اہم ترین خبریںعراق

عراق: مکتب حسینی کے متوالوں کا جوش و جذبہ اپنے عروج پر

شیعت نیوز : سیدالشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب باوفا کا چہلم اب بالکل قریب آگیا ہے اور کربلائے معلی کی جانب پیدل مارچ کرنے والے مکتب حسینی کے متوالوں اور عاشقان سید الشہداء کا جوش و جذبہ اپنے عروج پر پہنچ گیا ہے۔

نجف اشرف اور کربلائے معلی میں موجود ہمارے نمائندوں کا کہنا ہے کہ اربعین حسینی کے بالکل قریب آجانے کے موقع پر کربلائے معلی کا رخ کرنے والے عاشقان حسین کا جوش وجذبہ ناقابل توصیف ہوتا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : اربعین امام حسین علیہ السلام کے موقع پر ہر عزادار کشمیر کا پرچم بھی اٹھائے، علی رضا پناہیان

عراق اور دنیا کے گوشہ و کنار سے دسیوں لاکھ زائرین کربلائے معلی یا تو پہنچ گئے ہیں یا پھر پہنچ رہے ہیں۔

ایران سے تیس لاکھ سے زائد ایرانی زائرین اربعین ملین مارچ میں شرکت کے لئے نجف اور کربلائے معلی پہنچے ہیں اور ایران کے راستے گذر کرعراق جانے والے دیگر غیر ملکی زائرین کی بھی تعداد اس بار ایک لاکھ ستر ہزار سے زیادہ ہے۔

ان میں بیشتر زائرین پاکستان کے ہیں جبکہ افغانستان ، جمہوریہ آذربائیجان، روس اور قفقفاز کے ملکوں کے زائرین شامل ہیں۔

یوں تو عراق کے سبھی شہروں سے اہل بیت اطہار کے چاہنے والے پاپیادہ کربلا کا رخ کرتے ہیں لیکن عراقی زائرین میں بڑی تعداد ایسے زائرین کی بھی ہوتی ہے جو پہلے نجف اشرف جاتے ہیں اور اس کے بعد نجف سے کربلا کے درمیان اسّی کلومیٹر کا راستہ پیدل طے اور غیر معمولی اربعین ملین مارچ میں شرکت کرتے ہیں۔

خاص طور پر غیر ملکی زائرین کی تو یہ روایت رہی ہے کہ وہ اربعین ملین مارچ میں شرکت سے پہلے نجف اشرف میں حاضری دیتے ہیں اور گویا بیٹے کی بارگاہ میں حاضری دینے کے لئے پدرگرامی حضرت علی مرتضی کی خدمت میں عرض ادب کرتے ہوئے ان سے اجازت طلب کرتے ہیں اور پھر عاشقوں کا سیل رواں مکتب عشق یعنی کربلائے معلی کی جانب روانہ ہوجاتا ہے وہ مرکز جہاں سے پوری دنیا کو عشق و محبت اور امن آشتی اور ساتھ ہی ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا پیغام ملتا ہے ۔

اربعین حسینی درحقیقت ایک تہذیب و تمدن کا نام ہے ایک لافانی تحریک، جس میں اعلی انسانی اقدار اور اخلاقی کمالات کے سبھی پہلو جلوہ گر ہیں۔

شہادت ، ایثار و فداکاری اور سب سے بڑھ کر انسانیت ۔ یہی تو وجہ ہے کہ شیعہ و سنی تو مسلمان ہیں جو رسول اور آل رسول سے محبت کرتے ہیں لیکن عیسائی مذہب کے لوگ بھی نہ صرف اربعین ملین مارچ میں شریک ہیں بلکہ وہ زائرین کی خدمت کے لئے موکب لگا کر محسن انسانیت امام حسین علیہ السلام سے اپنی عقیدت کا اظہار کر رہے ہیں اس کے علاوہ دیگر مذاہب منجملہ بودھ مذہب اور ہندومذہب سے تعلق رکھنے والے بھی اس اربعین مارچ میں شرکت کے لئے حریت پسندوں کے سردار کے حضور اپنا سرتعظیم خم کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ انسان دشمن طاقتیں اربعین ملین مارچ کو اپنے لئے خطرہ سمجھ رہی ہیں لیکن اربعین وعدہ الہی کی تکمیل کا پیش خیمہ ہے جو منجی انسانیت کے ظہور تک اسی شان سے بلکہ اس سے بھی بہتر انداز میں منایا جاتا رہے گا ۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close