یمن

بین الاقوامی دباؤ پر سعودی اتحاد یمنی آئل ٹینکروں کو چھوڑنے پر مجبور

شیعت نیوز : جارح سعودی اتحاد بین الاقوامی دباؤ کے بعد تین یمنی آئل ٹینکروں کو چھوڑنے پر مجبور ہو گیا۔

الحدیدہ میں بحیرہ احمر کی بندرگاہوں کے امور کے سربراہ یحیی عباس شرف الدین نے کہا ہے کہ سیوزیت آئل ٹینکر پر انتیس ہزار ٹن آئل، سی ہاٹ آئل ٹینکر پر ستائیس ہزار ٹن ڈیزل ہے اور حافظ آئل ٹینکر پر چھبیس ہزار ٹن گیس موجود ہے اور یہ ٹینکر آج صبح الحدیدہ بندرگاہ پر پہنچ گئے ہیں۔

شرف الدین نے کہا کہ سعودی اتحاد ایک مہینے سے دس یمنی آئل ٹینکروں کو جیزان بندرگاہ پر روکے ہوئے ہے اور انہیں یمن نہیں جانے دے رہا ہے۔ ان ٹینکروں کے پاس یمن کے بنیادی شعبوں منجملہ اسپتالوں میں ایندھن پہنچانے کے لئے بین الاقوامی لائسنس موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں : یمنی فوج کے پھر سعودی عرب کے اندر وسیع ڈرون حملے

جارح سعودی اتحاد نے ایسے عالم میں یمن کے آئل ٹینکروں کو چھوڑا ہے کہ یمن کی وزارت پٹرولیم نے پیر کو اعلان کیا تھا کہ وہ یمنی عوام کے محاصرے کی بنا پر سعودی اتحاد کے خلاف مقدمہ دائر کرے گا۔

یمن کی وزارت صحت نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر جارح سعودی اتحاد آئل ٹینکروں کو روکے جانے کا سلسلہ جاری رکھا تو اس کے نتیجہ میں انسانی المیہ رقم ہو گا۔

سعودی عرب نے امریکہ، متحدہ عرب امارت اور بعض دوسرے ملکوں کے ساتھ مل کر پچھلے پانچ برس سے مغربی ایشیا کے غریب اور عرب اسلامی ملک یمن کو زمینی، فضائی اور سمندری جارحیت کا نشانہ بنانے کے علاوہ اس کا محاصرہ بھی کر رکھا ہے۔

مارچ دوہزار پندرہ سے جاری سعودی جارحیت اور جنگ کے نتیجے میں دسیوں ہزار بے گناہ یمنی شہری شہید اور زخمی ہوچکے ہیں جبکہ کئی لاکھ لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

جارح سعودی اتحاد اپنے وحشیانہ حملوں اور یمن کا سخت ترین محاصرہ کرنے کے باوجود ابھی تک اپنا کوئی بھی مقصد حاصل نہیں کرسکا ہے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close