اہم ترین خبریںایران

ایران طاقتور اور خودمختار عراق کا خواہاں ہے، رہبر معظم سید علی خامنہ ای

شیعیت نیوز : رہبر مسلمین جہاں آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے عراقی وزیراعظم مصطفی الکاظمی کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا کہ ایران، معزز، طاقتور، جغرافیائی و اندرونی اتحاد کے حوالے سے سالم اور خودمختار عراق کا خواہاں ہے۔

رہبر معظم نے کہا کہ ایران عراق باہمی تعلقات کو تاریخ، مذہب، تمدن اور آداب و رسوم کے اعتبار سے انتہائی مشترک قرار دیتے ہوئے تاکید کی ہے کہ ایران عراق دوطرفہ تعلقات میں جو چیز ایران کے لئے انتہائی اہم ہے وہ عراق کا مفاد، مصلحت، سالمیت، عزت، علاقائی خودمختاری اور اندرونی صورتحال میں بہتری ہے۔

آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ایران نے کبھی عراق کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کی اور نہ ہی کبھی کرے گا کہا کہ ایران، معزز، طاقتور، خودمختار اور جغرافیائی و اندرونی اتحاد کے حوالے سے سالم عراق کا خواہاں ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں عراقی وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی ایک اعلی سطحی وفد کے ہمراہ تہران پہنچ گئے

رہبرمعظم نے کہا کہ ایران ہر اس چیز کا مخالف ہے جو عراقی حکومت کی کمزوری کا باعث بنے تاہم عراق کے حوالے سے امریکی نظر ہماری نظر کے بالکل برعکس ہے کیونکہ امریکہ حقیقی طور پر دشمن ہے اور خودمختار، طاقتور اور عوامی اکثریت کے حامل عراق کا سرے سے مخالف ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکیوں کے لئے یہ بالکل اہم نہیں کون عراق کا وزیراعظم ہو۔ انہوں نے کہا کہ امریکی عراق کے اندر صدام کے بعد تشکیل پانے والی "پال بریمر” (Paul Bremer) طرز کی حکومت کی تلاش میںہیں۔

آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے عراقی وزیر اعظم کے ساتھ اپنی ملاقات کے دوران تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ایران، عراق امریکہ تعلقات میں مداخلت نہیں کرتا لیکن ایران کو یہ توقع ضرور ہے کہ عراقی دوست، امریکہ کو پہچان لیں اور جان لیں کہ کسی بھی ملک میں امریکی موجودگی صرف اور صرف کرپشن، تخریب کاری اور ویرانی کا سبب بنی ہے۔

انہوںنے اپنی گفتگو کے دوران کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو توقع ہے کہ عراقی حکومت، قوم اور قومی اسمبلی امریکیوں کو نکال باہر کرنے کے لئے مکمل فالواپ انجام دیں گے کیونکہ (عراق میں) ان (امریکیوں) کی موجودگی ناامنی کا سبب ہے۔ انہوں نے سپاہ قدس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی اور حشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر ابومہدی المہندس کی ٹارگٹ کلنگ کو (عراق میں) امریکی موجودگی کے نتیجے میں سرزد ہونے والے امریکی جرائم کا ایک نمونہ قرار دیا اور عراقی وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نہ صرف آپ کے گھر کے اندر آپ کے مہمانوں کو قتل کیا ہے بلکہ اس جرم کا علی الاعلان اعتراف بھی کیا ہے جو کوئی چھوٹی بات نہیں۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس موضوع کو کبھی نہیں بھولے گا اور ضرور بالضرور جوابی حملہ کرے گا۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اس ملاقات کے دوران عراقی وزیراعظم مصطفی الکاظمی کے انتخاب کے لئے عراق کے سیاسی و عوامی دھڑوں کے اتفاق نظر کو ایک پسندیدہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی اور ان کے پٹھو ہمیشہ خطے کے ممالک کے اندر موجود طاقت کے خلاء کی تلاش میں رہتے ہیں تاکہ اس رَستے سے افراتفری پھیلا کر اپنی مداخلت کا زمینہ فراہم کریں؛ بالکل وہی کام جو انہوں نے یمن کے اندر انجام دیا ہے اور اب یمن کے افسوسناک حالات کا سب ہی مشاہدہ کر رہے ہیں۔

آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے ایران کی جانب سے مصطفی الکاظمی کی حکومت کی مکمل حمایت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عقل، دین اور تجربہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ایران عراق تعلقات ہر میدان میں زیادہ سے زیادہ ترقی کریں تاہم ایران عراق تعلقات کے بہت سے مخالف بھی موجود ہیں جن میں سرفہرست امریکہ ہے البتہ کسی بھی اعتبار سے امریکہ سے نہ ڈریئے کیونکہ وہ کسی قسم کی غلطی کرنے کے قابل نہیں۔ رہبر معظم نے کہا کہ امریکی صرف زحمت اور پریشانی ہی بناتے ہیں لیکن عراقی حکومت کو ان پریشانیوں کی اعتناء کئے بغیر پوری طاقت کے ساتھ اپنے رَستے پر گامزن رہنا چاہئے اور عوام کو اپنے پشت پناہ کے طور پر محفوظ رکھنا چاہئے۔

رہبر معظم نے اپنی گفتگو کے آخر میں عراقی اعلی دینی مرجعیت اور آیت اللہ سید علی سیستانی کے وجود کو عراق کے لئے اللہ تعالی ایک بہت بڑی نعمت قرار دیا۔ انہوں نے مزید تاکید کرتے ہوئے کہا کہ حشد الشعبی عراق کے اندر اللہ تعالی ایک اور بڑی نعمت ہے جس کی حفاظت کی جانی چاہئے۔

عراقی وزیراعظم مصطفی الکاظمی نے اس ملاقات کے دوران رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے ساتھ اپنی ملاقات کو ایک عظیم سعادت قرار دیا اور مختلف مواقع، خصوصا داعش و تکفیری دہشتگردی کے خلاف عراق کو حاصل ایرانی حمایت پر رہبر انقلاب اسلامی ایران کا شکریہ ادا کیا۔

مصطفی الکاظمی نے آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے ساتھ اپنی ملاقات میں کہا کہ عراقی عوام، ایرانی حمایت کو کبھی نہیں بھولیں گے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تکفیریوں کے ساتھ جنگ کے دوران عراقیوں و ایرانیوں کا (بہایا گیا) خون باہم مل چکا ہے۔

عراقی وزیر اعظم نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ایران و عراق کے درمیان استوار تعلقات، گہرے، قدیمی، تاریخی، تمدنی اور مذہبی ہیں جن کی بنیاد اہلبیت علیہم السلام کے ساتھ عشق و محبت پر استوار ہے۔ عراقی وزیراعظم مصطفی الکاظمی نے رہبر معظم انقلاب اسلامی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جنابعالی کے گرانقدر ارشادات و نصائح تمام مشکلات کے حل کی چابی ہیں اور میں اس رہنمائی پر تہہ دل سے جنابعالی کا شکرگزار ہوں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close