اہم ترین خبریںشیعت نیوز اسپیشلعراقلبنانمقالہ جات

عراق اورلبنان کے بحران کا ذمے دار کون؟؟

عراق اورلبنان کے بحران کا ذمے دار کون؟؟

یوں تو دنیا کے کئی ممالک میں عوام سڑکوں پر جمع ہوئے۔ آسٹریلیا، بولیویا، ایکواڈور، چلی، گینیا، الجزائر سمیت دیگر ممالک بھی احتجاج کی لپیٹ میں تھے۔ ہانگ کانگ شہر میں تو بہت پہلے سے چینی حکومت کے خلاف احتجاج ہورہا تھا۔

لیکن بین الاقوامی ذرایع ابلاغ نے اور سوشل میڈیا نے عراق اور لبنان کے احتجاج کو زیادہ نمایاں کیا۔ لہٰذا ہم بھی اس تحریر میں صرف ان دو ملکوں میں ہونے والے احتجاج کا جائزہ لیں گے۔

عراق اورلبنان کے بحران کا ذمے دار

بحران کا پس منظر

عراق اور لبنان دونوں عرب ملک ہیں۔ پہلی جنگ عظیم کے وقت برطانیہ اور فرانس دو بڑی سامراجی طاقتیں تھیں۔ موجودہ بھارت اور پاکستان سے لے کر مصر اور سوڈان تک برطانیہ سامراج کا قبضہ تھا۔ بر اعظم افریقہ میں بعض ممالک پر فرانس نے قبضہ کررکھا تھا۔ ان دونوں نے جرمنی اور ترکی کے خلاف پہلی جنگ عظیم لڑی تھی۔ برطانیہ اور فرانس سامراج نے اس جنگ میں کئی خفیہ منصوبوں پر اتفاق کررکھا تھا۔ اور ان منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے خفیہ سائیکس پیکو معاہدہ کیا تھا۔ اس خفیہ منصوبے کا تیسرا فریق سوویت یونین یعنی موجودہ روس تھا۔

سائیکس پیکو معاہدہ

جب کبھی لبنان، عراق یا شام میں کوئی بحران ایجاد ہوتا ہے، خواہ وہ عربوں سے متعلق ہو یا کردوں سے، اس کی ایک جڑ سائیکس پیکو معاہدہ ہے۔ دور کیوں جائیں، ہانگ کانگ اور کشمیر کے تنازعات بھی برطانیہ سامراج سے اس خطے کو ورثے میں ملے ہیں۔یاد رہے کہ ایران اور عراق کے تیل کے ذخائر پر برطانیہ کا کنٹرول ہوا کرتا تھا۔ بعد میں جو ایران میں منتخب وزیر اعظم محمد مصدق کے خلاف بغاوت کروائی گئی وہ بھی برطانیہ اور امریکا کا مشترکہ منصوبہ تھا۔ اور اسکا سبب بھی تیل کی کمپنی کو ایرانی حکومت کے کنٹرول میں لینے کا فیصلہ تھا۔

یوں تو امریکا پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں برطانوی بلاک کا ہی حصہ تھا۔ مگر، نہر سوئز کے بحران کے بعد بین الاقوامی صف بندی میں برطانوی بلاک کی قیادت تبدیل ہوگئی۔ جمال عبدالناصر کے مصر نے نہر سوئز کے ایشو پرلڑائی میں برطانیہ، فرانس اور اسرائیل کو شکست دی۔ اور اس طرح برطانوی بلاک کا قائد تبدیل ہوگیا۔امریکا نے قیادت سنبھال لی۔ اس لئے یہ بلاک امریکی بلاک کہلانے لگا۔ البتہ برطانیہ امریکا کا جونیئر پارٹنر بن کر اس کا مددگار بنا رہا۔ اور اب تک یہی صورتحال ہے۔

اسرائیل کا تحفظ

مشرق وسطیٰ کے لئے امریکی بلاک کی ایک لگی بندھی پالیسی ہے۔یعنی اسرائیل کا تحفظ۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی پالیسی نہیں کہ جسے سمجھا نہ جاسکے۔ امریکی بلاک نے علی الاعلان اس پالیسی کو نافذ کررکھا ہے۔

