اہم ترین خبریںشیعت نیوز اسپیشلعراقمقالہ جات

(فیک نیوز کا ہدف عراق کیوں (آخری حصہ

(فیک نیوز کا ہدف عراق کیوں (آخری حصہ

فیک نیوز کا ہدف

عراق میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد فیک نیوز کے ذریعے تبلیغاتی جنگ لڑی گئی۔ اس کاتاریخی پس منظر پچھلی قسط میں کسی حد تک بیان کیا جاچکا۔ اسی برس کے چند واقعات کو بھی اگر یاد رکھیں تو موجودہ صورتحال کا اصل سبب بالکل سامنے ہے۔

بنیادی سبب صرف ایک ہے کہ عراقی حکومت امریکا کی ڈکٹیشن نہیں مان رہی۔

عراقی حکومت اور حشد الشعبی

امریکی حکومت کی ڈکٹیشن ہے کہ حشد الشعبی کو ختم کردیا جائے۔ عراق کا دفاع کرنے والی رضاکار فورس کا عربی نام حشد الشعبی ہے۔

اسی عوامی لشکر نے داعشی دہشت گردوں سے عراقیوں کو نجات دلائی تھی۔

داعش کیا ہے؟ اس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2016ع صدارتی انتخابی مہم کے دوران اہم بات کہی تھی۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ صدر باراک اوبامہ داعش کا بانی ہے.

اور وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن داعش کی شریک بانی ہیں۔

عراقی حکومت اس رضاکار فورس کو کیسے ختم کردے جو مادر وطن کے دفاع میں مصروف ہے.۔

ایک اور پہلو یہ کہ اس عوامی رضاکار فورس میں ایسی جماعتوں کے افراد شامل ہیں جو پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھتی ہیں۔

عراق کا سیاسی نظام اور مخلوط حکومت

عراق کا سیاسی نظام بنیادی طور پر شیعہ عرب، سنی عرب اور کردوں کی نمایاں نمائندگی پر مبنی ہے۔ اور اس مخلوط سیاسی نظام کے تحت مخلوط حکومت ہی بنتی ہے۔

عراقی حکومت فیصلہ سازی میں سارے اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کی پابند ہے۔ ورنہ حکومت ہی ختم ہوجائے گی۔

اس لئے امریکی ڈکٹیشن عراق کے مفاد میں نہیں۔ بلکہ امریکی حکومت عراق کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کی دانستہ کوشش میں مصروف ہے۔

فیک نیوز کا ہدف ایران فیکٹر

امریکا نے بارہا عراق پر دباؤ ڈالا کہ وہ ایران سے قطع تعلق کرے۔ یعنی امریکا نے جو پابندیاں ایران پر لگائیں ہیں، انکو بہانہ بناکر ایران سے تجارت ختم کردے۔ امریکا نے ایران کے ریاستی سرکاری و حکومتی ادارے پاسداران انقلاب اسلامی پر پابندی بھی اسی لئے لگائی تھی۔ حالانکہ بین الاقوامی تعلقات میں اسی نوعیت کی پابندی کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

دنیا بھر سے امریکی پابندیوں کی مخالفت سامنے آئی تھی۔ اور اس پر تنقید کی گئی تھی۔ عراقی حکومت نے امریکی ڈکٹیشن کو مسترد کردیا۔ پاسداران انقلاب اسلامی ایران کا ایک آئینی عسکری ادارہ ہے۔اور عراق پر سے داعش دہشت گردوں کا قبضہ چھرانے میں اس نے مدد کی ہے۔ البتہ یہ مدد عراق حکومت کی رسمی درخواست پر کی گئی۔

ایران سے تعلقات عراق کے مفاد میں

معاملہ یہ ہے کہ ایران سے تعلقات رکھنا عراق کے اپنے مفاد میں ہے۔ یہاں انرجی بحران ہے۔ ایران سے زیادہ آسان اور سستا ذریعہ عراق کو میسر ہی نہیں۔ عراقی سیاحت کے شعبے میں بھی ایرانیوں کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔

عراق کی اقتصادی ترقی کے لئے ایران ناگزیر ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ عراق کی جغرافیائی سلامتی اور اندرونی سلامتی کے لئے بھی ایران سے تعلقات ناگزیر ہیں۔

عراق امریکی ڈکٹیشن نہیں مان رہا

امریکی احکامات با الفاظ دیگرعراق سے مطالبہ ہے کہ وہ خود کشی کرلے۔جبکہ عراقی قوم کو معلوم ہے کہ صدام بھی امریکی اتحاد کا مہرہ تھا۔ عراقی قوم کو معلوم ہے کہ خودکش بمبار تکفیری دہشت گرد سعودی وہابی نظریات کے پیروکار ہیں۔

