اہم ترین خبریںشیعت نیوز اسپیشلعراقلبنانمقالہ جات

عراق اور لبنان کے بحران کا ذمے دار کون؟ آخری قسط

عراق اور لبنان کے بحران کا ذمے دار کون؟ آخری قسط

ہم پچھلی قسط میں لبنان کے حوالے سے حقائق بیان کرچکے ہیں۔ اب لبنان کے ساتھ ساتھ عراق کے مسائل پر بھی بات ہو جائے۔ اسرائیل نواز امریکی بلاک تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پرانی پالیسی کو دہرا رہا ہے۔ لیکن حکومتوں کی تبدیلی سے کچھ تبدیل ہونے والا نہیں۔
لبنان میں کنفیشنل سیاسی نظام کی وجہ سے کوئی ایسا نتیجہ نہیں آنا جو جوہری تبدیلی کہلائے۔ لبنان کی موجودہ شخصیات میں سے کسی ایک مارونی مسیحی نے صدر بننا ہے۔ ایک سنی عرب نے وزیر اعظم اور ایک شیعہ عرب نے اسپیکر قومی اسمبلی بننا ہے۔

وزراء کی تقسیم کا بھی ایک مخصوص فارمولا طے ہے۔ ٹیکنوکریٹس لے آئیں یا کوئی بھی نیا فارمولا۔ مخصوص سیاسی نظام میں اسٹیٹس کو نے برقرار رہنا ہے۔

جہاں تک عراق کا تعلق ہے، صدر کسی عراقی کرد نے بننا ہے اور نائب صدور سنی و شیعہ عرب نے۔وزیر اعظم شیعہ عرب، نائب وزرائے اعظم کرد اور سنی عرب، قومی اسمبلی کا اسپیکر سنی عرب۔وزراء کو بھی انہی بنیادوں پر چنا جائے گا۔ امریکا کی مسلط کردہ جنگ کے بعد سے حالات کا جائزہ لیں۔امریکا کسی بھی عراقی وزیر اعظم سے خوش نہیں رہا۔

عراق اور لبنان

دونوں ممالک میں مسائل امریکی بلاک نے ایجاد کئے ہیں۔ اسکی مداخلت ختم ہوجائے تو بہت سے مسائل کا فوری حل ممکن ہے۔ جیسا کہ امریکی بلاک کی اعلانیہ پالیسی برائے مشرق وسطیٰ کا ہدف اسرائیل کا تحفظ ہے۔ تو لبنان کیسے یہ شرط مان لے جبکہ اسرائیل اسکا دشمن نمبر ایک ہے، اس پر قابض ہے۔

اس پر حملہ آورہے۔ عراق کے ریاستی حکام پربھی امریکی بلاک کا دباؤ ہے کہ کسی صورت ایران کے ساتھ تعلقات نہ رکھیں۔ مسئلہ ہے ہی یہ کہ عراق اور لبنان کو حکم دیا جارہا ہے کہ امریکی بلاک کی پالیسی برائے مشرق وسطیٰ کو یہ دونوں عرب ملک بلا چون و چرا تسلیم کرلیں۔

عبرتناک مثالیں

حالانکہ دونوں ملکوں کے حکام جانتے ہیں کہ ترکی نیٹو اتحاد کا رکن ملک ہے۔ اسرائیل کو تسلیم بھی کرتا ہے، پھر بھی یورپی یونین کی مکمل رکنیت نہیں ملی۔پاکستان سات عشروں سے امریکی بلاک کے لئے خدمات انجام دیتا رہا ہے۔

سوویت یونین کے خلاف بڈابیر اڈہ امریکی مفاد کے لئے دے دینا، افغانستان کی پراکسی جنگ میں بھرپور شرکت کرنا، نائن الیون کے بعد امریکا کا ایک اور مرتبہ نان نیٹو اتحادی بن جانا۔ یہ سب کچھ کرلینے کے بعد بھی پاکستان قرضوں کی دلدل میں ہاتھ پیر ماررہا ہے۔

عدم استحکام پھیلانے میں امریکا کا ہاتھ

دونوں ہی میں عدم استحکام پھیلانے میں امریکا کا ہاتھ ہے۔ القاعدہ کے عنوان سے تکفیری دہشت گردی ایجاد کرنے میں امریکی مغربی سعودی اتحاد ملوث تھا۔ یہ بات سابق برطانوی وزیر خارجہ رابن کک نے آن ریکارڈ کہی۔ جبکہ امریکی بلاک نے
داعش ور دیگر ناموں سے گروہوں کو تربیت دی۔ لبنان اور عراق کے ساتھ ساتھ شام کو بھی ہدف بنایا گیا۔

حتی کہ مالی کرپشن پھیلانے والے بدعنوان حکام بھی امریکی بلاک کے تابعدار ہی ہیں۔ مگر، انکے خلاف کارروائی نہیں ہورہی۔ اگر انکے خلاف کارروائی کی کوشش کی گئی تو انکے حامیوں کو میدان میں نکال کر فساد کرائے جائیں گے۔

داعش کا بانی

جیسا کہ موجودہ امریکی صدر ٹرمپ نے سابق صدر اوبامہ کو داعش کا بانی اور ہیلری کلنٹن کو شریک بانی قرار دیا۔ اسی طرح سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے اپنی یادداشتوں میں اعتراف کیا کہ عراق کے ایک لاکھ سنی امریکی پے رول پر تھے۔ اور اب عراق کے شیعہ نشین علاقوں میں صدام کے بعثی ایجنٹ تباہی پھیلارہے ہیں۔ ایم آئی سکس کے شیعہ نما ایجنٹ بھی فسادات میں پیش پیش ہیں۔

اسرائیل کی پراکسی وار

امریکا اور سعودی عرب اپنے ناجائز مفادات کے ساتھ ہیں۔ انہیں لبنان اور عراق کے عرب عوام سے کوئی ہمدردی نہیں۔ امریکا اور سعودی دونوں ہی اسرائیل کی پراکسی وار لڑرہے ہیں۔

سوشل میڈیا کے جغادری

اور اسی پالیسی کی وجہ سے عراق اور لبنان کو عدم استحکام سے دوچار کررہے ہیں۔ پہلے تکفیری خود کش بمبار ایکسپورٹ کررہے تھے۔ اب سوشل میڈیا کے جغادریوں کو اسائنمنٹ دی گئی ہے۔ اور امریکی حکام سوشل میڈیا کو مخالف حکومتوں کے خلاف استعمال کرنے کا اعتراف کرچکے ہیں۔

فیک نیوز کے اس دور میں لبنان اور عراق پر جو بیتی، اسکے ذمے دار کون ہیں؟ امریکا اور سعودی عرب اور چند دیگر اتحادی ممالک نے یہ منظم سازش رچائی ہے۔

جب تک عراق اور لبنان امریکی زایونسٹ سعودی مفادات کا تابعدار نہیں ہوجاتے، یہ ممالک مداخلت کرتے رہیں گے۔ انہیں عراق اور لبنان سے مکمل اطاعت اور مستقل اطاعت درکار ہے۔ عراق اور لبنان کے عوام کو ان سازشوں سے آگاہ رہنا چاہئے۔ نہ صرف آگاہ بلکہ اسے ناکام بنانے کے لئے مل جل کر جدوجہد بھی کرنا ہوگی۔

عین علی ، شیعت نیوز اسپیشل

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close