اہم ترین خبریںپاکستان

امریکہ بہادر کی خواہشات کے برخلاف، عمران خان اور روسی صدر کی قربتوں میں اضافہ

امید ظاہر کی جارہی ہے کہ عمران خان اور ویلادمیر پیوٹن کےدرمیان یہ ملاقاتیں خطے میں اہم تبدیلوں بالخصوص پاکستان کی امریکی وسعودی بلاک سے نجات کا باعث بن سکتی ہیں ۔

شیعت نیوز: وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور روسی صدر ولادمیر پیوٹن کے درمیان امریکی خواہشات کے برخلاف قربتیں بڑھ رہی ہیں ۔ عمران خان اور ویلادمیر پیوٹن کے درمیان یہ یارانہ امریکہ کو ایک آنکھ نہیں بھارہا ۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان ان دنوں کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم(ایس سی او)کے 19ویںسربراہی اجلاس میں شریک ہیں ۔

بشکیک سے موصولہ تازہ اطلاعات اور تصاویرکے مطابق پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اور روسی صدر ولادمیر پیوٹن کے درمیان غیر معمولی سرگرمیاں ملاحظہ کی گئی ہیں ۔ اجلاس کے دوران اور مختلف مواقع پر دونوں سربراہان مملکت غیر رسمی اندازمیں ایک دوسرے ساتھ خوشگوار انداز میں مسلسل محو گفتگو دکھائی دے رہے ہیں ۔ وہ اجلاس کے شرکاء کا گروپ فوٹو ہو یا کھانے کی ٹیبل عمران خان اور ولادمیر پیوٹن سرگوشیوں میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں ۔

دوسری قابل توجہ بات یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان ایک مرتبہ پھر مغربی لباس کے بجائے قومی لباس (شلوار قمیض )زیب تن کرکے اجلاس میں شریک ہوئے سب کی توجہ کا مرکز بننے رہے ۔جبکہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اجلاس کے دوران تنہائی کا شکار دکھائی دیئے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارتی وزیراعظم قطار کے آخر میں چپ چاپ کھڑے رہے جبکہ روسی صدر وزیراعظم پاکستان کے ساتھ مسلسل بات چیت کرتے دکھائی دیے۔

یہ خبر بھی لازمی پڑھیں:عمران خان اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان رواں ماہ ملاقات طے پاگئی

امید ظاہر کی جارہی ہے کہ عمران خان اور ولادمیر پیوٹن کےدرمیان یہ ملاقاتیں خطے میں اہم تبدیلوں بالخصوص پاکستان کی امریکی وسعودی بلاک سے نجات کا باعث بن سکتی ہیں ۔

واضح رہے کہ روس اس وقت امریکہ اور اس کے اتحادی عرب وخلیجی ممالک کے خلاف مذاحمتی ومقاومتی بلاک کا مضبوط اتحادی ہے ۔ روس نے شام ، عراق ،لبنان اورمشرق وسطیٰ کے دیگر علاقوں میں امریکی، اسرائیلی اور سعودی مفادات کے خاطر برسر پیکار عالمی دہشت گرد گروہ داعش کے مقابلے میںا سلامی مقاومتی بلاک کی مکمل سپورٹ کی ہے ۔

اگر پاکستان اور روس کے درمیان سفارتی ودفاعی سطح پر مضبوط تعلقات کا قیام عمل میں آجائے تو پاکستان کو درپیش بیرونی چیلنجز اور خطرات اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی ریشہ دوانیوں سے مقابلے میں بھی بڑی حد تک  مدد حاصل ہوسکتی ہے ۔ جس کا سامنا پاکستان گزشتہ4 دہائیوں سے مسلسل کررہا ہے ۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close