مقالہ جات

علم و عمل کا کاروان، آئی ایس او پاکستان

یوں تو ان شہداءکی فہرست بہت طویل ہے لیکن ان میں سے چند نمایاں نام شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی ؒ، شہید راجہ اقبال ، شہید تنصیر حیدر ، شہید ڈاکٹر قیصر صیال اور وہ شہیدان حق کے جو اس مملک

شیعت نیوز: آئی ایس او پاکستان ایک ایسی طلباءتنظیم ہے کہ جس کے سب ممبران طالب علم ہوتے ہیں۔ اس طلباءتنظیم کے ممبران جہاں تعلیمی اداروں میں حصول علم کے لئے کوشاں رہتے ہیں وہیں وہ اس تنظیم کے پلیٹ فارم سے سماجی اور ملّی خدمات انجام دےتے ہیں ۔ ان خدمات کی انجام دہی میں نہ صرف برادران بلکہ آئی ایس او پاکستان شعبہ طالبات میں شامل خواہران بھی حصہ لیتی ہیں۔ آئی ایس او پاکستان کی اس47سالہ کامیابی کی ایک وجہ اس کا مضبوط اور مستحکم انتظامی نظام ہے۔22مئی ۱۹۷۲ءکا سورج ملک خداد پاکستان میں جب طلوع ہوا تو وہ ملت جعفریہ پاکستان کے طلبہ کے روشن مستقبل کی ضمانت لے کر طلوع ہوا۔

یہ وہ تاریخی دن تھا کہ جب لاہور میں انجینئرنگ یونیورسٹی کے شیعہ طلبہ نے لاہور کے تمام کالجز کی شیعہ طلبہ تنظیموں کو ایک اجلاس میں مدعو کیا ۔ اس اجلاس میں وسیع تر ملّی اور قومی مفاد میں تمام شیعہ طلبہ تنظیموں کو ختم کر کے ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیا گیا جسے ’امامیہ اسٹودنٹس آرگنائزیشن پاکستان ‘ (آئی ایس او پاکستان) کا نام دیا گیا اور یوں ۲۲ مئی ۱۹۷۲ءکو اس تنظیم کا وجود عمل میں آیا ۔اگرچہ اس و قت بہت سی شیعہ طلبہ تنظیموں کے آئین اور دستور موجود تھے لیکن ان تمام آئین اور دستور کو ختم کر کے ۱۱ جون ۱۹۷۲ءکو ایک متفقہ دستور العمل نافذ کیا گیا اور پنجاب یونیورسٹی کے منعقدہ یوم امام حسین ؑ میں اس تنظیم کا باقاعدہ تعارف کرایا گیا اور اس تاریخی جلسے سے خطاب مفتی جعفر حسین صاحب نے کیا ۔پنجاب یونیورسٹی میں منعقد ہونے والا پروگرام گرچہ اس تنظیم کے پلیٹ فارم سے یہ پہلا پروگرام تھا لیکن اس پروگرام نے آئی ایس او پاکستان کو عوامی حلقوں میں متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔

یہ خبر بھی پڑھیں :22 مئی یوم تاسیس آئی ایس او پاکستان ، خصوصی رپورٹ

۱۹۷۶ءتک آئی ایس او پاکستان نے ملک خداداد کے کونے کونے تک اپنا پیغام پہنچا دیا تھا اور اس کا چوتھا سالانہ کنونشن دفتر سے نکل کر پنڈال میں منعقد ہوا جو اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ لوگوں میں آئی ایس او پاکستان کا نصب العین پہنچ چکا تھا ۔آئی ایس او پاکستان کا نصب العین تعلیمات قرآن اور سیرت محمد و آل محمد کے مطابق نوجوان نسل کی تربیت کرنا ہے تاکہ وہ ایک باکردار مومن بن کر دین مبین اور مملکت خداد پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کا تحفظ کر سکیں۔آئی ایس او کو پاکستان بھر میں ملنے والی عوامی پزیرائی اور مقبولیت ان افراد کی محنت کا ثمر تھی کہ جنہوں نے بلند ہمت اور حوصلے کے ساتھ اس تنظیم کے لئے خلوص نیت کے ساتھ کام کیا اور ان سب میں ایک نمایاں نام شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی ؒکا ہے جو اس تنظیم کے بانی رہنماؤں میں سے ایک تھے۔