عرب خواہ مسلمان ہوں یا مسیحی، انہوں نے شروع سے فلسطین میں اسرائیل کے قیام کو قبول نہیں کیا۔ وہ اسے ناجائز اور جعلی ریاست کہتے ہیں۔ لبنان اور عراق دونوں کا بھی یہی موقف ہے۔ عرب ممالک نے اسرائیل سے جنگیں لڑیں۔ اسرائیل نے1978ع میں لبنان کے اندر گھس کر جنگ لڑی۔ 1982ع میں بھی اسرائیل لبنان کے اندر گھسا۔ اور آج بھی لبنان کے بعض علاقوں پر قبضہ کررکھا ہے۔

لبنانی کی سمندری حدود میں تیل اور گیس کے ذخائر پر اسرائیل نے قبضہ کررکھا ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ عرب اسرائیل تنازعہ 1948ع سے چلا آرہا ہے۔

ؓلبنان کے مسائل کی تاریخ

ٍٍ یہ اس صورتحال کا وہ پہلو ہے جس کا براہ راست تعلق عالمی سیاست کی بڑی طاقتوں سے ہے۔ یعنی اس ملک کی داخلی سیاست میں غیر ملکی مداخلت اور اس مداخلت کا سبب۔ امریکی بلاک کا کردار لبنان کی داخلی سیاست میں نمایاں رہا۔ لبنان کے کنفیشنل سیاسی نظام کا ذمے دار فرانس سامراج تھا اور اس کوبعد میں سعودی بادشاہ کے ذریعے اپ ڈیٹ کیا گیا۔

اس نظام کے تحت شروع سے لبنانی سیاست میں فرانس، برطانیہ، امریکا اور سعودی عرب کا کردار نمایاں رہا ہے۔ لبنان میں طویل خانہ جنگی رہی۔ اس میں اسرائیل کے پراکسیز نے جنوبی لبنان میں اپنی علیحدہ فوج بناکر اپنے ہم وطن لبنانیوں کا قتل عام بھی کیا تو فلسطینی پناہ گزینوں اور لبنانی گروہوں کے مابین تصادم بھی ہوتا رہا۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ ایرانی انقلاب سے پہلے کے واقعات ہیں۔

یہ جملہ لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ امریکی بلاک کا پورا زور اس بات پر ہے کہ مشرق وسطیٰ کے ہر پھڈے کا ذمے دار ایران ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ مشرق وسطیٰ کے ہر پھڈے کے پیچھے امریکی بلاک کی مشرق وسطیٰ پالیسی ہے جس کا ہدف ہر قیمت پر اسرائیل کا تحفظ ہے۔

عرب و مسلمان ممالک کو کمزور رکھنا

عرب اور مسلمان ممالک کو کمزور رکھنا، عدم استحکام سے دوچار رکھنا، اس کے پیچھے یہی مائنڈ سیٹ ہے۔ اب لبنان کی ریاست کا قصور کیا ہے؟ صرف ایک قصور ہے کہ وہ اسرائیل کو دشمن نمبر ایک قرار دیتی ہے۔ حالانکہ لبنانی ریاست میں امریکی بلاک کے لاڈلوں کی اچھی خاصی تعداد ہے مگر عرب عوام اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اسی لیے یہ لاڈلے بھی ڈرتے ہیں۔

حزب اللہ کو ہدف بنانا

لبنان کی ریاست اور سیاست میں حزب اللہ ایک اسٹیک ہولڈر ہے۔ منتخب پارلیمانی سیاسی جماعت ہے۔ حکمران اتحاد میں شامل ہے۔ اسکے وزراء ہیں۔ البتہ لبنان میں حزب اللہ کی اپنی حکومت کبھی نہیں رہی۔ مخلوط حکومتوں میں اسکے بعض نامزد افراد وزیر ضرور بنتے رہے ہیں۔

مگر، امریکی بلاک حزب اللہ پر پابندی لگاکر لبنان پر دباؤ ڈالتا آرہا ہے کہ حزب اللہ کو ختم کردو۔ اور اسکا سبب ایک ہی ہے یعنی امریکی بلاک کی پالیسی برائے مشرق وسطیٰ۔ جس کے تحت امریکی بلاک ہر قیمت پر اسرائیل کا تحفظ چاہتا ہے۔

شیعیت نیوز اسپیشل عین علی

بقیہ اگلی قسط میں

 

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close