اہم ترین خبریںلبنان

حزب اللہ نے دہشت گردوں کو لبنان پر قابض ہونے سے روکا۔ صالح الفلیطی

شیعت نیوز: ویب سائٹ ’’العہد‘‘ کو لبنانی علاقے الزیتونیہ کی مسجد کے اہلست امام جماعت شیخ صالح ابراہیم الفلیطی کی طرف سے دیئے گئے ایک ویڈیو انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کی طرف سے انجام دی گئی خدمات کو بیان کرنے سے زبان عاجز ہے، کیونکہ اگر حزب اللہ نہ ہوتی تو ہم تکفیری دہشت گردوں کے زیرنگیں زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے۔

انہوں نے کہا کہ صوبہ البقاع کے شہر عرسال کے شہری زندہ دل اور عزت مند ہیں، لیکن علاقے میں تکفیری دہشت گردوں کے داخل ہو جانے کے بعد یہاں بھی بعض افراد نے ان جیسی سوچ اپنا لی تھی، جبکہ دوسرے لوگوں نے ان کے مقابلے میں کوئی کام انجام نہیں دیا تھا اور یہی وجہ تھی کہ علاقے میں مختلف گروہ بننا شروع ہو گئے تھے۔

شیخ صالح کا کہنا تھا کہ ہمارے درمیان پہلے کوئی گروہ بندی نہیں تھی، لیکن تکفیری دہشت گردوں نے ہمارے درمیان گروہی اور مذہبی جھگڑے ڈالنے کے لئے اُسے ایک ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا۔

یہ بھی پڑھیں :سعودی عرب علاقائی ممالک کے لئے بہت بڑا خطرہ بن گیا ہے۔ نصر اللہ

اس علاقے کے 80 فیصد لوگ اپنے کھیتوں اور زرعی زمینوں کی طرف چلے گئے اور 10 فیصد کا خیال یہ تھا کہ حزب اللہ تکفیری دہشت گردوں کو نکال باہر کرنے کے بعد عرسال کے کھیتوں اور باغات پر قبضہ کرکے بیٹھ جائے گی، لیکن پھر سب نے دیکھا کہ حزب اللہ کے جوان تکفیری دہشت گردوں کو مار بھگانے کے بعد حتی ایک گھنٹے کے لئے بھی علاقے میں نہیں رکے اور اس علاقے کو اس کے تمامتر کھیتوں اور باغات سمیت ان کے مالکوں کو واپس کرکے اپنی بیرکوں میں چلے گئے۔ علاوہ ازیں حزب اللہ کے جوان جن باغات اور کھیتوں میں ٹھہرے تھے، ان کھیتوں اور باغات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا جبکہ دوسری طرف تکفیری دہشت گرد اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں موجود درختوں کو جلانے کے لئے ہمیشہ کاٹتے رہتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ جب حزب اللہ کے جوانوں نے تکفیری دہشت گردوں کا مقابلہ کیا تو ان میں سے بعض تو مارے گئے، بعض بھاگ گئے جبکہ بعض نے حزب اللہ کے ساتھ مذاکرات کرکے اپنی جان بچائی۔ حزب اللہ کے اس معرکے سے اللہ تعالیٰ کا کلام کہ ’’مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں‘‘ کی عملی تفسیر نظر آئی۔

نہوں نے کہا کہ اگر ہم اسلامی مزاحمت کی طرف سے عرسال میں انجام دی گئی خدمات کا ذکر کرنا چاہیں تو زبان اس کا حق ادا کرنے سے قاصر ہے، کیونکہ حزب اللہ نے نہ صرف عرسال پر تکفیری دہشت گردوں کو قابض نہیں ہونے دیا بلکہ وہ دہشت گردوں کے قبضے سے ’’جرود عرسال‘‘ نامی علاقے کی آزادی میں بھی انتہائی موثر ثابت ہوئی تھی جبکہ حزب اللہ کے بعد لبنانی فوج تھی، جس نے حزب اللہ کے ساتھ مل کر اس مقصد کے لئے کام کیا، لہٰذا ہم انہیں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کام کی بہترین پاداش عطا فرمائے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close