اہم ترین خبریںمقبوضہ فلسطین

امام خمینی نے فلسطینی استقامت کے جسم میں روح پھونکی۔ سربراہ اسماعیل ہنیہ

شیعت نیوز: اسلامی تحریک مزاحمت ’’ حماس‘‘ کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ صیہونیوں کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کا واحد راستہ مسلح جد و جہد ہے۔

اسماعیل ہنیہ نے ایران کی جانب سے فلسطین کے استقامتی گروہوں کی حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ مسلح استقامت ہی اسلام کے مقدس مقامات کو یہودیت کا رنگ دینے کی سازشوں اور صیہونیوں کا مقابلہ کرنے کا واحد راستہ ہے۔

تحریک حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے کہا کہ بیت المقدس کو دوسرے مقدس مقامات کی نسبت یہودیت کا رنگ دیئے جانے کا زیادہ خطرہ لاحق ہے۔ اسماعیل ہنیہ نے واشنگٹن کی جانب سے امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کئے جانے اور اس شہر کو صیہونی حکومت کا دارالحکومت قرار دینے پر سخت تنقید کی اور عالم اسلام سے ان سازشوں کے مقابلے میں ڈٹ جانے کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں : قائداعظم محمد علی جناحؒ نے بھی جارح اسرائیل کو غیر قانونی اور غاصب ریاست قرار دیا تھا، علامہ ساجد نقوی

تحریک حماس کے سربراہ نے بڑے پیمانے پر عسکری استقامت پر تاکید کی اور ایران کی جانب سے استقامتی محاذ بالخصوص فلسطینی تنظیموں کی حمایت کی قدردانی کی۔ اسماعیل ہنیہ نے کہا کہ امام خمینی ؒ نے ماہ رمضان کے آخری جمعے کو یوم قدس قرار دے کر فلسطینی استقامت کے جسم میں روح پھونک دی۔

دوسری طرف حماس کے رہنما نے کہا کہ اگر دنیا کی تمام حریت پسند قومیں اورعوام اٹھ کھڑے ہوں اور سیاسی رہنما صحیح موقف اختیار کریں تو اسرائیل جیسے موذی مرض کی جلد ہی بساط لپٹ جائے گی۔

فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کے رہنما خالد قدومی نے منگل کے روز القدس بین الاقوامی کانفرنس کے ورچوئل اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے کچھ عرب ممالک صیہونی حکومت کیساتھ اپنے ثقافتی تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ انہیں یہ پتہ ہونا چاہئے کہ تعلقات کو معمول پر لانے سے ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی ممالک اور مسلمان عوام کو غاصب صیہونی ریاست کیساتھ تعلقات معمول پر لانے والوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا چاہیے۔

خالد قدومی نے کہا کہ وہ ممالک جو ناجائز اور غاصب صیہونی حکومت کیساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لائے ہیں انہیں بہت ساری معاشی پریشانیوں اور معاشرتی چیلنجوں کا سامنا ہے اور ان کی صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔

حماس کے رہنما نے کہا واضح کیا کہ اگر دنیا کی تمام آزاد ضمیر قومیں اور عوام اٹھ کھڑے ہوں اور سیاسی رہنما صحیح موقف اختیار کریں تو ناجائز صیہونی ریاست جیسا موذی مرض جلد ہی عالمی سطح پر ختم ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں اسلامی ممالک کے لئے صدی ڈیل کو انتہائی اہم چیلنج قرار دیا۔

خالد قدومی کا کہنا تھا کہ اگرچہ غاصب صیہونی ریاست کے پاس جدید اور طاقتور فوجی ساز و سامان موجود ہیں لیکن فلسطینی مزاحمتی گروہوں کے پاس اب بھی اس ناجائز ریاست کے خلاف مقابلہ کرنے کی بھرپور توانائی موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ کی بزدلانہ ناکہ بندی کے باوجود، فلسطینی عوام غاصب صیہونی حکومت کو چیلنج اور ان کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close