لبنان

اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانا اسلام سے خیانت ہے، شیخ ماہر حمود

علماء مقاومت یونین کے جنرل سیکرٹری نے کہا: ہمیں مسئلہ فلسطین پر ثابت قدم رہتے ہوئے اپنی صفوں کے اندر اتحاد و وحدت کو مضبوط کرنا چاہیے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، علمائے مقاومت یونین کے جنرل سیکرٹری شیخ ماہر حمود نے تہران میں منعقدہ 34ویں بین الاقوامی ورچوئل وحدت کانفرس میں مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کرونا مصیبت کو امتحان الٰہی قرار دیا ہے اور کہا کہ ہمیں مصائب میں صبر کا دامن تھامنا چاہیے اور خدا کے ارادے کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر چہ کرونا وائرس بہت بے رحم ہے اور اس کی وجہ سے ہمارے بہت سارے دوست موت کی آغوش میں چلے گئے ہیں لیکن امریکہ، اسرائیل اور ان کے حامیوں کے خطرات اس بیماری سے بھی زیادہ ہیں اور اس قسم کی کانفرنس میں ہمیں ان خطرات کو بیان کرنا چاہیے۔

شیخ ماہر حمود نے انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کی کامیابیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مسئلہ فلسطین کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مسئلہ فلسطین پر ثابت قدم رہتے ہوئے اپنے درمیان اتحاد و وحدت کے رشتے کو مضبوط بنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ اسرئیل آخرکار نابود ہو گا۔

علماء مقاومت یونین کے جنرل سیکرٹری نے متحدہ عرب امارات اور بحرین کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کے اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات عرب ممالک سے خیانت ہیں۔ ہم ان کی خدمت میں عرض کرتے ہیں اور خبردار کرتے ہیں کہ یہ کام کرنے والے آخرت سےپہلے اس دنیا میں ہی ذلیل و خوار ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے اقدامات کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور یہ مزاحمت اسلامی کی راہ میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کر سکتے اور اسرائیل کو نابودی سے بھی نہیں بچا سکتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم صیہونی دشمنوں کے مقابلے میں متحد ہو جائیں کیونکہ ارادہ خداوندی کے سامنے یہودیوں کی طاقت ہیچ ہے۔ ہم نے غزہ اور لبنان میں اسرائیل کو شکست دی ہے اور شام، یمن اور عراق میں امریکہ کی برتری کی قلعی کھل گئی ہے۔ پروردگار عالم کے اذن سے ہمیں دشمن پر فتح نصیب ہو گی۔ اس لیے ہمیں دشمن کے مقابلے میں اپنے آپ کو کمزور نہیں سمجھنا چاہیے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close