اہم ترین خبریںپاکستان کی اہم خبریں

اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئےہمیں امریکا کی جانب سے غیر معمولی دباؤ کا سامنا ہے،عمران خان

جس کے بعد سوڈان 2 ماہ کے عرصے میں تیسرا مسلمان ملک تھا جس نے اسرائیل سے دشمنی ختم کرنے اور تعلقات معمول پر لانے کا اعلان کیا۔

شیعیت نیوز: وزیراعظم عمران خان نے اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو امریکا کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے شدید دباؤ کا سامنا ہے بالخصوص متعدد عرب ممالک کے تل ابیب کے ساتھ امن معاہدوں کے تناظر میں، لیکن ایسا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ایسا تصفیہ نہ ہو جو فلسطین کو مطمئن کرسکے۔

ڈان اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کا یہ بیان مشرق وسطیٰ کے معاملات پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ مڈل ایسٹ آئی (یم ای ای) کی ایک رپورٹ میں شائع ہوا۔

ویب سائٹ کا کہنا تھا کہ عمران خان نے یہ بیان گزشتہ ہفتے مقامی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے دیا تھا۔

ویب سائٹ کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ ٹرمپ کے دور میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ غیر معمولی تھا۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا کسی اور مسلمان ملک کو بھی پاکستان جیسے دباؤ کا سامنا کرنا پڑرہا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ‘ایسی چیزیں ہم نہیں کہہ سکتے، ہمارے ان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جی بی الیکشن، ایم ڈبلیوایم سے اتحاد کی بدولت پی ٹی آئی کی سادہ اکثریت سے فتح ، حکومت سازی کیلئے سرگرم

مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے مسئلہ فلسطین پر پاکستان کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد فلسطین کے حوالے سے جناح کے نقش قدم پر چلتا رہے گا، یعنی جب تک عرب حصے کے لیے انصاف نہ ہو، پاکستان یہودی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

یاد رہے کہ حال ہی میں مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے والا ملک متحدہ عرب امارات تھا۔

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے اگست میں اعلان کیا تھا کہ وہ تعلقات کو معمول پر لائیں گے جبکہ حکومتی سطح پر بینکنگ، کاروباری معاہدوں کے ذریعے متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل کے خلاف طویل مدت سے جاری بائیکاٹ کو ختم کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان تحریک انصاف اور مجلس وحدت مسلمین جی بی میں مل کر حکومت بنائیں گے،علامہ راجہ ناصرعباس

بعدازاں قریبی ملک بحرین نے بھی 15 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے یو اے ای کے ساتھ مل کر معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

جس کے بعد سوڈان 2 ماہ کے عرصے میں تیسرا مسلمان ملک تھا جس نے اسرائیل سے دشمنی ختم کرنے اور تعلقات معمول پر لانے کا اعلان کیا۔

متحدہ عرب امارات اور بحرین وہ تیسرے اور چوتھے عرب ممالک تھے جنہوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کیے جبکہ مصر اور اردن بالترتیب 1979 اور 1994 میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدات پر دستخط کر چکے تھے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close