پاکستان

شدت پسندی پھیلانے والے پاکستان ڈیفنس اورISI پاکستان نامی سوشل میڈیا پیجز کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کی جارہی؟

شیعیت نیوز: جنوری کے اوائل میں لاپتہ ہوجانے والے5بلاگرز کو ’’گستاخ قرار دیکر پھانسی ‘‘دینے کےلیے سوشل میڈیا پر شدید مہم جاری ہے جو اس بات پر روشنی ڈالتی ہے کہ کس طرح مخالفین لبرل آواز دبانے کےلیے ملک کے سخت ترین قوانین کا استعمال کرتے ہوئے آن لائن پلیٹ فارم استعمال کر رہے ہیں، سلمان حیدر سمیت 5بلاگرز مذہبی عدم برداشت کیخلاف کھڑے رہے اور اسی دوران انہوں نے کئی ترقی پسند فیس بک صفحات کے ذریعے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ پر بھی تنقید کی، مذکورہ بلاگرز کو رواں ماہ کے اوائل میں لاپتہ کردیا گیا جس کے ساتھ ہی حکومتی کریک ڈائون کا خوف پیدا ہوگیا۔ بہر حال، کسی بھی گروپ نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور سیکیورٹی فورسز نے بھی ملوث ہونے کی تردید کی، اہم شہروں میں احتجاج کے ساتھ جیسے جیسے بلاگرز کی گمشدگی کی تشہیر بڑھی ڈیجیٹل رائٹس فائونڈیشن کی بانی نگہت داد نے آن لائن پریشان کن رجحان کو نوٹس کیا، ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ گمشدہ بلاگرز کو گستاخ قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان لوگوں کو بھی جو ان کی حمایت کرتے ہیں اور اب اسطرح کے الزامات سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بڑھتے جارہے ہیں۔ حال ہی میں پاکستان ڈیفنس نامی فیس بک صفحے (جس کے 75؍لاکھ لائیکس ہیں ) پر ایک پوسٹ میں کہا گیا کہ فیس بک پر گستاخی کرنے والے کافروں کے گروپ کو شکست ہوئی، مذکورہ پوسٹ کو 5ہزار 400سے زائد بار پسند کیا گیا۔ آئی ایس آئی پاکستان 1نامی ایک اور فیس بک صفحے (جس پر ایک لاکھ 92ہزار لائیکس ہیں) پربلاگرز کو اسلام دشمن قرار دیکر ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ مذکورہ واقعات کا اختتام’’ سیلف سینسرشپ‘‘ پر ہوتاہے جیسا کہ صحافی رابعہ محمود کے ساتھ ہوا جنہوں نے 2015 میں سبین محمود کے قتل کے بعد پاکستان پر آن لائن تنقید کی ا ور بعد ازاں انہیں ٹوئٹر پرزیادتی اور جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہوئیں ساتھ ہی ا ن پر غداری کا بھی الزام عائد کرکے اسلام دشمن کہا گیا۔ رابعہ کا کہنا تھاکہ انہیں رات بھر انتباہی پیغامات موصول ہوتے رہے جس میں کہا جارہا تھا کہ ’’ تمہارے نام کی گولیاں ہمارے پاس ہیں جس کے بعد سے میں بولنے سے قبل غور کرتی ہوں۔ دوسری جانب فیس بک کی جانب سے کہنا ہےکہ وہ نفرت پر مبنی مواد کو ہٹانے کےلیے مستقل کام کر رہے ہیں

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close