اہم ترین خبریںپاکستان

ایران امریکا تنازعہ ،وزیر اعظم عمران خان امریکی ڈکٹیشن کے تابع نظر آتے ہیں، علامہ اقتدار نقوی

خود انحصاری اور داخلی خودمختاری کا دعوی کرنے والے وزیر اعظم عمران خان امریکی ڈکٹیشن کے تابع نظر آتے ہیں۔

شیعت نیوز: مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ اقتدار حسین نقوی نے کہا ہے کہ ایران امریکا تنازعہ میں پاک فوج کا ردعمل متوازن اور حالات کے عین متقاضی ہے۔پاکستان کی زمین کو ایران کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے کا عسکری اعلان نہ صرف عوامی امنگوں کا عکاس ہے بلکہ خطے کی سالمیت اور استحکام کی ضمانت بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کے خلاف پاکستان کی سرزمین استعمال ہوئی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہونگے، ایم ڈبلیوایم جی بی

انہوں نے کہا کہ ماضی میں پاک افغان جنگ سے ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے۔اسی ہزار افراد امریکہ کی بھڑکائی ہوئی دہشت گردی کی آگ میں جل کر راکھ ہو گئے۔پاکستانی معیشت کو تباہی کے دھانے پر پہنچانے کی ذمہ دار وہ عالمی قوتیں ہیں جن نے پاکستان میں بدامنی پیدا کر کے یہاں بیرون سرمایہ کاری کے راستے مسدود کیے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی سامراج کیخلاف آواز حق بلند کرنے پر علامہ راجہ ناصر عباس کا آفیشل فیس بک پیج بند

انہوں نے کہا کہ امریکہ خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے بھیانک کردار ادا کر رہا ہے۔ایران کے جنرل قاسم سلیمانی پر حملہ امریکی بربریت کی بدترین مثال ہے جس پر پوری دنیا سراپا احتجاج ہے۔ دنیا کے متعدد ممالک ایران کے جنرل کی شہادت کے المناک واقعہ پر دکھ کا اظہار کر چکے ہیں لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان کی جمہوری حکومت اپنے پڑوسی ملک سے تعزیت کرتے ہوئے شش و پنج کا شکار ہے۔خود انحصاری اور داخلی خودمختاری کا دعوی کرنے والے وزیر اعظم عمران خان امریکی ڈکٹیشن کے تابع نظر آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں ہزاروں افراد کا سردار قاسم سلیمانی کی حمایت اور امریکاکے خلاف مارچ

انہوں نے کہا کہ بیرونی مداخلت سے پاک بنانے کا خواب چکنا چور ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔عوام نے تحریک انصاف کی حکومت سے جو امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں وہ ساری سمندر کے جھاگ کی طرح ماند پڑتی جا رہی ہیں۔عمران خان کے اعلانات محض زبانی دعووں تک محدود ہو رہ گئے ہیں۔ جو حکمران اپنی مرضی سے اپنے کسی برادر اسلامی ملک سے اظہار افسوس کرنے کا بھی حق نہیں رکھتا وہ عالمی سطح پر مسلمانوں کی نمائندگی کیسے کر سکتاہے۔ ایران امریکا تنازعہ میں سفارتی و خارجی سطح پر جو کردار حکومت کو ادا کرنا چاہیے تھا وہ ادا نہیں کیا گیا۔یہود و نصاری کی خوشنودی کے لیے مخلص برادر ممالک کی ناراضگی مول لینا غیر دانشمندانہ فعل ہے۔حکومت یہ بات ذہن نشین کر لے کہ بصیرت سے عاری فیصلے مقبولیت کے مینار کو زمین بوس کر دیا کرتے ہیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close