے کہ اموی خاندان حضرت عمر کا اہلیبیت کی طرف جھکاو کو دیکھتے ہوئے اس بات سے خوف زدہ ہوگیا تھا کہ یہ کہیں خلافت بھی ان کے حوالے نہ کردیں اس لیے 101 ہجری میں انھیں زہر دے کر شہید کروادیا گیا ۔

اب ہم آتے ہیں اس غلطی کی طرف جو ہمارے انتظامی نشستوں پر بیٹھے ڈفر افراد سے سرزرد ہوئی انھوں نے ایک اموی خلیفہ کی قبر کی بے حرمتی کا الزام ایک ایسے مسلک کی طرف جوڑا جو اموی خاندان میں صرف اسی کی تقریم کا قائل تھا دوسرا یہ واحد مسلک ہے جو قبور کی حرمت کا قائل ہے اور تیسر ی سب سے بڑی غلطی ان لوگوں سے یہ ہوئی کہ یہ پورا گیم شو انھوں نے ان لوگوں کے زریعے پلان کیا جو سرے سے قبور کی حرمت کے بھی قائل نہیں تھے بلکہ ان کے نزدیک کسی کی قبر کا پکا کردینا بھی گناہ شمار کیاجاتا ہے ۔ جو جنت البقیع میں موجود قبور کی بے حرمتی پر لب کشائی کرتے ہوئے ڈرتے ہیں جنھوں نے حضرت اویس قرنی حضرت حجر بن عدی حضرت یونس حضرت زکریا کے مزارات کی ہونی والی بے حرمتی پر ایک لفظ نہیں کہا بلکہ ان کے پیروکار شام میں داعش کے ہمراہ اس لشکر کشی میں پیش پیش رہے ۔

یہ بھی پڑھیں:ان شاء اللہ وہ وقت دور نہیں جب امریکی کی مصنوعی طاقت کا بُت پاش پاش ہو جائے گا، مرکزی صدر آئی ایس او

مگر اس میں حقیقت کیا ہے اسے جاننے کیلئے بھی ہمیں تھوڑا سا پیچھے جانا ہوگا یہ بات ہے 29 جنوری 2020 کی جب شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے داعش کے ہاتھوں آزاد کروئے گئے علاقوں میں سے ایک تلمان شہر کی تصاویر جاری کئیں جن میں سکول ہسپتال اور چند قبور کی بھی تصاویر تھیں یہ کل 17 تصاویر تھیں جس پراگلے ہی دن یعنی 30 جنوری سے ترکی ایک تنظیم دی سیرئین آبزرور نے اپنے منفی پروپگنڈے کا آغاز شروع کیا کہ شامی فوج نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کے مزار کو شہید کردیا ہے پھر اس سے تمام ان ویب سائٹس نے مختلف اوقات میں مواد نقل کیا جو داعش اور جبۃ النصرہ جیسی دہشتگرد تنظیموں کے سہولت کار ممالک سے آپریٹ کی جاتی ہیں۔ یہ سلسلہ مارچ تک ہلکے پھلکے انداز میں جاری رہا پھر اچانک مئی کے مہینے کے آخری ایام میں جب اسلامی ماہ شوال کی آٹھویں تاریخ قریب تھی تو اس پروپگنڈے کو مزید شدت اور کچھ اضافی صوتی مواد کیساتھ ایک بار پھر شروع کیا گیا۔

یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگی کہ سب سے پہلے حضرت عمر بن عبدالعزیز کے مزار کو شہید کرنے کی خبر قطر کے الجزیرہ چینل نے 2012 بریک کی تھی مگر اسے گزرے آٹھ سال ہوچکے ہیں مگر یہ خبر سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر تاحال موجود ہے۔

اب صورتحال یہ ہے کہ یہ تمام تصاویر ویکی پیڈیا اور تمام سماجی رابطوں کی ویب سائٹ سے کہیں غائب کردی گئی ہیں اور اس پورے کھیل کے پیچھے موجود چہرے اپنی خفت مٹانے کیلئے منظر نامے سے غائب ہوچکے ہیں اور یہ پوری سازش بیچ بازار کھل گئی ہے ۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close