پاکستان

حکومت کا چیک اینڈ بیلنس کا نظام ختم،معاشی بحران سنگین ہوچکا ہے، علامہ اقتدار نقوی

تحریک انصاف کی حکومت میں پٹرول 90 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 113 روپے لیٹر ہوگیا جبکہ مٹی کا تیل بھی عوام کی دسترس سے باہر، مٹی کے تیل کی قیمت 96 فی لیٹر تک پہنچ گئی

شیعت نیوز: مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ اقتدار حسین نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان مختلف بحرانوں کی زد میں ہے، موجودہ حکومت میں اتنی صلاحیت نہیں ہے کہ وہ ملک کو درست سمت پر لاسکے، ایک طرف مہنگائی، بیروزگاری، غربت، لاقانونیت میں اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری جانب احتساب کے نام پر قوم کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: غیور عراقی عوام کا حشدالشعبی کے مراکز پر حملوں کے خلاف امریکی سفارتخانے پر حملہ

انہوں نے کہاکہ حکمرانوں نے احتساب کے سارے عمل کو داغدار کر دیا ہے، احتساب کا عمل محض چند لوگوں کے گرد گھوم رہا ہے، حکومت نے 1سال کے دوران پٹرول کی قیمت میں 23 روپے کا ریکارڈ اضافہ کیا، تحریک انصاف کی حکومت میں پٹرول 90 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 113 روپے لیٹر ہوگیا جبکہ مٹی کا تیل بھی عوام کی دسترس سے باہر، مٹی کے تیل کی قیمت 96 فی لیٹر تک پہنچ گئی جبکہ اوگرا کی جانب سے ایل پی جی گیس کی قیمت 130 روپے طے کردہ ہے جبکہ مارکیٹ میں 170 روپے تک فروخت جاری ہے، حکومتی پرائس کنٹرول کمیٹیاں شدید سردی میں ماہانہ کمیشن کے ذریعے اپنی اپنی جیبیں گرم کرکے موج میں ہیں جبکہ غریب عوام لٹنے پر مجبور ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بڑھتی مہنگائی، حکومت نے عوام کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا، علامہ عارف حسین واحدی

علامہ اقتدار حسین نقوی نے کہاکہ حکومت کا چیک اینڈ بیلنس کا نظام ختم ہوچکا ہے۔ وزیراعظم نیب ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے کرپشن پر پردہ ڈال کر دوستوں کو نواز رہے ہیں، معاشی بحران سنگین ہوچکا ہے، حکومت کے پاس معاشی بحران سے نکلنے کی کوئی حکمت عملی نہیں، معیشت کے بہتری کے حوالے سے حکومتی وزراء کے بیانات محض طفل تسلیوں کے سوا کچھ نہیں، عوامی مسائل اور مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جبکہ حکمرانوں کی غیر سنجیدگی عوام کے زخموں پر نمک چھڑک رہی ہے۔ نااہلی اور نالائقی میں موجودہ حکومت سابقہ تمام حکومتوں کو پیچھے چھوڑ چکی ہے، ہر طرف مایوسی کے بادل چھائے ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: آغازِسال نو خدا کی نافرمانی کے بجائے امن وسکون، ترقی وپیشرفت کی دعا کیساتھ ہوناچاہئے،سربراہ ایم ڈبلیوایم

انہوں نے کہا کہ نیب کی اب تک کی کارکردگی چند لوگوں کی گرفتاری کے علاوہ کچھ نہیں، نیب کو اپنی غیر جانبداری ثابت کرنا ہوگی، سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ ججز، بیوروکریٹ، جرنیلوں اور حکومتی صفوں میں موجود کرپٹ عناصر کا بھی احتساب ہونا چاہیئے۔ جب تک سب کا بلاامتیاز احتساب نہیں ہوتا احتساب کے پورے نظام پر انگلیاں اٹھتی رہیں گی۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close