پاکستان

دنیا و آخرت میں کامیابی کیلیے امام رضا ؑ کی سیرت پر عمل کرنا ہوگا

شیعیت نیوز : شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے آٹھویں امام حضرت علی رضا علیہ السلام کی ولادت با سعادت کے موقع پر کہا کہ آپؑ کا مبارک اور مقدس خانوادہ عالم کیلئے کسی بھی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ آپ رضاؑ کے لقب سے مشہور تھے۔ آپؑ علم میں شہرت کی وجہ سے رضا کے ساتھ ساتھ آپؑ کو عالم آل محمد (ص) کے نام سے بھی شہرت حاصل ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ امام رضاؑ اپنے آباؤ اجداد کی طرح بے شمار اوصاف حمیدہ کے مالک تھے، معاشرے کا ہر عام و خاص معترف تھا۔ آپؑ کا علم، سخاوت، فصاحت و بلاغت زہد و تقویٰ اور مہربان ہونا زیادہ مقبول عام تھا۔ اس لیے آپؑ کا ایک لقب امام روؤف تھا جو دوسرے القابات میں سے نسبتا ً زیادہ معروف ہوگیا تھا۔ امامؑ نے اپنے اباؤ اجداد کی طرح اپنی ساری زندگی انسانیت کی ہدایت کیلئے وقف کی ہوئی تھی۔ بشریت کی ہدایت کیلئے کوئی بھی دقیقہ فرو گذاشت نہ کرتے تھے۔ امت مسلمہ کے اتحاد و وحدت کے حوالے سے امامؑ کی رہنمائی بھی اس زمانے میں زبان زد عام و خاص تھی۔ اُمت مسلمہ کو اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے محفوظ رکھنے اور ملت کا شیرازہ بکھرنے سے بچانے کیلئے بے پناہ خدمات انجام دیں۔ امامؑ نے بشریت کی ہدایت کیلئے کئی سفر انجام دیئے تاکہ پیغام الہٰی ان تک پہنچایا جاسکے۔ امامؑ کو امت مسلمہ کے مصلحت کی خاطر خلیفہ وقت کی ولی عہدی بھی قبول کرنا پڑی جس کا ایک تاریخی پس منظر ہے جو اپنے مقام پر قابل مطالعہ ہے۔

امام علی رضا ؑ کا مختصر تعارف

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح امامؑ نے امت مسلمہ میں انتشار پیدا نہ ہونے دیا۔ امامؑ نے جو متعدد سفر اختیار کیے ان سے ایک مشہور سفر مدینہ منورہ سے خراسان تک تھا۔ اس راستے میں نیشا پور کے مقام پر عوام کے ایک جم غفیر سے خطاب فرماتے ہوئے ایک حدیث رسول کو بیان فرمایا، جس کے تمام راوی آئمہ اطہار ہیں، یہ سلسلہ رسول اللہ تک پہنچتا ہے اور بذریعہ جبرائیل خداوند تعالی تک پہنچتا ہے۔ اسی لئے اس حدیث کو سلسہ الذہب یعنی (سونے کی زنجیر) کہا جاتا ہے۔ اس حدیث میں امامؑ نے فرمایا کہ خداوند تعالیٰ فرماتا ہے کہ لا الہ الا اللہ میرا قلعہ ہے۔ جو اس قلعہ میں داخل ہوگیا وہ میرے عذاب سے محفوظ ہوگیا۔ امامؑ نے اپنے زمانے میں مختلف مذاہب کے علماء کے ساتھ علمی مناظرے کیے۔ جس سے امامؑ کی اعلمیت اور اسلام کی حقانیت مخالفین تک واضح ہوگئی۔ امامؑ کے مناظروں میں سے سلمان مروضی، ابوقرہ، جاثلیق، راس الجالوت، عالم زر دشتی اور عمران صابی کے مناظرے مشہور ہیں۔ ان مناظروں میں امامؑ نے ہمیشہ اسلام کو مزید سربلندی عطا فرمائی۔ آج کے اس دور میں بھی ہمیں امامؑ کی نورانی زندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ آج کل امت مسلمہ کو درپیش مسائل میں باہمی ہم آہنگی، اخوت اور بھائی چارے، اتحاد و وحدت کی فضا کو برقرار رکھنے کیلئے مزید کوشاں رہنا چاہیئے۔ نیز اسلام اور مسلمین کی سربلندی کیلئے علمی میدانوں کے علاوہ دیگر میدانوں میں بھی بھرپور علمی کوشش کرنی چاہیئے تاکہ اپنے درخشاں ماضی کی طرح اپنے حال اور مستقبل کو بہتر بنا کر اقوام عالم کے سامنے ایک رول ماڈل پیش کرسکیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close