عراق

عراق: حکومت کی تشکیل سے جاری بحران پرغلبہ پا لیں گے۔ مصطفیٰ الکاظمی

شیعت نیوز: عراق کے نامزد وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی نے کہا ہے کہ حکومت کی تشکیل سے ان کا بنیادی مقصد ملک میں جاری بحران پرغلبہ حاصل کرنا ہے۔

عراق کے نامزد وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی نے اپنے ایک ٹوئیٹ میں لکھا کہ وہ ایسی حکومت بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جو ملک کو جاری بحران سے نجات دلا سکے۔

مصطفیٰ الکاظمی کا کہنا تھا کہ عراقی عوام کے مفادات ان کی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں اور وہ ہرگز کسی بھی دباؤ کے سامنے تسلیم نہیں ہوں گے۔

قابل ذکر ہے کہ مصطفیٰ الکاظمی کی نگرانی میں تشکیل پانے والی حکومت کا ایک اہم ایجنڈا جلد از جلد عراق سے امریکی دہشت گردوں کے مکمل انخلا کو ممکن بنانا کہ جس کا عراقی عوام بارہا مطالبہ کر چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ڈھائی ہزار امریکی فوجیوں کا عراق سے انخلا، کویت منتقل

عراق کے صدر برہم صالح نے عدنان الزرفی کی جانب سے کابینہ تشکیل دینے میں ناکامی کے بعد مصطفی الکاظمی کو کابینہ تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپی تھی اور آئین کے مطابق ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ تیس دن کے اندر نئی کابینہ کے وزراء کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لئے پارلیمنٹ میں پیش کریں ۔

دوسری جانب عراقی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف چیف کے ترجمان میجر جنرل عبد الکریم خلف نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ عراق اور امریکہ اگلے جون میں اس ملک سے امریکی افواج کے مکمل انخلا کے ٹائم ٹیبل کے قیام پر تبادلہ خیال کریں گے۔

میجر جنرل خلف نے عراقی الصباح اخبار کے ساتھ ایک بیان میں کہا ہے کہ مذاکرات کرنے کا فیصلہ امریکی افواج کے انخلا کے لئے عراقی پارلیمینٹ میں جو بل پاس ہوا تھا اس کے عین مطابق ہے ۔

انہوں نے کہا کہ عراقی حکومت کو امریکی طرف سے ایک پیغام موصول ہوا ، جو مثبت تھا اور اس میں دونوں فریقین کے درمیان اپنی تمام صورتوں میں اسٹریٹجک تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کرنا شامل ہے ،اس بات پر زور دیا کہ عراق غیرملکی افواج کے انخلا پر سنجیدگی سے بات کرے گا۔ اور تفصیلی انداز میں۔

عراقی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کے ترجمان نے اشارہ کیا کہ ’’امریکہ نے خیر سگالی کے طور پر عراقی حکومت کے ساتھ معاہدے میں اپنی افواج کو نمایاں طور پر کم کردیا ہے اور اس میں افہام و تفہیم اور مثبت اشارے مل رہے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات دونوں ممالک کے مابین طے شدہ اسٹریٹجک فریم ورک معاہدے کے تحت قائم معاشی ، سیاسی ، سلامتی اور ثقافتی شعبوں میں دونوں ملکوں کے مابین ہر طرح کے تعلقات پر تبادلہ خیال کریں گے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close