اہم ترین خبریںشیعت نیوز اسپیشلمقالہ جاتمقبوضہ فلسطین

بیت المقدس تاریخ کے آئینے میں (دوسری قسط)

بیت المقدس تاریخ کے آئینے میں (دوسری قسط)

بیت المقدس تاریخ کے آئینے میں (دوسری قسط)۔ لفظ یہودی سے ملتا جلتا ایک نام یہودا بھی ہے!؟ بائبل عہد نامہ قدیم میں سفر التکوین (Genensis) کی نشانی 29:35کے مطابق حضرت یعقوب علیہ السلام کے ایک بیٹے کا نام یہودا تھا۔ یعنی حضرت موسی علیہ السلام کے پردادا لاوی اوررحضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی یہودا جو کہ خود دیگر بھائیوں کے ساتھ مصر نقل مکانی کرگئے تھے۔

یعنی یہودا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پڑپوتے تھے جبکہ حضرت داؤد علیہ السلام یہوداکے بیٹے پیرزکی نسل میں سے تھے۔ پیرز کے بیٹے حیزرون کے بیٹے رم کے بیٹے امینادب کے بیٹے نحشون کے بیٹے سیلمون کے بیٹے بوآزکے بیٹے عبیدکے بیٹے جیسی (عیسائی) کے بیٹے حضرت داؤد علیہ السلام۔

حضرت داؤد علیہ السلام

پیغمبر خداحضرت داؤد علیہ السلام کو یہودی انگریزی میں کنگ ڈیوڈ کہتے ہیں یعنی بادشاہ داؤد۔ جیوش ورچوئل لائبریری کے مطابق سن ایک ہزار قبل مسیح میں انہوں نے یروشلم فتح کیا جبکہ سال ایک ہزار دس قبل مسیح سے لے کر سال نو سو ستر قبل مسیح تک کم و بیش چالیس برس حکمرانی کی۔ جیوش ورچوئل لائبریری کے مطابق حضرت داؤ علیہ السلام کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام 967قبل مسیح میں حکمران بنے۔

بیت المقدس تاریخ کے آئینے میں

یہ بھی یاد رہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خود حضرت ہاجرہ کے ساتھ مکہ مکرمہ ہجرت کی تھی جہاں انکے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ولادت ہوئی۔ وہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی تھی۔

حضرت سلیمان علیہ السلام

خانہ کعبہ کی تعمیر کے گیارہ صدیوں بعد حضرت داؤد علیہ السلام کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام نے بیت المقدس میں ایک عبادت خانہ تعمیر کیا۔

مذہب نہ کہ نسل

بریٹانیکا انسائیکلو پیڈیا کے مطابق سن 957 قبل مسیح میں اسکی تعمیر کا کام مکمل ہوا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور کے دینی تبرکات و مقدسات آرک آف کوونینٹ یا تابوت سکینہ کو یہاں محفوظ رکھا گیا۔ اس جگہ کو ہیکل سلیمانی بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن یہ معاملات مذہب سے متعلق ہیں نہ کہ نسل سے۔

اللہ تعالیٰ کے انبیائے کرام کی پیروی کرنے والا ان میں سے کہلاتا ہے اور ان سے سرکشی کرنے والوں کو ان سے عاق سمجھاجاتا ہے۔ اسکی وضاحت حضرت نوح علیہ السلا م کے واقعات کی تاریخ میں موجود ہے۔

 بیت المقدس کو قبلہ اول قرار دیا گیا

اسی تناظر میں دیکھیں تو حضرت سلیمان علیہ السلام کے تعمیر کردہ عبادت خانے کا مفہوم وہی ہے کہ جسے مسلمان اکثریت مسجد کہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت محمد مصطفیﷺ کو منصب نبوت و رسالت پر مبعوث کیا گیا تو اولین دور کے مسلمان مکہ میں ہوتے ہوئے بھی بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھا کرتے تھے۔

