اہم ترین خبریںلبنان

اسرائیل اپنی عمر کے 80 سال تک نہ پہنچنے پر گھبراہٹ کا شکار ہے ۔ سید حسن نصراللہ

شیعت نیوز : لبنان کی اسلامی مزاحمتی فورس حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے آج نیمۂ شعبان کی بابرکت شب اور اس کے فضائل کے بارے اپنے خطاب میں مختلف ادیان میں موجود امام زمانہؑ کے ظہور کے عقیدے پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو اپنی سیاسی بقاء پر تشویش ہے اور اپنی عمر کے 80 سال سے کم رہ جانے کے امکان پر گھبراہٹ کا شکار ہے۔

انہوں نے عراق کے جلیل القدر عالم دین آیت اللہ شہید باقر الصدر اور ان کی ہمشیرہ جناب بنت الہدیٰ کے صدام کے ہاتھوں شہید کئے جانے کی سالگرہ کے حوالے سے امت مسلمہ کو تسلیت پیش کی اور کہا کہ آیت اللہ شہید باقر الصدر ایک اسلامی فلسفی، مفکر اور مرجع تھے۔

یہ بھی پڑھیں : قاسم سلیمانی کے قریبی ساتھی، حزب الله لبنان کے رکن علی محمد یونس شہید

انہوں نے کہا کہ جب ایران میں اسلامی انقلاب کامیاب ہوا تو شہید آیت اللہ باقر الصدر نے کہا کہ امام خمینیؒ نے انبیاء علیہم السلام کی آرزوؤں کو عملی جامہ پہنا دیا ہے۔ سید حسن نصراللہ نے شہید باقر الصدر کے اس جملے کی طرف بھی اشارہ کیا کہ امام خمینیؒ کی شخصیت میں ایسے ضم ہو جاؤ جیسے وہ اسلام کے اندر ضم ہوچکے تھے۔

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے شبِ نیمۂ شعبان کی فضیلت بیان کرتے ہوئے حضرت امام جعفر الصادق علیہ السلام کا یہ فرمان دہرایا کہ شبِ نیمۂ شعبان لیالی القدر کے بعد سب راتوں سے زیادہ بابرکت رات ہے، جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مومنین کو چاہیئے کہ اس رات کو اس کے مخصوص اعمال، نماز، قرآن کریم کی تلاوت اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں استغفار میں مصروف رہ کر بسر کریں۔

سید حسن نصراللہ نے اس شب حضرت امام زمانہؑ کی ولادت کی سالگرہ کے حوالے سے کہا کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ائمہؑ معصومین سے روایات نقل ہوئی ہیں کہ امام زمانہؑ اپنے ظہور کے بعد دنیا کو عدل و انصاف اور پیار و محبت سے ایسے بھر دیں گے، جیسے وہ ان کے ظہور سے قبل ظلم و جور سے بھری ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ انسانیت کے مُنجی پر اعتقاد صرف مسلمانوں کے درمیان ہی نہیں بلکہ عیسائیوں کے درمیان بھی پایا جاتا ہے، کیونکہ وہ حضرت عیسیؑ بن مریمؑ کی رجعت کا عقیدہ رکھتے ہیں۔

سید مقاومت نے امام زمانہؑ کی شب ولادت کی مناسبت سے اس دنیا میں امام زمانہؑ کی ولادت کو الہیٰ وعدے کے پورے ہونے کی الٹی گنتی کا نکتۂ آغاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسانیت کے مُنجی کا عقیدہ تمام آسمانی کتب میں پایا جاتا ہے، جیسا کہ آج یہودیوں کے بہت سے خاخام بھی امام زمانہؑ کے ظہور کے منتظر ہیں۔

سید حسن نصراللہ نے غاصب صیہونی حکومت (اسرائیل) پر لاحق امام زمانہؑ کے ظہور کے خوف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج مقبوضہ فلسطین پر غاصب صیہونی حکومت(اسرائیل) قابض ہے، جو اپنی سیاسی بقاء پر تشویش اور اپنی عمر کے 80 سال سے کم رہ جانے کے امکان پر گھبراہٹ کا شکار ہے ۔

انہوں نے آخر الزماں کے بارے میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد بعض سیاسی دھڑوں کی طرف سے اپنے مفاد کے لئے گھڑی گئی روایات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ملاحم و فتن کی روایات (جو پیشینگوئیوں پر مشمل ہیں) اور اسرائیلیات (جو یہودی ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں) جعلی اور خطرناک ہیں، لہٰذا سوشل میڈیا پر نشر کی جانے والی ہر روایت کو بغیر تحقیق و غور و خوض کے قابل اعتناء نہیں جاننا چاہیئے اور نہ ہی انہیں دوسروں کے لئے نقل یا منتشر کیا جانا چاہیئے۔

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے موجود عالمی انسانی بحران اور جنگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنگیں، وبا اور کورونا وائرس بہت سی انحرافی آئیڈیالوجیز (گمراہ نظریات) کے خاتمے کا سبب بنیں گے، لہٰذا کورونا وائرس کے بعد کی دنیا بہت سی اخلاقی برائیوں سے پاک ہوگی، جس کی ایک مثال فرانسیسی حکام کی یہ تجویز ہے، جس میں وہ کہتے ہیں کہ کورونا وائرس کی ادویات اور ویکسین کا تجربہ افریقہ کے باسیوں پر کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ہمیں اپنی تمام ذمہ داریوں پر عمل کرنا چاہیئے اور ساتھ ہی ساتھ انسانیت کو بھی نہیں بھولنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ اس مشکل گھڑی سے نجات حاصل کرنے کے لئے موذی وبا کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے بیان کئے گئے احتیاطی طریقوں پر عملدرآمد کیا جانا چاہیئے۔

 

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close