مشرق وسطی

ایران کاترک افواج سے شامی اور ترک عوام کے مفادات کیلئے حکمت و سمجھداری سے کام لینے کا مطالبہ

ہماری افواج کے دفاعی مؤقف کے باوجود، ترک فوج نے شدید گولہ باری اور میزائلز کے ذریعے ہماری افواج اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ جس نے ہمیں ترک فوج کی جانب ثالث بھیجنے کا اشارہ دیا تاکہ ان حملوں اور جارحیت کو روکا جاسکے۔

شیعت نیوز: شام میں ایرانی مشاورتی مرکز جو شمالی شام کی صورتحال سے واقف ہےنے یونیوز نیوز ایجنسی کو بتایاکہ شامی عرب فوج اور ترک افواج کے مابین کچھ دن پہلے کے تصادم کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے ہم عوام کو درج ذیل کے نقاط سے آگاہ کرنا مناسب سمجھتے ہیں۔

1 : شامی ریاست کی M5 روڈ کھولنے کی درخواست پر ہم نے شامی عرب فوج کی حمایت کی۔ اور شامی عرب فوج کی شراکت میں ایرانی پاسداران انقلاب ، حزب اللہ کے عناصر کے زیر انتظام ایک شامی فورس اور شام کے اندر مزاحمتی گروہوں نے حلب کے شہریوں اور آزاد ہونے والے دیہاتوں کی عوام کو ان کی آزادی کے بعد خدمات فراہم کیں۔

2 : جب مسلح افراد نے ترک فوج کی حمایت اور مدد سے شامی فوج کے مرکزی نکات پر حملہ کیا تو ہم نے M5 روڈ کو دوبارہ دہشت گردوں کے ہاتھوں قبضہ ہونے سے بچایا اور اس کی حفاظت کی۔

یہ بھی پڑھیں: شامی فوج کی جوابی کارروائی میں ترکی کے چار ڈرون طیاروں کو مار گرایا

3 : شامی علاقوں میں ہماری افواج کی موجودگی کے آغاز سے ہی ترک افواج کی سائٹس ہماری افواج کے علاقوں کے اندر موجود ہیں جب کہ آستانہ کے معاہدہ کی وجہ سے یا اس کے علاوہ کشیدگی نہ چاہنے کے سبب ہماری افواج نے اپنی قیادت اور کمانڈرز کے احکام پر عمل کرتے ہوئے انہیں آج تک کوئی نقصان نہیں پہنچایا، اور ابھی تک یہی فیصلہ نافذ العمل ہے۔

4 : چار روز قبل تاجک ، ترکستان پارٹی کے غیر ملکی عناصر ، النصرہ فرنٹ کے عناصر اور دہشت گرد دھڑوں نے شامی فوج کے حراستی مقامات پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا لہذا ہماری افواج نے آزاد علاقوں کو دوبارہ دہشت گردوں کے ہاتھوں قبضہ ہونے سے روکنے کے لئے شامی فوج کی مدد کی۔

5 : ہماری افواج کے دفاعی مؤقف کے باوجود، ترک فوج نے شدید گولہ باری اور میزائلز کے ذریعے ہماری افواج اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ جس نے ہمیں ترک فوج کی جانب ثالث بھیجنے کا اشارہ دیا تاکہ ان حملوں اور جارحیت کو روکا جاسکے۔

6 : ترک فوج کی جانب بھیجے گئے ثالث نے انہیں آگاہ کیا کہ دہشت گردوں نے آپ کی مدد سے ہماری افواج پر حملہ کیا جب کہ ہماری فورسز دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ہیں اور ہم اسی مشن کے لئے ہی شامی فوج کے ساتھ ہیں۔لیکن بدقسمتی سے ترک فوج نے اس درخواست کو خاطر میں نہیں لیا اور بمباری جاری رکھی جس سے متعدد مجاہدین شہید ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں: عراق کے صوبے صلاح الدین میں امریکہ کے فوجی اڈے پر میزائلی حملہ

7 : شامی فوج کے توپ خانے نے نیران کے علاقہ میں بمباری کرکے ترک فوج کی جارحیت کا جواب دیا۔ مگر ہم نے براہ راست ردعمل ظاہر نہیں کیا اور ایک بار پھر ہم نے ثالث کے ذریعے ترک فوج کو آگاہ کیا کہ ترک فوج کا مقابلہ کرنے کا ہمارا کوئی مقصد نہیں ہے بلکہ ہماری قیادت ہماری شام اور ترکی کے درمیان سیاسی حل کے حصول کے لئے پرعزم ہے۔

8 : ہم نے صبح سے اپنی افواج کو آگاہ کیا ہے کہ وہ تمام فوجیوں کی جانوں کے تحفظ کی خاطر ادلب کے اندر ترک افواج کو نشانہ نہ بنائیں جس کے بعد ہماری افواج نے کوئی فائر نہیں کیا۔ لیکن ترک فوج ابھی تک شامی فوج کے ٹھکانوں پر توپ خانے سے گولہ باری کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی اتھارٹی اور تحریک فتح کا امریکہ سے مذاکرات نہ کرنے کا اعلان

9 : ایرانی مشاورتی مرکز اور مزاحمتی محاذ کے مجاہدین نے ترک افواج سے شامی اور ترک عوام کے مفادات کے لئے افہام وتفہیم سے کام لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے، ترک عوام کو یاد دلایا کہ ان کے ترک بیٹوں ( جو کہ ایک ماہ سے ہماری ہی افواج کی حدود میں موجود ہیں) نے ہماری افواج کو گولہ باری کا نشانہ بنایا ہوا ہے اگرچہ ہم انتقامی کاروائی کر سکتے ہیں لیکن ہم اپنی قیادت کے فیصلوں کی وجہ سے ایسا کچھ نہیں کریں گے۔ مگر آپ کو دعوت بھی دیتے ہیں کہ آپ اپنی قیادت پر دباؤ ڈالیں کی اپنے فیصلوں کو درست کریں اور ترک فوجیوں کا خون بہنے سے بچائیں۔

10 : موجودہ مشکل حالات کے باوجود ہم دہشت گردی کو شکست دینے اور شام کے تمام علاقوں کی مکمل خودمختاری کے تحفظ کے لئے ہمیشہ شامی عوام، ریاست اور فوج کے ساتھ کھڑے ہونے کی توثیق کرتے ہیں۔اور ہم سب کو شام کے خلاف جارحیت جاری رکھنے کے عظیم خطرات سے آگاہ ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close