ایران

عراق اور علاقے کی بدامنی کی جڑ خطے میں امریکی غیر قانونی موجودگی ہے۔ ایڈمیرل شمخانی

شیعت نیوز : ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری ایڈمیرل علی شمخانی نے عراقی وزیر اعظم مصطفی الکاظمی سے ایک ملاقات میں علاقے کی تازہ ترین سیاسی اور سیکیورٹی تبدیلیوں بالخصوص دہشت گرد عناصر اور ان کے حامیوں پر تبادلہ خیال کیا۔

اس موقع پر ایڈمیرل شمخانی نے امریکی معاندانہ اور دہشت گردانہ اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے علاقائی امن اور استحکام کے سلسلے میں خطے سے امریکی فوجی کی جلد از جلد انخلا کیلئے خطی ممالک کے درمیان تعاون پر زور دیا۔

انہوں نے عراق کی سالمیت اور خودمختاری کے تحقظ پر ایران کے اسٹریٹجک مؤقف کا ذکر کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کا ملک عراق سے ہمہ جہتی تعاون کیلئے پُر عزم ہے۔

یہ بھی پڑھیں : داخلی انتشار پھیلانے والے دشمن کو اتحاد کی طاقت سے ناکام بنائیں گے، علامہ راجہ ناصر عباس

ایڈمیرل شمخانی نے عراقی حکومت کی جانب سے مشترکہ سرحدوں کی تقویت، دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کے جلد از جلد نفاذ کو ایران اور عراق کے مفادات میں قرار دے دیا۔

انہوں نے عراق کی جانب سے علاقائی ممالک کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے خطے میں بدامنی کے خاتمے کے حتمی حل کو بغیر غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی میں علاقائی ممالک کے درمیان تعاون قرار دے دیا۔

ایڈمیرل شمخانی نے عراقی خودمختارعلاقے کردستان میں دہشت گردانہ اور مسلحانہ اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ توقع کی جاتی ہے کہ عراقی حکومت سلامتی کے خلاف ایسے اقدامات کے تسلسل کی روک تھام کرے گی جو دونوں ممالک کے مفادات کو نشانہ بناتے ہیں۔

انہوں نے جنرل سلیمانی اور ابو المہندس المہدی کے قتل کیس کا تعاقب کرنے اور اس حادثے میں ملوث افراد کو سزا دینے سے متعلق ایران اور عراق کے درمیان تعاون پر زور دیا۔

اس موقع پر مصطفیٰ الکاظمی نے ایران اور عراق کے درمیان معاشی اور سیکورٹی تعلقات کی توسیع پر زور دیا۔

عراقی وزیر اعظم نے ایران کی جانب سے عراقی کی قومی خودمختاری کے تحفظ سمیت داعش دہشت گرد گروہ کے خلاف جنگ میں عراقی حکومت اور عوام کی حمایت کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فوجی اور سیکورٹی تعاون کےعلاوہ معاشی مشکلات پر قابوپانے کیلئے ایران کیساتھ کھڑے رہیں گے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close