مشرق وسطی

اسلامی کانفرنس تنظیم کے کسی رکن نے بھارت کے ساتھ کشمیر کا معاملہ نہیں اٹھایا

شیعت نیوز : اسلامی کانفرنس تنظیم کے پہلے خصوصی ایلچی برائے جموں و کشمیر یوسف ایم الدوبی کے خطے کے دورے کی تفصیلات پاکستان کو ملنا ابھی باقی ہیں، وہ اس سے پہلے پانچ ماہ قبل دورے پر آئے تھے اور بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کو یونین کا حصہ بنانے کے بعد مقبوضہ ریاست کی صورتحال کے مختلف پہلوئوں پر غور کیا تھا۔

مئی 2019ء میں تقرر کے بعد، یوسف ایم الدوبی کا پاکستان میں خیر مقدم کیا گیا تھا، انہوں نے پاکستان میں پانچ دن قیام کیا تھا اور آزادکشمیر پر لائن آف کنٹرول کا دورہ کیا تھا۔ ان کا تعلق سعودی عرب سے ہے اور ان کا ملک ترکی، آذربائیجان، نائیجر اور پاکستان کے ساتھ کشمیر پر رابطہ گروپ کا حصہ ہے۔

اسلامی کانفرنس تنظیم کے پہلے خصوصی ایلچی نے کئی مرتبہ ورچوئل کانفرنس کے ذریعے کنٹیکٹ گروپ کے اجلاسوں میں شرکت کی تھی لیکن کبھی اجلاس میں رپورٹ پیش نہیں کی۔

یہ بھی پڑھیں : عراقی عوام امریکہ کے خلاف جہاد کیلئے تیار، عراق کی انسان دوستانہ امداد

ذرائع نے میڈیا کو بتایا ہے کہ کنٹیکٹ گروپ نے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کیے جانے کے بعد سے ایک مرتبہ مقبوضہ کشمیر کے ایشو پر بات کی تھی اور یہ اجلاس پاکستان کی کوششوں پر رواں سال جون میں ہوا تھا۔ اس سلسلے میں دفتر خارجہ سے اتوار کو رابطہ کیا گیا تاہم اس رپورٹ کے حوالے سے تفصیلات نہیں مل سکیں۔

کشمیر پر کنٹیکٹ گروپ کی قیادت ترکی اور سعودی عرب کے پاس تھی اور وہ کارروائی میں سرگرمی کے ساتھ حصہ لیتے تھے۔ ایک اور معاملہ یہ بھی تھا کہ او آئی سی کے کسی بھی رکن ملک نے بھارت کے ساتھ اپنے باہمی تعلقات کی موجودگی میں بھی کشمیر کا مسئلہ بھارت کے سامنے نہیں اٹھایا کہ کشمیری عوام کے بنیادی انسانی حقوق کا خیال رکھا جائے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مطابق اس مسئلے کے حل کیلئے کوششوں میں تیزی لائی جائے۔

یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ یوسف الدوبی نے اپنے گزشتہ دورے کے اختتام پر پاکستان کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی اور کہا تھا کہ کشمیریوں کی مشکلات ختم کرانے میں تعاون کیا جائے گا۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے ایک وفد نے بھی سفیر یوسف ایم الدوبی سے ملاقات کی تھی۔

 

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close