مقالہ جات

اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات، نتائج اور اثرات

اسرائیل کو درپیش بنیادی مسائل میں طبقاتی شکاف، سیکورٹی خطرات اور مذہبی شدت پسندی سرفہرست ہیں

شیعت نیوز: ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل میں ایک ہی سال کے اندر یہ دوسرے پارلیمانی انتخابات ہیں۔ اسی سال اپریل کے مہینے میں منعقد ہونے والے انتخابات میں کوئی سیاسی جماعت واضح اکثریت حاصل نہیں کرسکی تھی۔ موجودہ وزیراعظم چھوٹی جماعتوں کو ساتھ ملا کر عددی اعتبار سے سادہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا لیکن حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہنے پر ناجائز صہیونی ریاست کی پارلیمان نے انتخابات دوبارہ کروانے کے حق میں رائے دی تھی۔

17 ستمبر کو ہونے والے حالیہ انتخابات میں نشستوں کی برتری کے لحاظ سے صورتحال اپریل کے انتخابات سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔ سابق صہیونی آرمی چیف (ر) لفٹیننٹ جنرل benny gantz کی نیلی اور سفید پارٹی 120 نشستوں کی پارلیمان میں سے 33 نشستوں کے ساتھ سرفہرست، موجودہ وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو کی likud پارٹی 32 نشستوں کے ساتھ دوسرے جبکہ یونائیٹڈ عرب لسٹ پارٹی 11 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ اسی طرح شاس پارٹی 9، دی جیوش ہوم 9، یونائٹیڈ توراہ یہودیت 8، یونین آف رائٹ ونگز پارٹی 7، gesher پارٹی 6 اور جمہوری اتحاد 5 نشتوں کے ساتھ بالترتیب بعد والے نمبروں پر ہیں۔

دائیں اور بائیں بازو کی ہم خیال جماعتوں کے ممکنہ اتحاد کی نشستیں ملائیں تو سابق صہیونی آرمی چیف banny gantz کے ہم خیال گروپ کے پاس کل ملا کر 56 جبکہ موجودہ صہیونی وزیراعظم نتن یاہو کے ہم خیال گروپ کی کل ملاکر 55 نشستیں بنتی ہیں۔ جو کہ حکومت بنانے کے لیے ضروری 61 نشستوں سے کم ہیں۔ ایسے میں سابق اسرائیلی وزیر دفاع Avigdor Lieberman کی پارٹی the Jewish home کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

ناجائز صہیونی ریاست کی نئی حکومت کا تعین اب Lieberman کے ہاتھ میں ہے۔ Lieberman جس ہم خیال گروپ کے ساتھ الحاق کر لے گا ظاہراً وہی گروپ حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ lieberman ایک مشترکہ قومی حکومت کا خواہاں ہے۔ اس نے اپنی انتخابی کمپین کے دوران جہاں گذشتہ چار دفعہ وزیراعظم رہنے والے نتن یاہو کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے وہیں ناجائز صہیونی ریاست کے مسائل کے حل کے لیے مشترکہ قومی حکومت کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔

بلکہ گذشتہ روز Lieberman نے ایک اخباری بیان کے ذریعے عددی برتری کی حامل دونوں جماعتوں کو متنبہ کیا ہے کہ مشترکہ قومی حکومت کی تشکیل کی خواہش کے علاوہ کسی دوسری خواہش کے لیے کوئی سیاسی گروپ اس سے رابطہ نہ کرے۔حالیہ انتخابات میں نشستیں حاصل کرنے والی اکثر جماعتیں انتخابی کمپین کے دوران ایک دوسرے کے خلاف اسرائیلی تاریخ کے بدترین الزامات لگا چکی ہیں اور انتخابات میں فتح کی صورت میں مخالفین کے خلاف عدالتی کاروائی کا وعدہ کر چکی ہیں۔ نظریاتی طور پر بھی مختلف جماعتوں کے ایک دوسرے سے شدید اختلافات ہیں جن میں اپریل کے انتخابات کے بعد مزید اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مظلوموں کا خوف ظالموں ہر : نیتن یاھو بنکروں میں چھپنے پر مجبور

ایسے میں بعید نظر آتا ہے کہ موجودہ صورتحال میں یہ جماعتیں آسانی کے ساتھ کسی اتفاق رائے پر پہنچ سکیں اور ناجائز صہیونی ریاست میں موجود سیاسی عدم استحکام کا خاتمہ ہوسکے۔ ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کے صدر Reuven Rivlin نے کہا ہے کہ وہ حکومت کی تشکیل کے حوالے سے اتفاق رائے کے حصول کی حتی الامکان کوشش کریں گے۔حالیہ نتائج پر اگر دقت کریں تو معلوم ہوتا ہے اسرائیل میں سیکولر جماعتوں کے ووٹ بنک میں نسبتاً اضافہ ہوا ہے۔ ووٹ چھوٹی جماعتوں میں تقسیم ہوا ہے جو حکومت میں رہنے والی بڑی جماعتوں پر عدم اعتماد اور سیاسی افکار میں انتشار کی علامت ہے۔