انہیں معلوم ہے کہ عراق کی تباہی و بربادی کا ذمے دار امریکی اتحاد ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ امریکی اتحاد قابل اعتماد نہیں ہے۔ عراقی کردوں اور عرب شیعوں پر جو بیتی، یہ انکے لئے سبق ہے۔ جو کچھ امریکی اتحاد نے کام نکلنے کے بعد صدام کے ساتھ کیا، یہ سنی اور سیکولر عربوں کے لئے سبق ہے۔

اسرائیل بھی حملہ آور ہے

عراق میں جعلی ریاست اسرائیل بھی حملہ آور ہے۔ جولائی میں اسرائیل نے عراق کے اندر بمباری کی تھی۔ امریکی و اسرائیلی حکومتیں متحد ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب اور متحدہ عرب کو بھی ساتھ ملا رکھا ہے۔ یمن جنگ اسی مشترکہ سازش کا نتیجہ ہے۔

یمن سے سعودی فوجی اتحاد کی جارحیت کا جواب دیا جاتا ہے۔ تو بجائے اپنی نااہلی اور شکست تسلیم کرنے کے امریکی اتحاد بلبلاکر نیا محاذ کھول دیتا ہے۔ دارالحکومت صنعا میں یمن کی عبوری حکومت کام کررہی ہے۔ اسکی فورسز نے سعودی جارحیت کا جواب دیا۔ تو امریکی اتحاد نے الزام لگایا کہ یہ حملہ تو عراق کی سرزمین سے کیا گیا تھا۔ یعنی عراق کو زبردستی گھسیٹا گیا تاکہ عراق حکومت پر دباؤ بڑھایا جائے۔

البتہ عراق حکومت نے الزامات کو مسترد کردیا۔ اسرائیلی حملے پر شدید ردعمل ظاہر کیا جبکہ امریکا کا حکم تھا کہ عراق حکومت خاموش رہے۔ اسی طرح عراق نے امریکی کوالیشن کو بھی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ یہ نام نہاد کوالیشن بظاہر داعش کے خلاف فضائی کارروائی کرنے کا دعویٰ کیا کرتی تھی۔ اس لئے عراقی حکومت پر امریکی اتحاد برہم ہے۔

عوامی مشکلات کے اصل ذمےدارکون؟

اس کا یہ مطلب نہیں کہ عراق میں مسائل و مشکلات نہیں ہیں۔بالکل مشکلات ہیں۔ عوام کو مسائل کا سامنا ہے۔ مگر ان مشکلات و مسائل کا ذمے دار نہ تو ایران ہے اور نہ ہی حشد الشعبی۔ اور نہ ہی امریکی ڈکٹیشن مان لینے سے مسائل حل ہوجانے ہیں۔ پاکستان کے کتنے مسئلے امریکی اتحاد نے حل کردیئے ہیں؟! امریکی اتحاد کی ڈکٹیشن ماننے سے صرف قرضوں میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔

عراق کے عوام پرامن مظاہرے کا حق رکھتے ہیں۔جو انکے مسائل کا ذمے دار ہے، ان پر تنقید بھی انکا حق ہے۔ مگر جو ذمے دار نہیں ہیں، ان پر الزام تراشی ثبوت ہے کہ احتجاج ہائی جیک ہوگیا تھا۔ اور عراقی معاملات میں مداخلت کرنے کی امریکی اتحاد کو بہت پرانی عادت ہے۔

تبلیغاتی جنگ اور پاکستان

پاکستان میں عراق کے کمیونسٹوں کی حیثیت کو بھی بڑھا چڑھاکر بیان کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ کمیونسٹوں نے مقتدیٰ الصدر سے سیاسی ایڈجسٹمنٹ کررکھی تھی۔ ذی قار صوبے سے انکا ایک رکن قومی اسمبلی منتخب ہوا۔ جبکہ ایک اور رکن اسمبلی خواتین کے لئے مخصوص نشست پر منتخب ہوئیں۔ اس سے زیادہ انکی کوئی حیثیت نہیں۔

اور کمیونسٹ پارٹی کے عہدیدار کا بیان ریکارڈ پر موجود ہے۔ مقتدیٰ الصدر ہوں یا دوسرے، سبھی اس حکومتی سیٹ اپ کا حصہ ہیں۔ اور کمیونسٹ بھی مستثنیٰ نہیں ہیں۔ نجف کا کنٹرول شیعہ اسلامی مرجعیت کے تابع ہے۔ تو پاکستان سمیت دنیا بھر کے کامریڈوں اور جماعتیوں سے بھی مودبانہ درخواست ہے۔ وکٹ کے دونوں طرف مت کھیلیں جناب۔ یا امریکی اتحاد کے ساتھ ہوجائیں یا جس نظریے کی پیروی کا دعویٰ ہے اسی پر رہیں۔ عراق عراقیوں کا ہی ہے اور رہے گا۔

شیعیت نیوز اسپیشل
تحریر : غلام حسین

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close