یہی یروشلم حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور میں مکمل کی جانے والی عبادت گاہ کی عمارت کو اسی طرح مرکز مانا کرتے تھے جیسے آج دنیا بھر کے مسلمان خانہ کعبہ (مکہ مکرمہ) کو مرکز مان کر اسی طرف رخ کرکے نمازیں پڑھتے ہیں۔ بیت المقدس کو قبلہ اول قرار دیا گیا۔ اور بعد میں اللہ کے حکم سے خانہ کعبہ کی حیثیت بحال کردی گئی اور وہ تا قیامت قبلہ قرار پایا۔

شب معراج کا سفر

بیت المقدس مسلمانوں کے لئے بھی دینی تقدس کا حامل ہے۔ قرآن شریف کی 17ویں سورۃ اسرا یا سورۃ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں ہی مسجد الحرام (خانہ کعبہ) اور مسجد اقصاکا تذکرہ ہے۔ یہیں سے براق پر سوار ہوکر حضرت محمد مصطفیﷺنے شب معراج کا سفرشروع کیا تھا۔
مسلمانان عالم کے لئے اس کی دینی اہمیت زیادہ ہے۔
فلسطین اور بیت المقدس مسیحیت کے پیروکاروں کے لئے بھی مقدس سرزمین ہے۔ رومی سلطنت کے دور میں یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام تبلیغ کیا کرتے تھے، یہیں انہیں صلیب پر لٹکایا گیا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام

یاد رہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا شجر نسب 14نسلوں کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام تک جاپہنچتا ہے۔ جبکہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کا شجرہ نسب 20واسطوں سے عدنانی عربوں کے جد عدنان تک جا پہنچتا ہے اور اس پر علماء و محققین کا اتفاق ہے کہ عدنان کا سلسہ نسب حضرت اسماعیل علیہ السلام سے ملتا ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کا تعلق قبیلہ قریش کی شاخ بنی ہاشم سے ہے اور حضرت ہاشم بھی فلسطین کے شہر غزہ میں ہی دفن ہیں۔

تاریخی پس منظر  مسئلہ فلسطین اور مسئلہ بیت المقدس

اس تاریخی پس منظر میں آج کے مسئلہ فلسطین اور مسئلہ بیت المقدس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بیت المقدس سمیت پورے فلسطین پر ناجائزقبضہ کرکے اسرائیلی ریاست بنانے والے زایون ازم جس کے پیروکار ہیں۔

نسل پرست یہودیوں کا سیاسی نظریہ

زایون ازم کو اردو عربی و فارسی زبان میں صہیون ازم کہتے ہیں۔ صہیون یروشلم میں ایک پہاڑی کا نام ہے۔

اور زایون ازم نسل پرست یہودیوں کا سیاسی نظریہ ہے جو انیسویں صدی کے آخری عشروں میں مشتہر کیا گیا۔

بیت المقدس تاریخ کے آئینے میں

بیت المقدس پر قبضے کے لئے یہودی دلیل کے طور پر صرف حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے ادوار حکومت کوہی پیش کرتے ہیں۔ حضرت داؤد علیہ السلام سے پہلے جسے وہ کنگ ساؤل کہتے ہیں، ان کے دور میں بھی یروشلم پر یہودی کنٹرول نہیں تھا جبکہ حضرت سلمان علیہ السلام کے بیٹے کے دور میں ہی بنی اسرائیل کے مختلف قبائل میں خانہ جنگی نے انکو منتشر و منقسم و کمزور کردیا تھا۔

فلسطین پر آشوری کنٹرول

جبکہ انکی اولاد نے آشوری حکومت کو اپنی مرکزی حکومت کے طور پر قبول کرلیا تھا۔ یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے سات سو اکیس برس قبل فلسطین پر آشوری کنٹرول کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا۔ اور سات سو برس قبل مسیح یروشلم بھی انکے نرغے میں آچکا تھا۔

