عراق

عراق: صوبہ الانبار میں عراقی فوج کی ایک چھاؤنی پر داعش کا حملہ پسپا

شیعت نیوز : عراقی سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد تکفیری گروہ داعش نے صوبہ الانبار میں عراقی فوج کی ایک چھاؤنی پر حملہ کیا جسے ناکام بنا دیا گیا ہے۔

المعلومہ نیوز کی رپورٹ کے مطابق دہشت گرد تکفیری گروہ داعش کے دہشت گردوں نے کل صوبہ الانبار کے علاقےالمعمورہ میں عراقی فوج کی ایک چھاؤنی پر حملہ کیا جسے فوج نے بڑی بہادری سے ناکام بنا دیا اور داعش کے دہشت گرد پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہوئے۔

واضح رہے کہ 2014 میں داعش دہشت گرد گروہ نے امریکہ اور اس کے مغربی و عرب اتحادیوں منجملہ سعودی عرب کی فوجی و مالی مدد و حمایت سے عراق پر حملہ کیا اور اس ملک کے بڑے وسیع شمالی اور مغربی علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا اور پھر وحشیانہ ترین جرائم کا ارتکاب کیا۔

یہ بھی پڑھیں : یمن میں آئندہ 6 ماہ میں غذائی قلت کا شکار افراد کی تعداد 32 لاکھ ہو جائیگی۔ اقوام متحدہ

دوسری جانب عراق کی مشترکہ آپریشنل کمان کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ حکومت عراق اور امریکی اتحاد کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے کے تحت امریکہ کی زیرسرکردگی نام نہاد بین الاقوامی اتحاد کے ممالک عراق میں اپنے کیمپ اور اپنے فوجیوں کی تعداد کم کر رہے ہیں۔

بغداد الیوم ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق عراق کی مشترکہ آپریشنل کمان ترجمان تحسین الخفاجی نے کہا ہے کہ امریکی اتحاد نے رواں عیسوی سال سے اب تک اپنے چھے فوجی اڈے عراقی حکومت کے حوالے کئے ہیں اور بسمایہ فوجی چھاؤنی کو بھی جلد ہی حکومت عراق کے والے کر دے گا۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ کی سرکردگی میں یہ بین الاقوامی اتحاد داعش دہشت گرد گروہ کا مقابلہ کرنے کی غرض سے قائم ہوا تھا تاہم عراقی فوج کی بڑھتی ہوئی طاقت کی بنا پر اس ملک میں اب فوجی کیمپوں کے قیام اور فوجی مشیروں کی کوئی ضرورت نہیں رہی ہے۔

بین الاقوامی امریکی اتحاد کے فوجی کمانڈر کینٹ اکمن نے عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں بتدریج کمی اور سنیچر کو بسمایہ فوجی اڈے کو عراقی فوج کے سپرد کئے جانے کی خبر دی ہے۔

 

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close