اہم ترین خبریںپاکستان

ایران کی حکومت نے زائرین کو بارڈر پر کیوں چھوڑا ؟؟عمران خان نے حقائق بیان کردیئے

تمام پارلیمانی جماعتوں کی تجاویز اور آرا لی جائیں گی اور حکومت سب کے ساتھ رابطے میں رہے گی اور تفصیلات بھی شیئر کی جائیں گی۔

شیعت نیوز: ایران کی حکومت نے زائرین کو بارڈر پر کیوں چھوڑا ؟؟عمران خان نے حقائق بیان کرکے پروپگینڈہ مہم کو بے نقاب کردیا ۔وزیر اعظم عمران خان نے کہاکہ عالمی پابندیوں کے باعث سہولیات کے فقدان کے سبب ایرانی حکومت نے پاکستانی زائرین کو تفتان بارڈر پر پہنچایا ۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی جنگ صرف قوم جیت سکتی ہیں حکومت نہیں اور ہم سب مل کر اس جنگ کو جیتیں گے جس کا سہرا تمام پاکستانیوں اور تمام صوبوں کے سر ہوگا۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی سربراہی میں ویڈیو لنک کے ذریعے پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیراعظم نے بھی آن لائن خطاب کیا۔

اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے حکومت کی جانب سے اب تک اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام پارلیمانی جماعتوں کی تجاویز اور آرا لی جائیں گی اور حکومت سب کے ساتھ رابطے میں رہے گی اور تفصیلات بھی شیئر کی جائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے حوالے سے پہلا اجلاس 15 جنوری کو کیا گیا اس وقت کورونا وائرس صرف چین کی حد تک محدود تھا جس کے بعد ہم چینی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے کیوں کہ ہمارے طلبہ وہاں پھنسے ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ایم ڈبلیوایم کی جانب سے ناصرشیرازی کی سربراہی میں المجلس ڈیزاسٹرمینجمنٹ سیل کے قیام کا اعلان

انہوں نے بتایا کہ طلبہ اور ان کے والدین کی جانب سے اپیل آنے لگی کہ انہیں واپس لایا جائے تاہم ہم چونکہ چینی حکام کے ساتھ رابطے میں تھے اس لیے ہم نے طلبہ کو وہیں رکھنے کا فیصلہ کیا جو بہت مشکل اور ایک بڑا فیصلہ تھا۔

وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ پہلے یہ منصوبہ زیر غور تھا کہ چین سے طلبہ کو واپس لا کر ایک حاجی کیمپ میں ٹھہرایا جائے لیکن اس خوفِ کے پیشِ نظر کہ وہاں سے وبا پھیل سکتی ہے چینی حکام سے رابطہ کر کے انہیں وہیں رکھا گیا، جو ایک اچھا فیصلہ تھا لیکن اس کی وجہ سے چین سے ایک بھی کیس ملک میں نہیں آیا۔

تاہم جب دوسرے ہمسایے ایران میں کورونا وبا پھیلنا شروع ہوئی تو ہمارے زائرین وہاں موجود تھے اور ایران کی حکومت کے ساتھ بھی ہم مسلسل رابطے میں تھے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ مسئلہ اس وقت ہوا کہ جب ایران میں اس وبا نے زور پکڑا تو ایران کے پاس وہ صلاحیتیں موجود نہیں تھی جو چین کو حاصل تھیں کہ اس سے نمٹ سکتے لہٰذا زائرین کو تفتان بارڈر پر منتقل کردیا گیا جہاں ان کے پاس زائرین کو قرنطینہ کرنے یا اسکریننگ کرنے کے انتظامات نہیں تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے حکومت پر دباؤ پڑنا شروع ہوگیا جس کی وجہ سے ہمیں انہیں قبول کرنا پڑا اور جب ہمیں ایران سے زائرین کے آنے کا علم ہوا تو پہلی مرتبہ 27 یا 28 فروری کو معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر مرزا کو تفتان بارڈ پر جائزہ لینے کے لیے بھیجا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: دیوبندی تبلیغی اجتماعات ملک بھرمیں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا سب سے بڑاسبب بن گئے