نیبو چد نظر یا بخت نصر کی افواج

بابل کے حکمران نیبو چد نظر یا بخت نصر کی افواج نے پانچ سو چھیاسی برس قبل مسیح یروشلم کو تاراج کردیا تھا۔ اسی حملے میں حضرت سلمان کا تعمیر کردہ عبادت خانہ بھی تباہ کردیا گیا۔

پھر سلطنت فارس یعنی ایرانی سلطنت کے حکمران سائرس دی گریٹ نے بابل فتح کیا تو یروشلم بھی انکے کنٹرول میں آگیا۔ سائرس دی گریٹ کے لئے ایرانی تاریخ میں کوروش اعظم اور کوروش کبیر کا نام استعمال ہوتا ہے۔

سائرس دی گریٹ کوروش کبیر

سن539 قبل مسیح سے بیت المقدس کوروش کبیر کے ایران کی مرکزی حکومت کے کنٹرول میں آگیا۔ ہخامنشی ایرانی سلطنت کے حاکم سائرس دی گریٹ کے حکم پر یہاں دوبارہ یہودیوں کی آبادکاری ہوئی اور دوبارہ عبادت خانے کی تعمیر کا کام شروع ہوا جو سن 515قبل مسیح میں مکمل ہوا۔

داریوش سویم تا اسکندر اعظم

داریوش سویم کی ایرانی سلطنت تک یہاں امن و سکون قائم رہا۔ یعنی مسلسل دو سو سترہ سال یروشلم پرایرانی سلطنت کی حکومت رہی۔ اسکندر اعظم نے اس پر سن 322 قبل مسیح میں قبضہ کیا تھا۔

سن 323قبل مسیح میں اسکا انتقال ہوگیا۔ اس دور کو ہیلی نسٹک دور کہاجاتا ہے۔ اسکندر اعظم کے بعد بھی یہاں سن 141قبل مسیح تک یہاں قدیم یونانی پٹولمیک اور سیلیوسڈ راج رہا۔

سن141قبل مسیح تا سن 37قبل مسیح تک حسمونیئن اور سن 37قبل مسیح تا سن70قبل مسیح تک ہیروڈیئن حکومت کا یہاں کنٹرول رہا۔ اورسن70قبل مسیح سے 324عیسوی تک یروشلم یا بیت المقدس رو می سلطنت کے کنٹرول میں رہا۔

رو می سلطنت

یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے ستر برس قبل یہاں رومی سلطنت کا کنٹرول ہوا۔ تب انہوں نے دوسری مرتبہ تعمیر کئے گئے عبادت خانے (یعنی سیکنڈ ٹیمپل) کو تباہ کردیا۔ سن 135عیسوی میں انہوں نے بیت المقدس یروشلم کی تعمیر نو کرکے اسے رومی شہر بنادیا۔

رومی سلطنت کا یہ کنٹرول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے بعد بھی 324برس تک جاری رہا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رحلت کے تین سو اسی برس بعد رومن سلطنت نے مسیحیت کو مذہب کے طور پر اختیار کرلیاتھا۔

بازنطینی سلطنت

یاد ررہے کہ رومی سلطنت کے مغرب میں اقوام کی زبان لاطینی ہوا کرتی تھی جبکہ مشرقی آبادی کی زبان یونانی ہوا کرتی تھی۔ جب رومی سلطنت کے حاکم نے دارالحکومت روم سے بازنطین منتقل کیا تو اس شہر کا نام بھی تبدیل کردیا۔ انگریزی میں اسے

constantine اور constantinople

کہتے ہیں جبکہ اردو میں قسطنطنیہ کہا جاتا ہے۔

چرچ آف دی ہولی سیپلکر

اس بازنطینی سلطنت کا بیت المقد س یروشلم پر کنٹرول 324عیسوی میں ہوا۔ سن 335عیسوی میں انہوں نے وہاں ایک حصے میں جائے مدفن تعمیر کی جسے انگریزی میں چرچ آف دی ہولی سیپلکر کہاجاتا ہے۔

