تازہ ترین

سعودی ولیعہد کے صحافی جمال خاشقجی کے قاتلوں سے رابطے

Published in سعودی عرب
Monday, 03 December 2018


امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے انکشاف ہے کہ صحافی جمال خاشقجی کے قتل اور لاش ٹھکانے لگانے تک سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اپنے معاون خصوصی کو مسلسل پیغامات بھیجتے رہے اور سعودی قونصل خانے میں بہیمانہ قتل کے بعد صحافی جمال خاشقجی کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے انہیں ٹھکانے لگانے تک سعودی ولی عہد مسلسل اپنے معاون خصوصی سے رابطے میں تھے اور انہوں نے اپنے موبائل سے معاون خصوصی کو 11 پیغامات بھیجے۔

سی آئی اے کے ایک تفتیش کار کا کہنا ہے کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے یہ پیغامات دراصل صحافی کے قتل اور بعد ازاں لاش ٹھکانے لگانے سے متعلق ہدایات بھی ہوسکتی ہیں اور سعودی ولی عہد نے یہ پیغامات شاہی خاندان کے سابق عدالتی مشیر اور معاون خصوصی سعود القحطانی کو کیے۔ سعود القحطانی اُن 17 افراد میں شامل ہیں جنہیں سعودی حکومت نے صحافی قتل پر تفتیش کی غرض سے سرکاری عہدوں سے ہٹا کر نظر بند کر دیا تھا۔ علاوہ ازیں امریکا نے بھی سعود القحطانی پر سفری پابندی عائد کر رکھی ہے۔

سعودی ولی عہد کے موبائل کا تجزیہ کرنے والے سی آئی اے کے تفتیش کاروں نے یہ بھی کہا ہے کہ اگست 2017ء میں بھی شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے دست راست کو جمال خاشقجی کو لالچ دلا کر سعودی عرب واپس لانے کے لیے انتظامات کرنے کا حکم دیا تھا۔

واضح رہے کہ شاہی خاندان کے ناقد صحافی جمال خاشقجی کو استنبول کے سعودی قونصل خانے میں قتل کرکے لاش غائب کردی گئی ۔

Read 197 times

Leave a comment

شیعہ نسل کشی رپورٹ

Shia Genocide 2016

حلب میں داعش کو شکست

حلب شام میں داعش کو شکست فاش کی لمحہ بہ لمحہ خبریں

اسلام و پاکستان دشمن مفتی نعیم

Mufti Naeem

مقبوضہ کشمیر و فلسطین

مقالہ جات

علی تنہامولود کعبہ

علی تنہامولود کعبہ

شیعیت نیوز: خانہ کعبہ ایک قدیم ترین عبادت گاہ ہے اس کی بنیاد حضرت آدم (ع) نے ڈالی تھی اور اس کی دیواریں حضرت ابراہیم (ع) اور حضرت اسماعیل (ع) نے بلند...

Follow

Facebook

ڈیلی موشن

سوشل میڈیا لنکس

ہم سے رابطہ

ایمیل: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ویبسائٹ http://www.shiitenews.org