تازہ ترین

سعودی جارحیت پر یمنی فوج کا منھ توڑ جواب

Published in یمن
Saturday, 29 December 2018


یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے  سعودی اتحاد کی جارحیت کا جواب دیتے ہوئے یمنی صوبے مآرب کے مغربی شہر صرواح میں بھی سعودی اتحاد کے فوجی ٹھکانوں پر ڈرون حملہ کیا۔

یمن کے صوبہ الجوف میں بھی درجنوں سعودی اتحادی فوجی ہلاک اور زخمی ہو گئے۔

المسیرہ کی رپورٹ کے مطابق یمنی فورسز نے زبردست کارروائی کرتے ہوئے صوبہ الجوف میں درجنوں سعودی اتحادی فوجیوں کو ہلاک اور زخمی کر دیا۔
یمنی فورسز نے اس کامیاب آپریشن میں کئی سعودی فوجی کمانڈروں اور متعدد فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
رپورٹ کے مطابق یمنی فورسز نے سعودی عرب کی جارح فوج کے دو درجن سے زائد فوجیوں کو ہلاک اور زخمی کردیا جن میں بعض فوجی کمانڈر بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ سعودی عرب نے امریکا اور اسرائیل کی حمایت سے اور اتحادی ملکوں کے ساتھ مل کر چھبیس مارچ دو ہزار پندرہ سے یمن پر وحشیانہ جارحیتوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔
اس دوران سعودی حملوں میں دسیوں ہزار یمنی شہری شہید اور زخمی ہوئے جبکہ دسیوں لاکھ یمنی باشندے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔
یمن کا محاصرہ جاری رہنے کی وجہ سے یمنی عوام کو شدید غذائی قلت اور طبی سہولتوں اور دواؤں کے فقدان کا سامنا ہے۔
سعودی عرب نے غریب اسلامی ملک یمن کی بیشتر بنیادی تنصیبات، اسپتال اور حتی مسجدوں کو بھی منہدم کر دیا ہے لیکن اس کے باوجود سعودی عرب یمن پر مسلط کردہ جنگ میں اپنے اہداف تک پہنچنے میں بری طرح ناکام ہو گیا۔
دریں اثنا یمنی فوج کے ترجمان یحیی سریع کا کہنا ہے کہ فائربندی کے نفاذ کے باوجود سعودی اتحاد کے فوجیوں نے گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران چونسٹھ بار فائر بندی کی خلاف ورزی کی۔
انھوں نے صبا نیوز ایجنسی سے گفتگو میں تاکید کے ساتھ اعلان کیا کہ سعودی اتحاد نے صنعا اور صعدہ پر ستائیس بار اور حجہ پر چار بار حملہ کیا۔
یمنی فوج کے ترجمان یحیی سریع کے مطابق یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے سعودی اتحاد کی جاری وحشیانہ جارحیت کے جواب میں منھ توڑ اقدام کرتے ہوئے سعودی اتحاد کے فوجیوں کو شدید نقصان پہنچایا۔
یمنی دھڑوں نے اسٹاک ہوم میں ہونے والے امن مذاکرات کے دوران الحدیدہ میں جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا جس کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مذکورہ قرارداد کے ذریعے توثیق کی تھی۔
امریکہ نے سعودی عرب کی نمائندگی کرتے ہوئے اس قرارداد میں سے ایسی شقوں کو خارج کرا دیا تھا جن میں سعودی عرب کے جنگی جرائم کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
یمنی عوام کے لیے ضروری اشیا کی فراہمی کو یقینی بنانا، اسٹاک ہوم امن سمجھوتے کی حمایت اور جنگ بندی کی نگرانی کا اختیار اقوام متحدہ کو تفویض کرنا، قرارداد چوبیس اکیاون کے اہم ترین نکات ہیں۔
چنانچہ فاغر بندی کے اعلان و نفاذ کے باوجود سعودی اتحاد کی جانب سے مسلسل خلاف ورزی کا سلسلہ جاری ہے جبکہ یمن کی جانب سے فائر بندی پر مکمل طور پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے اور صرف سعودی اتحاد کی جارحیت کا جواب دیا جا رہا ہے۔

Read 161 times Last modified on Monday, 31 December 2018

Leave a comment

شیعہ نسل کشی رپورٹ

Shia Genocide 2016

حلب میں داعش کو شکست

حلب شام میں داعش کو شکست فاش کی لمحہ بہ لمحہ خبریں

اسلام و پاکستان دشمن مفتی نعیم

Mufti Naeem

مقبوضہ کشمیر و فلسطین

فلسطینیوں کے خوف سے اسرائیلی فوجی مغربی پٹی سے بھاگ گئے

فلسطینیوں کے خوف سے اسرائیلی فوجی مغربی پٹی سے بھاگ گئے

مقبوضہ فلسطین میں ایک فلسطینی کی تازہ کارروائی کے بعد اسرائیلی فوجی مغربی پٹی سے بھاگ گئے۔ اسرائیلی ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ ارائیل علاقہ میں ہونے وا...

مقالہ جات

Follow

Facebook

ڈیلی موشن

سوشل میڈیا لنکس

ہم سے رابطہ

ایمیل: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ویبسائٹ http://www.shiitenews.org