اہم ترین خبریںایرانشیعت نیوز اسپیشلمقالہ جات

ایران میں احتجاج سے متعلق چند نکات

ایران میں احتجاج سے متعلق چند نکات

تحریر : غلام حسین شیعت نیوز اسپیشل

جمعرات 23آبان 1398 ہجری شمسی یعنی 14نومبر 2019ع کو ایران کی سرکاری قومی کمپنی برائے تقسیم تیل نے ایک بیان جاری کیا۔ رات گئے جاری کردہ بیان ریگولر گیسولین (یعنی پٹرول) کی امدادی قیمتوں میں ردوبدل سے متعلق تھا۔ پاکستانی اسے اوگراکا ایرانی مترادف سمجھ سکتے ہیں مگر یہ اوگرا کی طرح جلدی جلدی قیمتوں کا تعین نہیں کرتا۔

 

ایران میں احتجاج سے متعلق چند نکات

متعلقہ سرکاری ایرانی ادارے کے مطابق ماہانہ 60لٹر تیل یعنی 2لیٹر تیل روزانہ تیل امدادی قیمت پرفروخت کیا جاتا تھا۔ اس کوٹہ کے تحت ملنے والے تیل کی فی لٹر قیمت دس ہزار ریال (یعنی ایک ہزار تومان) سے بڑھاکر پندرہ ہزار ریال (یعنی ڈیڑھ ہزار تومان) کردی گئی ہے۔ جبکہ اس کوٹہ کے علاوہ دی لیٹر تیل تیس ہزار ریال یعنی تین ہزار تومان میں دستیاب ہوگا۔

حالیہ واقعات کا پس منظر

ایران پر بدترین بین الاقوامی اقتصادی پابندیوں کے بعد مذکورہ امدادی قیمت مقرر کی گئی تھی۔تب محمود احمدی نژاد ایران کے صدر ہوا کرتے تھے۔ سال 2010ع سے یہ پالیسی چلی آرہی تھی۔ مقصد یہ تھا کہ ایرانیوں پر پابندیوں کے مہلک اثرات کو کم سے کم کیا جاسکے۔ اور ساتھ ہی انہیں ایندھن کی فضول خرچی سے بھی باز رکھا جاسکے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ایرانیوں کو نقد ماہانہ امدادی رقم بھی مقرر کردی تھی۔ تب سے یہ سلسلہ چلا آرہا ہے۔

ایران میں پٹرول کی قیمت

ایران سے باہر بیٹھے لوگوں کی آسانی کے لئے بیان کردیا جائے کہ فی گاڑی 60لٹر تیل کا ماہانہ کوٹہ مقرر ہے۔اس کوٹہ کے تحت فی لٹر تیل کی قیمت اب 12.7امریکی سینٹ ہوچکی ہے۔ اگر ایک ڈالر کی قیمت ایک سو چھپن روپے اعشاریہ صفر چھ ہے تو 12.7امریکی سینٹ پاکستانی بارہ روپے انتیس پیسوں سے زیادہ نہیں بنتے۔ اس لحاظ سے 60 لٹر کے ماہانہ کوٹہ کے علاوہ ایرانیوں کے لئے فی لٹر تیل کی قیمت دگنی ہوگی۔ یعنی ایرانی تیل کی عام قیمت اب پاکستانی چوبیس روپے ستاون پیسے ہوگئی ہے۔

ایرانی حکومت کی پالیسی

ایک طرف یہ فیصلہ ہوا تو دوسری طرف ایرانی حکومت نے معاشرے کے محروم طبقے کے لئے ماہانہ امدادی رقوم کی پالیسی کو بھی اپ ڈیٹ کیا۔ یہ پالیسی بھی محمود احمدی نژاد کی حکومت سے نافذ العمل تھی۔ 6کروڑ ایرانی شہریوں کو ماہانہ امدادی رقم ادا کی جارہی ہیں۔ یہ رقوم کم ہی سہی، مگر پابندی کا شکار انقلابی قوم اور ریاست کے تعلقات کی نوعیت اور ریاست کی شہریوں سے متعلق نیک نیتی کا ایک ناقابل تردید ثبوت ضرورہے۔

ایران میں احتجاج ہائی جیک کرلیا گیا

اس پر ایران میں عوامی رد عمل سامنے آیا۔ پر امن احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہوا۔ ایرانی ذرایع ابلاغ نے اسکی کوریج کی ہے۔ سرکاری اداروں نے اس پر رپورٹس دیں۔ پورے ملک میں مظاہرین کی تعداد ساڑھے ستاسی ہزار سے کچھ کم رہی۔ ان میں خواتین کی تعداد پانچ ہزار دو سو نوٹ کی گئی۔ البتہ مجموعی طور پر ان کی غالب اکثریت پرامن تھی۔

مگر دیکھتے ہی دیکھتے شرپسندوں نے احتجاج کو ہائی جیک کرلیا۔ انہوں نے ایک سو سے زائد بینکوں اور دکانوں کو نذر آتش بھی کیا اور لوٹا بھی۔ مظاہرین کی اکثریت خاموش تماشائی رہی۔ دسری جانب سرکاری مشنری حرکت میں آئی۔ تشدد اور لوٹ مار میں ملوث سرکردہ افراد گرفتار کئے جاچکے ہیں۔ کل ملا کر ایک ہزار مشتبہ افراد کو پوچھ گچھ کے لئے تحویل میں لیا گیا تھا۔

ایران کی پالیسی دنیا کے لئے سبق

دیکھا جائے تو ایران کے اس تازہ ترین احتجاج اور ریاستی اداروں کے ردعمل میں دنیا کے دیگر ممالک کے لئے کئی سبق پوشیدہ ہیں۔ایرانی ریاست اقتصادی بدحالی سے متاثرہ 6کروڑ افراد کو امدادی رقم ماہانہ دے رہی ہے۔ پٹرول کی فضول خرچی روک رہی ہے۔ بدترین اقتصادی پابندیوں کے باوجود پٹرول کی قیمتوں میں اتنا اضافہ بہرحال نہیں کیا کہ ایران کو پاکستان بنادیا ہو۔ حالانکہ پاکستان کو ایران جیسی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑرہا۔

امریکا اورسعودی عرب کے گماشتے

اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایرانی ریاست نے پورا ملک غدار قرارنہیں دے دیا۔ حالانکہ امریکی مغربی بلاک اور اسکی عرب اتحادی حکومتیں کھل کر ایران کے ریاستی نظام کی تبدیلی کے لئے کوشاں ہیں۔ ایران کے خلاف امریکا نے ایکٹیوسٹ خواتین و حضرات کی ایک فوج الگ سے تیار کررکھی ہے۔

سعودی ذرایع ابلاغ ایران کے حالیہ واقعات کو جس طرح پیش کررہے ہیں، وہ بھی سب کے سامنے ہے۔مگر سعودی بادشاہت پہلے عوام کی رائے کا احترام کرنا تو سیکھ لے۔ جناب یہ ایران ہے، سعودی عرب نہیں ہے۔ دنیا کو معلوم ہے کہ جمال خاشقچی جیسے سلفی سعودی کے ساتھ سعودی حکمرانوں نے کیا کیا۔حالانکہ خاشقچی نے نہ سعودی بینک لوٹا تھا نہ کوئی دکان جلائی تھی!

 

تحریر : غلام حسین شیعت نیوز اسپیشل

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close