اہم ترین خبریںپاکستان

شیعہ مکتب کے بارے میں عمران خان کا امریکہ میں ایسا بیان کہ دنیا حیران رہ گئی

عمران خان نے کہا ایران کے خلاف فوجی کاروائی نہیں ہونی چاہیے، اس کے نتائج پاکستان کے لیے بہت بھیانک ہوں گے، حملے کے بعد ایسی دہشت گردی ہو گی کہ لوگ القائدہ کو بھول جائیں گے

شیعت نیوز: شیعہ مکتب فکر کے بارے میں عمران خان کا امریکہ میں ایسا بیان کہ دنیا حیران رہ گئی ۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے امریکہ میں خطاب کرتے ہوئے ایک سوال پر کہ پاکستان ایران کے سلسلے میں کچھ کرسکتا ہے تو عمران خان کہنے لگا کے ایران پر مشکل وقت ہے،وہ جدوجہد کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ایران کی قوم ہے وہ کس طرح سے گزارا کررہے ہیں وہ جانتے ہے اور میں نے اس سلسلے میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ایران سے بات کی لیکن ایرانی جو کہ شیعہ ہیں اور شیعہ شہادت کے جذبے سے بہت قریب ہوتے ہیں اور ان میں سنی مسلمان سے زیادہ یہ جذبہ ہوتاہے وہ جذبے سے لڑتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق یو ایس انسٹیٹیوٹ آف پیس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ایران کے خلاف فوجی کاروائی نہیں ہونی چاہیے، اس کے نتائج پاکستان کے لیے بہت بھیانک ہوں گے، حملے کے بعد ایسی دہشت گردی ہو گی کہ لوگ القائدہ کو بھول جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا اسلام کے شیعہ مکتب فکر میں جذبہ شہادت اور آپسی اتفاق زیادہ ہے۔ ایران کے خلاف جنگ مختصر ہو سکتی ہے، لیکن اس کے بعد کے نتائج کو زیادہ لوگ نہیں سمجھتے۔ وزیراعظم نے کہا ایران کے خلاف فوجی کاروائی نہیں ہونی چاہیے، پاکستان پہلے ہی بہت نقصان اٹھا چکا ہے، ہم اپنی سرحدوں پر ایک اور جنگ نہیں چاہتے،، ممکنہ جنگ کو روکنے کے لیے پاکستان تمام کوششیں کرے گا۔

یہ خبر بھی لازمی پڑھیں: عمران خان کی وائٹ ہاؤس میں بیٹھ کرافغانستان پر امریکی موقف کی مخالفت

واضح رہے کہ خان نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ اگر ایران کے خلاف کسی بھی ایکشن کی کوشش کی گئی تو تشیع میں موجود جذبہ شوق شہادت امریکیوں کو ایسے رخ سے روشناس کر دے گا کہ تم داعش کو بھول جائو گے۔ یہاں سے بات کا آغاز کیا جانا چاہئیے۔ پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ اس سوال کی وضاحت سے لگتا ہے کہ پاکستان ایران کیخلاف کسی بھی کولیشن میں شرکتداری سے انکار کی طرف جاتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اس کی وجہ پاکستان کی صورتحال بتائی گئی ہے۔ ساتھ بڑے تیقن کے ساتھ کہنا کہ جو خطے کی صورتحال ہمارے پیش نظر ہے دوسرے ویسا نہیں جانتے۔

دوسری جانب خان نے ایران کیخلاف جنگ نہ کرنے کی بات ہے۔ یہ بہت اہمیت کا حامل ہے کہ یہ بات اس نے کہاں کی کس کے سامنے کی۔ یعنی جو جنگ شروع کرنے پر سعودی اسرائیلی اور امریکی ادھار کھائے بیٹھے ہیں اس پر امریکہ میں بیٹھ کر رائے زنی کرنا اور بھی ایک ایسے ملک کا جسے اس ممکنہ جنگ کا اہم میدان سمجھا جا رہا ہو۔ چھوٹی بات نہیں۔ اور سٹریٹجک گفتگو اچانک صحافی کے سوا ل سے خان کے ذہن میں نہیں آئی۔ کیونکہ اتنا حساس موضوع سٹریٹجک ماہرین کے طے شدہ پلان کے مطابق ہی ڈسکس ہوتا ہے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close