شہید ڈاکٹر محمد علی نقویؒ نے ہر اس کام کو انجا م دیا کہ جس سے اس تنظیم کا نصب العین اور مقاصد لوگوں پر واضح ہوں۔ ان کی اسی سوچ اور بے لوث جذبے کے باعث ایک کیلینڈر کی اشاعت ممکن ہوئی ۔چشم دید گواہ یوں بیان کرتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب اپنے کنگ ایڈورڈ کالج کے سائیکل اسٹینڈ پر کیلینڈر فروخت کیا کرتے تھے اور اس کیلینڈر کی وجہ سے ملک بھر میں آئی ایس او پاکستان کی پہچان ہوئی۔آئی ایس او پاکستان ایک ایسی طلباءتنظیم ہے کہ جس کے سب ممبران طالب علم ہوتے ہیں۔ اس طلباءتنظیم کے ممبران جہاں تعلیمی اداروں میں حصول علم کے لئے کوشاں رہتے ہیں وہیں وہ اس تنظیم کے پلیٹ فارم سے سماجی اور ملّی خدمات انجام دےتے ہیں ۔

ان خدمات کی انجام دہی میں نہ صرف برادران بلکہ آئی ایس او پاکستان شعبہ طالبات میں شامل خواہران بھی حصہ لیتی ہیں۔ آئی ایس او پاکستان کی اس47سالہ کامیابی کی ایک وجہ اس کا مضبوط اور مستحکم انتظامی نظام ہے۔ مقامی یونٹ سے لے کر مرکزی صدر تک کا انتخاب اس تنظیم میں رائج مثالی جمہوری نظام کے ذریعے انجام پاتا ہے اور اس سلسلے میں ممبران آزادانہ طور پر اپنا حق رائے شماری استعمال کرتے ہیں اور منتخب ہونے والے افراد تنظیمی دستور العمل میں طے کئے گئے الہٰی معیارات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اس الہٰی کارواں کو آگے بڑھاتے ہیں۔آئی ایس او پاکستان کا تنظیمی سفر مختلف نشیب و فراز سے گزرتا رہا ہے اور اس کارواں کو ہر زمانے میں سازشوں کا سامنا کر نا پڑا ہے۔ لیکن اس تنظیم کے با ہمت لوگوں نے ہمیشہ حکمت اور تدبیر کے ساتھ ملکی سلامتی اور وقار کو قائم رکھتے ہوئے ٹھوس اور اصولی موقف اختیار کیا ہے۔ اس تنظیم کے افراد نے اعلیٰ اور ارفع مقاصد کے حصول اور خداوندمتعال کی خوشنودی کے لئے سرتسلیم خم کرتے ہوئے اپنے لہو سے شمعیں روشن کی ہیں اور ان شہداءحق کی قربانیوں کی بدولت یہ کارواں ایک تناور درخت کی صورت اختیار کر گیا ہے اور اس تناور درخت سے اس ملک اور ملت کا ہر طالب علم فیض پا رہا ہے۔

یوں تو ان شہداءکی فہرست بہت طویل ہے لیکن ان میں سے چند نمایاں نام شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی ؒ، شہید راجہ اقبال ، شہید تنصیر حیدر ، شہید ڈاکٹر قیصر صیال اور وہ شہیدان حق کے جو اس مملکت خداد کے مختلف حصوں میں دشمنان دین کے ہاتھوں شہید ہوتے رہے ہیں ۔آئی ایس او پاکستان نے نہ صرف ملت جعفریہ کے حقوق کی آواز اٹھائی بلکہ اس کارواں نے امت محمدیہ پر ہونے والے ہر ظلم کے خلاف آواز بلند کی اور اس کی خاطر عملی اقدامات بھی کئے اور یہ اقدامات صرف ملکی نہیں بلکہ اس دنیا میں بسنے والے تمام مسلمانوں کے لئے تھے۔ آئی ایس او پاکستان نے مسلمانوں پر ہونے والے ہر ظلم کے خلاف آواز اٹھائی چاہے وہ فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ ہو یا لبنان، عراق اور ایران کے مسلمانوں پر زیادتی کا یا بوسنیا کے مسلمانوں پر توڑے جانے والے مظالم کا آئی ایس او پاکستان نے سب سے آگے بڑھتے ہوئے نہ صرف آواز احتجاج بلند کی بلکہ عملی طور پر بھی خود کو پیش کیا۔