اسرائیل کو درپیش بنیادی مسائل میں طبقاتی شکاف، سیکورٹی خطرات اور مذہبی شدت پسندی سرفہرست ہیں۔ انتخابی کمپین کے دوران متعدد اسرائیلی اخبارات کی جانب سے کئے جانے والے سروے میں زیادہ تر سوالات کا تعلق انہی تین موضوعات سے تھا۔حالیہ انتخابات کے نتائج اسرائیل کی خارجہ پالیسی پر بہت زیادہ اثرانداز نہیں ہوں گے کیونکہ اس بات پر تقریباً تمام صہیونی رہنما متفق ہیں کہ ناجائز صہیونی ریاست کی سیکورٹی کو مضبوط کرنا ان کی پہلی ترجیح ہوگی اور اس حوالے سے فلسطینیوں کی سرکوبی سمیت مغربی و عربی طاقتوں کی حمایت کے حصول کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔ حکومت جس کی بھی بنے اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور فلسطینوں کی سرزمینوں پر قبضے کا سلسلہ جاری رہے گا۔

ناجائز صہیونی ریاست کے زیر تسلط اردن اور شام کے علاقوں پر اسرائیل اپنا حق مالکیت جتاتا اور موقع ملنے پر ان علاقوں کے اسرائیل کے ساتھ الحاق کی کوشش کرتا رہے گا۔حالیہ انتخابات کے نتائج میں 11 نشستیں حاصل کرنے والی یونائٹڈ عرب لسٹ پارٹی شاید وہ واحد پارٹی ہے جو سابقہ صہیونی حکومتوں کے توسیع پسندانہ عزائم کی نسبتاً مخالف اور فلسطینیوں کے ساتھ مسائل کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی بات کرتی ہے۔ یہ اپنی تشکیل سے حالیہ انتخابات تک کبھی حکومت کا حصہ نہیں رہی اور یہ پہلی بار ہے کہ یہ پارٹی نئی حکومت کی تشکیل میں اثر انداز ہوگی۔ناجائز صہیونی ریاست کے حالیہ پارلیمانی انتخابات صہیونی رہنماؤں کے لیے ایک جنگ کی حیثیت رکھتے تھے۔

ایک طرف مذہبی شدت پسند اور قدامت پرست سیاسی گروپ تو دوسری طرف سیکولر اور آزاد خیال سیاسی گروپ تھے۔ ناجائز صہیونی ریاست کا دفاع اور توسیع پسندی ان تمام جماعتوں کے درمیان نکتہ اشتراک ہے چاہے اس کے لیے انہیں فلسطینیوں کی نسل کشی ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ یہ میرا دعوی نہیں بلکہ ناجائز صہیونی ریاست کی تقریبا تمام سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشور کا حصہ تھا اور benny gantz سمیت اکثر سیاسی رہنما الیکشن کمپین کے دوران اپنے دور اقتدار میں فلسطینیوں کی نسل کشی کو فخریہ طور پر پیش کرتے نظر آئے ہیں۔ ناجائز صہیونی ریاست کے حالیہ انتخابات اسرائیل میں سیاسی عدم استحکام کے خاتمے میں کوئی بڑی مدد نہیں کرسکیں گے بلکہ صورتحال تقریباً ویسی ہے رہے گی جیسے اپریل کے انتخابات کے بعد تھی۔

اگر کوئی مشترکہ قومی یا اتحادی حکومت بنتی ہے تو وہ ایک غیر مستحکم اور منتشر حکومت ہوگی جو ناجائز صہیونی ریاست کے داخلی مسائل کے حل کے لیے طویل المدت حکمت عملی اپنانے سے قاصر رہے گی۔ ناکامی چھپانے اور کم سے کم عوامی اعتماد بحال رکھنے کے لیے اسے فلسطینیوں اور دیگر ہمسایوں کے ساتھ جنگ کی صورتحال بنائے رکھنا ہوگی بالکل ویسے ہی جیسے انتخابات سے قبل بلکہ اپنے تمام دور اقتدار میں موجودہ اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے اپنی کم ہوتی مقبولیت کو سہارا دینے کے لیے کبھی شام پر فضائی حملے کئے تو کبھی لبنان میں مداخلت کی تو کبھی عراقی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

تحریر۔۔۔ڈاکٹر سید ابن حسن

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close