سعودی عرب

ایران اور حزب اللہ مخالف اتحاد بنایا جائے شاہ سلمان کا مطالبہ

سعودی عرب کے شاہ سلمان نے اسلامی جمہوریہ ایران اور اسلامی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور حزب اللہ کے خلاف متحدہ محاذ بنایا جائے۔

تفصیلات کے مطابق، سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز نے اقوام متحدہ میں اپنی تقریر کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ اس کو جوہری ہتھیار کے حصول سے روکنے کے لیے متحدہ محاذ بنایا جائے۔

خبر ایجنسی ‘رائٹرز’ کی رپورٹ کے مطابق شاہ سلمان نے اپنے ویڈیو خطاب میں اسلامی جمہوریہ ایران پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے عالمی طاقتوں کے ساتھ 2015 کے جوہری معاہدے کو اپنی توسیعی سرگرمیوں، دہشت گردی کا نیٹ ورک قائم کرنے اور دہشت گردی کے لیے استعمال کیا۔

شاہ سلمان نے کہا کہ ایران کے خلاف عالمی سطح پر جامع حل اور مضبوط پوزیشن لینے کی ضرورت ہے۔

سلمان کا کہنا تھا کہ جوہری معاہدے سے صرف افراتفری، انتہا پسندی اور نفرت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا!!!

شاہ سلمان نے لبنانی اسلامی مزاحمتی تحریک کے خلاف بھی ہرزہ سرائی کی اور کہا ہے لبنان میں فیصلہ سازی کے عمل میں حزب اللہ کی من مانیوں کے باعث گزشتہ ماہ بیروت میں خوفناک دھماکا ہوا۔

شاہ سلمان نے اقوام متحدہ سے حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے غیر غیرمسلح کرنے کا مطالبہ کیا۔

بن سلمان نے دعویٰ کیا کہ ایران سے تعلقات بہتر کرنے کے لیے ہرممکن کوشش کی لیکن ایران نے توسیع پسندانہ پالیسیاں جاری رکھیں۔

شاہ سلمان نے اسلامی جمہوریہ ایران پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ایران نے گزشتہ سال سعودی تیل تنصیبات پر میزائل حملےکیے، ایران پراکسی کے ذریعے، 300 بیلسٹک میزائل اور 400 مسلح ڈرونز فائر کر چکا ہے۔

خیال رہے کہ یمنی فوج کے سامنے بے بس آل سعود اب یمنی میزائل اور ڈرون کو ایرانی قرار دے کر اپنی ذلت آمیزشکست چھپانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔

دوسری طرف اقوام متحدہ کے لیے ایرانی مشن کے ترجمان علی رضا میریوسفی نے ان الزامات کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دے کر مسترد کردیا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی حکمران کے غیر ضروری اور غیر تعمیری بیان کا مقصد خطے میں مستقل تقسیم اور ہتھیاروں کی فروخت کرنا ہے’۔

خیال رہے کہ سعودی حکام امریکا اور اسرائیل کے اشاروں پر رقص کرتے نظر آرہے ہیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close