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جائزے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ تفتان میں ہمارے پاس کوئی سہولت موجود نہیں ہے کیونکہ تفتان بارڈر کوئٹہ سے 700 کلومیٹر دور ایک ویران جگہ پر قائم ہے جہاں کوئی سہولت موجود نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت سے حکومت نے کوشش کی کہ جس حد تک ممکن ہو وہاں سہولیات فراہم کی جائیں اور وہ ایک عارضی سہولت تھی جو پاک فوج کی مدد سے وہاں پہنچائی گئی۔

وزیراعظم کے مطابق پاکستان میں صرف 153 افراد کو مقامی سطح پر وائرس منتقل ہوا جبکہ بقیہ کیسز باہر سے آئے ہیں مقامی سطح پر کیسز کی تعداد کم ہونا خوش آئند بات ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس سلسلے میں ہم وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے اور ہمیں معلوم تھا کہ ہم جو بھی کوشش کریں گے وہ ناکافی ہوگی کیوں کہ تفتان بارڈر کی صورتحال ایسی ہی تھی۔

حکومتی اقدامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے تک 9 لاکھ افراد کو ایئر پورٹس پر اسکرین کیا جاچکا ہے اور کل کے اعداد و شمار کے مطابق 900 افراد پاکستان میں کورونا وائرس کا شکار ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ مقامی سطح پر وائرس کی منتقلی کی محض 153 کیس ہیں باقی تمام کیسز کا تعلق بیرونِ ملک سے ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نصاب تعلیم میں ختم ِ نبوت سمیت 15 تجاویز شامل نہ کی گئیں تو تسلیم نہیں کریں گے، علامہ نیاز نقوی

انہوں نے بتایا کہ جب ملک میں صرف 21 کیس تھے اس وقت ہم نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا اس کے بعد قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس کیا اور قومی سلامتی کی اجلاس میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے حوالے سے مختلف نظریات پائے جاتے ہیں ہم نے اپنے نقطہ نظر کے تحت جامعات، کالجز، یوم پاکستان پریڈ جیسی چیزیں بند کردیے تاکہ عوام جمع نہ ہوسکیں۔

انہوں نے بتایا کہ قومی رابطہ کمیٹی میں سندھ کا خیال تھا کہ ہمیں اس سلسلے میں آگے بڑھنا چاہیے جبکہ میرا اور باقی شرکا کا نقظہ نظر یہ تھا کہ ابھی ہم اس سطح پر نہیں ہیں کہ لاک ڈاؤن کو بڑھایا جائے۔

تاہم بعد میں میڈیا اور بین الاقوامی صورتحال کی وجہ سے دباؤ پڑنے کے باعث خیبرپختونخوا اور پنجاب میں بھی لاک ڈاؤن شروع کردیا گیا اور اس میں ٹرانسپورٹ بھی بند کردی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ لاک ڈاؤن کے معاملے میں صوبے بااختیار ہیں لیکن میرے خیال میں اس سے تعمیراتی شعبہ متاثر ہورہا ہے اور اس کا اثر یومیہ اجرت کے ملازمین پر پڑرہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ میری نظر میں لاک ڈاؤن کی اقسام ہیں دنیا کے دیگر ممالک نے بھی اپنے حالات کے حساب سے پابندیوں میں اضافہ کیا اور میں سمجھتا ہوں ہمیں اس لاک ڈاؤن پر بالکل نہیں جانا چاہیے جس میں ٹرانسپورٹ بند ہوجائے۔

یہ بھی پڑھیں: شاہ محمود قریشی کا فرانسیسی ہم منصب سے ایران پر عائد پابندیاں اٹھوانےکیلئےتعاون پر اتفاق

انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ کی بندش سے ہمیں رسد (سپلائی) کی صورت میں خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور گلگت بلتستان میں تیل کی کمی بھی ہوگئی ہے کیوں کہ ٹرانسپورٹ بند ہوگئی ہے۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ گندم کی کٹائی ہونے والی ہے جس کے لیے ڈیزل درکار ہوگا دیہی علاقوں میں ٹرانسپورٹ کی ضرورت پڑے گی اس سے کہیں وہ نہ متاثر ہوجائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں ابھی بھی یہ سمجھتا ہوں کہ اس لاک ڈاؤن سے ہماری تعمیراتی صنعت بری طرح متاثر ہوگی اور یومیہ اجرت والے مزدوروں میں بڑے پیمانے پر بے روزگاری ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ صوبوں نے فیصلے کیے ہیں لیکن کل کی قومی رابطہ کمیٹی میں ہم اپنا جائزہ پیش کریں گے کہ لاک ڈاؤن کے ان فیصلوں کے اثرات غربت کی سطح کے نیچے 25 فیصد عوام پر کس طرح پڑیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں صورتحال کا مسلسل جائزہ لینا ہوگا اور تمام صوبائی حکومتوں کو بیٹھ کر اپنے اقدامات اور معاشرے پر ان کے اثرات کا جائزہ لینا ہوگا، انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کے لاک ڈاؤن کی دنیا میں کوئی مثال نہیں۔

وزیراعظم نے کہا دنیا میں کورونا وائرس اور معیشت کے حوالے سے بحث جاری ہے اور ہمیں بھی مسلسل مشاورت اور دوبارہ جائزہ لینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکہ کورونا مخالف عالمی جنگ میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔ ڈاکٹر محمد جواد ظریف

ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کوئی قدم اٹھانا چاہیے کیوں کہ جو فیصلے خوف میں کیے جاتے ہیں ان کا معاشرے پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ نہیں لیا جاتا اس طرح ہم اپنے لیے ایک دوسری مشکل کھڑی کرلیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں 25 فیصد آبادی غربت کی لکیر کے نیچے ہے اس لیے ہم لاک ڈاؤن کے اثرات کا جائزہ لے کر کل ہونے والے اجلاس میں اپنی تجاویز پیش کریں گے کہ ٹرانسپورٹ کو اگر بند کردیا گیا تو اس کے کافی سخت اثرات ہوسکتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی آخری سطح کرفیو ہے اور ہمیں سوچنا پڑے گا کورونا میں کرفیو کیسے کارآمد ہوسکتا ہے کیوں کہ کرفیو میں ایک وقت دیا جاتا ہے جس میں عوام باہر نکل کر ضرورت کی اشیا حاصل کرتی ہے تو اس صورت میں عوام کا مجمع ہونے کی وجہ سے کورونا سے بچاؤ کا مقصد ہی ختم ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس وجہ سے اگر ہمیں کورونا کے لیے کرفیو لگانا ہے تو ہمیں عوام کے گھروں میں کھانا پہنچانا پڑے گا تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے پاس وہ انفرا اسٹرکچر ہے؟

وزیراعظم نے بتایا کہ میں ایک رضاکارانہ پروگرام کا اعلان کروں گا تا کہ اگر ہمیں اس سطح ہر جانا پڑے تو گھروں میں کھانا پہنچانے کے لیے رضاکار موجود ہوں کیوں کہ ابھی ہمارے پاس کوئی انفرا اسٹرکچر نہیں ہے۔

ساتھ ساتھ اس کے ہمارے معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے اور میں سمجھتا ہوں کہ تعمیراتی صنعت کو جاری رکھنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ بلوچستان نےبھی زائرین کے بجائے دیگر ممالک سے آنے والوں کو خطرہ قرار دے دیا

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ملک میں کرفیو لگانا پڑا تو کم از کم ہمارے پاس اس کی تیاری موجود ہو، انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں بھی ہمارے پاس کوئی ٹھوس حل موجود نہیں ہیں اس کے لیے سب اپنی تجاویز دیں اور ہم ان اقدام سے پیدا ہونے والی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیں۔

وزیراعظم نے کہا کورونا کی جنگ جب پاکستان جیت لے گا اس کا سہرا تمام پاکستانیوں، صوبوں اور تمام طبقوں کو جائے گا لیکن ہمیں غریب طبقے کا سب سے زیادہ دھیان رکھنا ہوگا اور یہ ہی ہمارا سب سے بڑا چیلنج ہے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close