یعنی جہاں صلیب پر لٹکایا گیا اور جہاں بائبل کے مطابق مزار ہے اس حصے پر پتھروں سے یہ عمارت تعمیر کی گئی۔

چرچ آفی دی نیٹی وٹی

یروشلم شہر سے جنوب میں چھ میل دور بیت اللحم کے پہاڑی سلسلے جبال ال خلیل پر چرچ آفی دی نیٹی وٹی ہے اور مسیحیوں کا اعتقاد ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ناصریہ میں نہیں بلکہ اس جگہ پیدا ہوئے تھے۔

سن614عیسوی میں ایرانی سلطنت نے یروشلم پر بازنطینی کنٹرول ختم کرکے اسے اپنی قلمرو میں شامل کرلیا۔ سن629عیسوی میں بازنطینی عیسائیوں نے اس کا کنٹرول سنبھال لیا۔

حضرت عمر خلیفۃ المسلمین

سن 638عیسوی میں بیت المقدس یروشلم کو مسلمانوں نے بازنطینی کنٹرول سے آزاد کرایا۔ تب حضرت عمر خلیفۃ المسلمین کے عنوان سے مرکزی حکمران تھے اورمسلمان حکومت کا دارالحکومت مدینہ منورہ ہوا کرتا تھا۔ تب سے بیت المقدس یروشلم مسلسل 461برس مسلمان حکومتوں کے تحت رہا۔

کروسیڈرز کی حکومت، ایوبی اور مملوک حکمران

عیسائی صلیبی تحریک کے تحت حملوں کے بعد سال 1099 عیسوی میں یروشلم پر صلیبی یعنی کروسیڈرز کی حکومت قائم ہوگئی۔ سال 1187عیسوی میں صلاح الدین ایوبی کی قیادت میں مسلمانوں نے بیت المقدس کو صلیبی قبضے سے چھڑاکر مسلم حکومت کی قلمرو میں دوبارہ شامل کردیا۔

بیت المقدس تاریخ کے آئینے میں

البتہ سن 1229ع سے1244عیسوی تک کے درمیانی عرصے میں دو مرتبہ صلیبیوں نے حملے کرکے مختصر دورانیے کے لئے بیت المقدس پر کنٹرول حاصل کیا۔ مگر مجموعی طور پر مسلمانوں کے ایوبی اور مملوک حکمران دور میں بھی بیت المقدس پر مسلمانوں کی حکومت رہی۔

سن 1250عیسوی میں مملوک دور میں شہر کی دیواریں مسمار کردیں گئیں۔ ترکوں کی عثمانی سلطنت کے طویل المدت حکمران شاہ سلیمان قانونی کے دور حکومت میں شہر کی دیواریں دوبارہ تعمیر کروائیں گئیں۔ اس سے قبل بھی یہ شہر مسلمان حکومت کی قلمرو میں رہا۔

 ترک مسلمان حکومت یعنی سلطنت عثمانیہ

سال 1517ع سے اگلی چار صدیوں تک مسلسل یروشلم بیت المقدس ترک مسلمان حکومت یعنی سلطنت عثمانیہ کے کنٹرول میں رہا۔ بیت المقدس پر مسلمانوں کی سلطنت عثمانیہ کا کنٹرول پہلی جنگ عظیم کے دوران سن 1917ع تک جاری رہا۔ 1917ع سے بیت المقدس سمیت پورے فلسطین کو مینڈیٹ کے نام پر برطانیہ کے کنٹرول میں دے دیا گیا۔

غلام حسین برائے شیعت نیوز اسپیشل

بیت المقدس تاریخ کے آئینے میں (دوسری قسط)

بیت المقدس تاریخ کے آئینے میں (پہلی قسط)

US President unveils ME Peace to Prosperity plan as a piece to severity

 

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close