یہ خبر بھی پڑھیں :بائیس مئی یوم تاسیس آئی ایس او، شہداء کے خون سے تجدید وفا کا دن ہے

آج بھی مشرق وسطیٰ میں جاری بیداری کی تحریکوں کو دبانے کے لئے جو استعماری حربے استعمال کئے جا رہے ہیں اس کے خلاف بھی آئی ایس او پاکستان ہر سطح پر صدائے احتجاج بلند کر رہی ہے ۔ اسکی واضح مثال آئی ایس او پاکستان کی شروع کردہ تحریک” تحریک حمایت مظلومین“ جہاں ہے۔آئی ایس او نے طا لبعلموں کے تعلیمی مسائل اور ان کی تعلیمی رہنمائی کے ساتھ ساتھ ان کی فکر ی عملی روحانی اور جسمانی تر بیت کا بھی خا ص خیال رکھا ہے اور انکی اس تر بیت کے لئے گزشتہ ۴۷ سالوں میں سینکڑوں ورک شاپس ، سیمینار ز ، اسکاؤٹ کیمپس کنوینشن اور تربیتی نشستوں کے ساتھ ساتھ پکنک کا اہتمام کیا ہے ۔اور ہر سال یہ سلسلہ متوا تر جا ری ۔ ملک میں مو جو د طلبہ تنظیموں کے درمیان ہو نے والے فسادات اور جھگڑوں کے حل اور تعلیمی ادا روں کے ماحول کو بہتر بنانے کے لئے تمام طلبہ تنظیموں پر مشتمل ”متحدہ طلباء‘محاذ ‘ میں بھی آئی ایس او نے ہمیشہ فعال کر دار ادا کیا ہے اور ما ضی میں کئی بار اس اتحاد کی سر بر اہی بھی آئی ایس او کے پاس رہی ہے ۔آئی ایس اونے ہزا روں نوجوان طالب علموں، بر ادران اور خوا ہران کوبلا تفریق رنگ و نسل اور علاقہ و زبان یکساں طور پر اپنے وجو د کی بر کات سے مستفید کیا ہے ۔ نوجوانوں کی تعلیمی تر قی کے لئے بیش بہا خدمات انجام دی ہیں اور ان کی اخلاقی روحانی اور دینی تر بیت میں حائل مشکلات سے گزر کر انکی تر بیت کی ہے ۔ کا لجز اور یو نیورسٹییز کے فا سد اور فتنہ پر ور ماحول میں نو جوانوں کی اصلاح اور تربیت کے ایسے پرو گرام منعقد کئے ہیں کہ والدین اپنی اولاد پر فخر کرتے ہیں ۔ یہ تنظیم نئی اور آنے والی نسل کو مذہب حق سےروشناس کرانے میں اپنا کر دا رادا کر تی رہے گی تاکہ آنے والی نسلیں اپنے دینی فر ائض انجام دیتی رہیں اور یہ قوم اپنا اصل مقصد حاصل کر ے اور ہر قسم کی زنجیز کو تو ڑ کر ولایت فقیہ کے زیر سایہ اور رہنمائی امام زمانہ ؑ میں آنے والے الٰہی انقلاب کے لئے عمل پیرا رہیں پر ور دگار سے دعا ہے کہ خدا ہماری تو فیقات میں اضافہ فرمائے۔آمین

بڑھتے رہیں یوں ہی قد م حّی علیٰ خیر العمل

تحریر: سید علی عابدی

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close