دنیا

اسرائیل کے ساتھ مغربی کنارے کا الحاق تیسرے انتفاضے کو جنم دے گا۔ جنرل میخائیل میلنسٹائن

شیعت نیوز: اسرائیلی فوج کے ایک جنرل میخائیل میلنسٹائن نے مزید فلسطینی سرزمین کو اسرائیل کے ساتھ ملحق کرنے کے فیصلے پر صیہونی حکومت کو خبردار کیا ہے۔

صیہونی جنرل میخائیل میلنسٹائن نے اسرائیلی حکومت کی جانب سے مزید 30 فیصد فلسطینی اراضی کو اسرائیل کے ساتھ ملحق کرنے کے فیصلے پر روشنی ڈالتے ہوئے تاکید کی ہے کہ اس حوالے سے فلسطین میں آنے والی تازہ تبدیلیاں خصوصا فلسطینی حکومت کی طرف سے تل ابیب کے ساتھ موجود معاہدوں پر عدم عملدرآمد موجودہ بُرے حالات کو مزید گھمبیر کر دیں گی۔

تل ابیب یونیورسٹی کے موشے دایان مطالعاتی مرکز برائے مشرق وسطیٰ و افریقہ نامی تھنک ٹینک کے چیئرمین جنرل میخائیل میلنسٹائن نے صیہونی اخبار یدیعوت آہارانوت کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ رام اللہ اپنے اقدامات کے ذریعے اسرائیل پر موجود بین الاقوامی دباؤ کو مزید بڑھانا چاہتا ہے تاکہ مغربی کنارے کے اسرائیل کے ساتھ یکطرفہ الحاق کی صورت میں وجود میں آنے والی تبدیلی کو روک سکے۔

یہ بھی پڑھیں : غاصب اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے ایک اور فلسطینی نوجوان شہید

عرب ای مجلے رأی الیوم کے مطابق جنرل میخائیل میلنسٹائن نے کہا کہ نئی صورتحال میں فلسطینی حکومت کی طرف سے پیش کئے جانے والے منصوبے بنیادی مشکل نہیں بلکہ (فلسطینی اراضی پر مزید قبضے کے) اسرائیلی اقدام پر فلسطینی قوم کا ردعمل اصلی مسئلہ ہے۔ صیہونی جنرل نے کہا کہ آج فلسطینی قوم ماضی کے کسی بھی زمانے سے بڑھ کر میدان میں حاضر ہے اور یہی اصلی چیلنج ہے۔

صیہونی تھنک ٹینک مطالعاتی مرکز برائے مشرق وسطی و افریقہ (MDC) کے سربراہ نے کہا کہ تل ابیب کے ساتھ طے شدہ معاہدوں کو رام اللہ کی جانب سے کالعدم قرار دیئے جانے کا غلط مطلب سمجھا گیا ہے۔

صیہونی جنرل نے کہا کہ فلسطینی حکومت کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ موجود معاہدوں پر عدم عملدرآمد کو فلسطین کے خلاف مزید تشدد روا رکھے جانے کے لئے گرین سگنل سمجھا جا رہا ہے تاہم یہ مسئلہ فلسطینی قوم کو اسرائیل کے خلاف مزید مسلح حملوں پر اُکسائے گا۔

صیہونی جنرل نے کہا کہ مغربی کنارے کو اسرائیل کے ساتھ ملحق کرنے کا اقدام فلسطینی قوم کے اسرائیل کے خلاف تیسرے انتفاضے کے وجود میں آنے کا باعث بنے گا۔

واضح رہے کہ موجودہ صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور اسرائیلی پارٹی سفید-نیلی (White-Blue) کے سربراہ بینی گینٹز کے درمیان ماہ جولائی کے شروع میں فلسطینی علاقے مغربی کنارے کے وسیع حصے کو اسرائیل کے ساتھ ملحق کرنے پر اتفاق ہو چکا ہے جس میں نہ صرف مغربی کنارے میں موجود غیرقانونی صیہونی بستیاں بلکہ درۂ اردن کا علاقہ بھی شامل ہے۔

یاد رہے کہ اس صیہونی فیصلے کے جواب میں فلسطینی حکومت کی جانب سے اسرائیل و امریکہ کے ساتھ موجود تمام معاہدوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close