اہم ترین خبریںمقالہ جات

مذہبی رواداری کا آنکھوں دیکھا منظر || عمیر دبیر

ایک طرف سب دعا گو ہیں کہ کراچی میں فرقہ وارانہ فسادات نہ ہوں وہیں کوئی نہ کوئی اپنا کام دکھانے کی کوشش بھی کرتا ہے، مگر قدرت بھی ہمیشہ اُس کی شرانگیزی کو ہمیشہ ناکام کردیتی ہے۔

شیعیت نیوز: ویسے تو ان دنوں کراچی میں فرقہ وارانہ کشیدگی کی لگی آگ کے کہیں نہ کہیں اثرات نظر آرہے ہیں، مولانا عادل خان کی شہادت اور مولانا مفتی عبداللہ پر اکتیس اکتوبر کے روز ہونے والے حملے کے بعد اس آگ کی تپش مزید بڑھ گئی۔

ایک طرف سب دعا گو ہیں کہ کراچی میں فرقہ وارانہ فسادات نہ ہوں وہیں کوئی نہ کوئی اپنا کام دکھانے کی کوشش بھی کرتا ہے، مگر قدرت بھی ہمیشہ اُس کی شرانگیزی کو ہمیشہ ناکام کردیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات میں سینکڑوں شیعہ مسلمانوں کی جبری گمشدگی، پاکستان کو معاشی طور پر نقصان پہنچانے کی سازش کا انکشاف

فرانس میں گستاخانہ خاکوں اور فرانسیسی صدر میکرون کے متعصبانہ بیانات کے بعد اور موجودہ صورت حال کو دیکھ کر مجھے ایک عجیب سا خوف محسوس ہورہا تھا مگر خدا کا شکر ہے کہ وہ خوف غلط اور بلاوجہ کا ثابت ہوا۔

فرانسیسی صدر کے خلاف آج اتوار کے روز تقریباً ہر مذہبی اور سیاسی جماعت نے ریلی نکالی، بیشتر ریلیوں نے پریس کلب کا رخ کیا جبکہ جماعت اسلامی کراچی نے نمائش سے سی بریز تک مارچ کیا۔

دوسری طرف اسلامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور شیعہ مذہبی جماعتوں نے بھی آج فرانس کے خلاف ریلی نکالنے اور ایمبسی جانے کا اعلان کیا تھا، جسے پولیس نے روکنے کے لیے مستعد اہلکار تعینات کیے۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل سے ناجائز تعلقات استوار کر کے سعودی اور امارات اپنے اہداف حاصل کر سکیں گے؟

سب اس بات کے منتظر تھے کہ ریلی آگے بڑھے اور شیلنگ شروع ہو مگر قدرت نے کچھ اور ہی لکھا تھا، شیعہ علمائے کرام اور آئی ایس او کے ذمہ داران نے پولیس کے اعلیٰ حکام سے بات کی جس کے بعد ریلی کو نمائش سے مارچ کی اجازت ملی۔

ابھی ریلی کے منتظمین نے بات کی ہی تھی کہ اسی اثنا جماعت اسلامی کراچی کی ریلی بھی نمائش پہنچ گئی۔

خدشہ تھا کہ کہیں کچھ معاملہ گڑ بڑھ نہ ہوجائے مگر جماعت اسلامی کے منتظمین نے آئی ایس او کی ریلی کا پرتپاک استقبال کیا، اُن کے لیے نعرے لگائے اور شیعہ مذہبی تنظیموں کا اس معاملے پر نکلنے کے لیے شکریہ بھی ادا کیا اور اُن کے نعروں کا بھرپور جواب دیا۔

یہ بھی پڑھیں: مفتی عبداللہ پر حملے میں بھی ڈاکٹر عادل خان پر حملے میں ملوث دیوبند دہشت گرد نکلے

یہ واقعہ بیان کرنے کا مقصد دنیا کو یہ بتانا تھا کہ دیکھو کراچی میں جو رواداری اور برداشت کا بیج 30 سال پہلے بویا گیا تھا آج وہ اچھا اور مضبوط درخت بن چکا ہے جو پھل تو نہیں دیتا مگر کڑی دھوپ میں سایہ ضرور دیتا ہے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close