عراق

عراق میں اسلامی مزاحمتوں کے خلاف امریکی سازشی سرگرمیاں بے نقاب

شیعت نیوز : عراق میں امریکی حکام کی سرگرمیاں محض مشکوک دہشت گردانہ فوجی اقدامات تک محدود نہیں بلکہ وہ اس ملک کے سیاسی میدان میں بھی انتہائی مشکوک سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں۔

یہ تمام سرگرمیاں ظاہر کرتی ہیں کہ واشنگٹن عراق میں استعماری سازشوں کا اجرا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

مثال کے طور پر امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بہانے بغداد اور اربیل کے سفارت خانوں میں تعینات فوجیوں کی تعداد میں کمی کرنے کا اچانک فیصلہ سامنے آتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : امریکی حکومت کورونا وائرس کے مقابلے میں ناتواں ہے۔ سید حسن نصر اللہ

امریکہ کا یہ اقدام اس وقت زیادہ مشکوک ہو جاتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ چین، اٹلی اور اسپین میں کورونا وائرس کے شدید پھیلاؤ کے باوجود ان ممالک میں امریکہ نے ایسا کوئی ملتا جلتا اقدام انجام نہیں دیا ہے۔

دوسری جانب عراقی سیاسی تجزیہ نگار صباح الطائی نے عراق کے بعض مقامات سے امریکی عقب نشینی کے بعد عراقی مزاحمتی فورس حشد الشعبی کے مراکز پر امریکی حملوں کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

صباح الطائی نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فورسز کے بعض عراقی فوجی اڈوں سے نکل جانے کا اقدام مشکوک ہے جبکہ ان کی طرف سے یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ عراق میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث عقب نشینی کر رہے ہیں۔

ای مجلے المعلومہ کو انٹرویو دیتے ہوئے عراقی سیاسی تجزیہ نگار صباح الطائی نے کہا ہے کہ امریکی فورسز کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے کوئی خطرہ نہیں جبکہ کورونا کے پھیلاؤ سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے امریکی فورسز نے پہلے سے طے شدہ اپنے مجرمانہ منصوبوں کو مزید آگے بڑھایا ہے لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ کورونا کا پھیلاؤ عراقی مزاحمتی فورسز پر امریکی حملوں کے نئے منصوبوں کا باعث بنا ہو گا۔

صباح الطائی کا کہنا ہے کہ بغداد، القائم اور القیارہ کے بعض فوجی اڈوں سے امریکی عقب نشینی احتیاط کی بناء پر ہو سکتی ہے تاکہ امریکہ کے نئے دہشت گردانہ اقدامات کے ردعمل سے بچا جا سکے۔

دوسری طرف عراقی فوجی ذرائع کا کہنا تھا کہ سالہا قبل سے القیارہ کے فوجی اڈے میں تعینات امریکی فورسز اس فوجی اڈے سے عقب نشینی اختیار کر کے دوسرے فوجی اڈے میں منتقل ہو گئی ہیں جبکہ صوبہ نینوا کے مشیر برائے گورنر کی طرف سے اس خبر کی تردید کر دی گئی ہے۔

صوبہ نینوا کے مشیر برائے گورنر کا کہنا ہے کہ القیارہ فوجی اڈے سے امریکی انخلاء کے دعوے کے برعکس وہاں سے پرانے امریکی فوجی دستوں کے نکلنے کے بعد اب نئے امریکی فوجی دستوں کو تعینات کر دیا گیا ہے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close