اہم ترین خبریںپاکستان

اے مسلمانوں!مظلوم شیعوں کے جنازوں کو کاندھا دینے والوں کی قلت کا معاملہ 1400سال پراناہے

درحقیقت ان رحم دل رکشہ ڈرائیوروں نے یہ جنازہ نہیں دفنایا بلکہ کھاریاں کے ان افراد کی انسانیت دفنائی جنہوں نے جنازہ پڑھنے سے انکار کردیا تھا

شیعت نیوز: زندہ کو تو چھوڑیں ہم میں مرنے والوں کے لیے بھی انسانیت مر گئی ہے۔ ایک بے سہارا جوان کی لاش کو شیعہ قرار دے کر کاندھا دینے سے انکار کردیا گیا۔ آپ لاکھ کتابیں بھر لیں کہ اسلام امن کا دین ہے آپ کروڑ تقاریر کرلیں کہ اسلام بھائی چارے کا مذہب ہے آپ لوگوں کے گھر جاکر دروازہ کھٹکا کر بتاتے رہیں کہ اسلام میں جبر نہیں تعصب نہیں نفرت نہیں ۔۔۔ کوئی بھی آپ کی بات کا یقین نہیں کرے گا جب تک آپ اپنے عمل سے ثابت نہ کردیں یہ سب۔۔۔۔ کھاریاں میں یہ جنازہ بائیس سالہ یتیم جوان کا ہے۔ جو روڈ ایکسڈنٹ میں مارا گیا ماں باپ پہلے وفات پا چکے تھے ۔

یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا پرامام مہدی ؑاور اہل بیت کےخلاف شر انگیزی کا تسلسل سوچی سمجھی سازش ہے،علامہ مقصودڈومکی

اس نوجوان کےلواحقین میں کوئی دفن کرنے والا نہیں تھا ۔۔محلے والوں نے کفن دفن کرنے سے انکار کر دیا کہ یہ شیعہ ہے ۔۔تو دو رکشے والوں کو رحم آیا انھوں نے لڑکے کے جنازے کو دفنایا۔۔۔ درحقیقت ان رحم دل رکشہ ڈرائیوروں نے یہ جنازہ نہیں دفنایا بلکہ کھاریاں کے ان افراد کی انسانیت دفنائی جنہوں نے جنازہ پڑھنے سے انکار کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: شیعہ جوانوں کو لاپتہ کرنا اور اور جو باہر ہیں انہیں شیڈول فورمیں ڈالنا کہاں کا انصاف ہے، علامہ باقرزیدی

سوشل میڈیا پر بھرپور انداز میں گردش کرتیں یہ ایک23-22 سالہ بےسہارا نوجوان کے جنازے کی تصاویر جسے 4 افراد کاندھا دیئے قبرستان کی طرف لیئے جا رہے تھے جبکہ اہلِ محلہ میں اس بات پر بحث رہی کہ مرنے والا شیعہ ہے۔ اصل پوسٹ چیک کی تو اکثر کمنٹ کرنے والوں نے اہلِ علاقہ کے اس عمل پر اظہارِ افسوس کیا ہے جبکہ ایک حضرت کسی "کافر” کے جنازے کو کاندھا نہ دینے والے اہلِ علاقہ کے ایمان کو خراجِ تحسین پیش کرتے پائے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: کالعدم سپاہ صحابہ کا بدنام زمانہ دہشتگرد تاجی کھوکھر پورےکینگ سمیت گرفتار,بھاری اسلحہ برآمد

ہمارے جنازوں پر قلتِ افراد کوئی نئی بات تو نہیں کہ یہ سلسلہ تومدینہ تا کربلا 1400 سال سے جاری ہے جوکہ سب سے پہلے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال اور ان کی تدفین سے شروع ہوا تھا ، جوکہ بعد میں دختر رسول حضرت فاطمہ زہراؑ ،امیر المومنین ؑ ، امام حسن و حسین ؑ سے لیکر آج تک جاری ہے۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ ایسے سنگدل افراد کی پہچان آج بھی مسلمان کے طور پر ہوتی ہے جنہیں انسان کہنے سے انسانیت کی توہین ہوتی ہے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close