عراق

عراق میں داعش کے دوبارہ سر اٹھانے کے بارے میں تشویش

شیعت نیوز:عراق میں داعش کے دوبارہ سراٹھانے کے بارے میں حشدالشعبی کے انتباہ کے بعد عراقی کردستان ریجن کے سربراہ نچیروان بارزانی نے بھی اس سلسلے میں خبردار کیا ہے۔

داعش دہشتگرد گروہ پر عراق کی مکمل کامیابی کے اعلان کی دوسری سالگرہ میں صرف چار روز باقی رہ گئے ہیں۔ عراقی حکومت نے دس دسمبر دوہزار سترہ میں داعش دہشتگرد گروہ کے غاصبانہ قبضے سے اس ملک کی مکمل آزادی کا اعلان کیا تھا۔
عراق کی رضاکار فورس الحشدالشعبی کی جانب سے ملک میں داعش کا فتنہ پھر سے سر اٹھانے کے بارے میں انتباہ دیئے جانے کے بعد عراقی کردستان ریجن کے سربراہ نیچروان بارزانی نے بھی ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ کرکوک اور گرمیان علاقوں میں حالیہ چند مہینوں کے دوران ہونے والے دہشتگردانہ اقدامات اور خانقین میں پیشمرگہ فورسس پر بدھ کی رات داعش کے حملے نے ثابت کردیا ہے کہ داعش دہشتگرد ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں۔
درایں اثنا عراق کی مشترکہ آپریشنل کمانڈ کے ترجمان تحسین الخفاجی نے کہا ہے کہ داعش دہشتگرد گروہ کے عناصر نے عراق کے موجودہ حالات سے ناجائز فائدہ اٹھانے اور اس ملک کی سیکورٹی کی صورت حال کو درہم برہم کرنےکی کوشش کی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ داعش کے سرغنہ ابوبکر بغدادی کے جانشین حامد شاکر نے جو ابوخلدون کے نام سے مشہور ہے، اعتراف کیا ہے کہ داعش کے عناصر پرامن مظاہرین کے درمیان گھس کر بغداد میں بدامنی اور کشیدگی پیدا کرنا چاہتے تھے۔
عراق کی فوج اور رضاکار فورس حشدالشعبی کے جوانوں نے دوہزار چودہ سے دسمبر دوہزار اٹھارہ تک داعش نامی وحشی ہیولاؤں کے خلاف جنگ کی جن کے پاس اپنی حکومت، ادارے اور ہزاروں افراد پر مشتمل افرادی قوت موجود تھی اس کے باوجود عراق میں داعش دہشتگرد گروہ کو ختم کردیا گیا اور اس ملک کی ارضی سالمیت کا تحفظ کیا گیا۔
بنا برایں حالیہ دنوں میں عراق میں داعش کی نقل و حرکت میں تیزی ایک تشویشناک عامل ہے۔
بعض غیر ملکی بازیگروں کے مفادات خاص طور سے امریکہ ، صیہونی حکومت ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی چوکڑی کے مفادات عراق میں تشدد اور کشیدگی بڑھنے میں ہی ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لئے داعش کا استعمال ان کے ایجنڈے میں ہے۔
درایں اثنا ذرائع ابلاغ نے ابھی حال میں اعلان کیا ہے کہ امریکییوں نے الھول کیمپ میں فرقہ وہابیت کی بنیاد پر تکفیری دہشتگردوں کی نئی نسل کو ٹریننگ دینا شروع کردیا ہے۔
شام کی سرکاری نیوز ایجنسی سانا نے رپورٹ دی ہے کہ امریکی فوجیوں نے داعش کی چھے سو سے زائد عورتوں اور بچوں کو الہول کیمپ جو داعشی خاندانوں کی رہائش گاہ ہے ، سے نکال کر عراق منتقل کیا ہے۔
اسی صورت حال کے پیش نظر حشد الشعبی اورعراقی فوج نے پانچ دسمبر سے مغربی الانبار میں داعش دہشتگرد گروہ کے باقیات کے خلاف اپنی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
ان کارروائیوں کا مقصد صوبہ الانبار میں داعش کے وجود کو ختم کرنا اور عراق میں داعش کے دوبارہ سر اٹھانے کے امکانات کو روکنا بتایا گیا ہے۔
عراق کی بارڈر سیکورٹی فورس نے بھی دہشتگرد عناصر کو روکنے کے مقصد سے ترکی اور شام سے ملحق سرحدوں پر سیکورٹی انتظامات بڑھا دیئے ہیں ۔
تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اگر داعش عراق میں دوبار منظم نہ ہوسکے تو بھی اس ملک کے مختلف علاقوں میں دھماکوں اور دہشتگردانہ کارروائیوں میں تیزی آنے کا امکان بہرحال پایا جاتا ہے۔

لہذا جلد سے جلد نئی حکومت کی تشکیل اور عوام و مختلف گروہوں کی جانب سے نئی حکومت کی حمایت سے عراق میں داعش کے خفیہ عناصر کے اقدامات میں شدت اور اضافے کو روکا جا سکتا ہے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close