اہم ترین خبریںشیعت نیوز اسپیشل

اسرائیل وامریکا کی روس کے ساتھ یروشلم میں بیٹھک

اصل میں اس سہ طرفہ اعلیٰ ترین سیکیورٹی حکام کے سربراہی اجلاس کا ہدف ایک ہی ہے کہ اسرائیل فلسطین پر مکمل قبضے کی راہ میں واحد رکاوٹ ایران کے خلاف امریکا کی طرح روس کو بھی اپنا ہمنوا بنانا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل جن مسلح مزاحمتی تحریکوں سے خوفزدہ ہے انکو ایران کی سرپرستی، مدد و حمایت حاصل ہے

تحریر : عمارحیدری شیعت نیوز اسپیشل جس وقت یہ سطور آپ پڑھ رہے ہیں، مقبوضہ یروشلم (بیت المقدس) میں جعلی ریاست اسرائیل کی میزبانی میں امریکا، روس اور زایونسٹ نسل پرست اسرائیل کے اعلیٰ ترین سیکیورٹی حکام کی سربراہی بیٹھک ہورہی ہے۔ یہ نشست ایران کی جانب سے امریکی جاسوس ڈرون طیارہ مارگرائے جانے سے پہلے ہی طے پاچکی تھی۔

اس سے قبل اسرائیلی حکام نے روس اور امریکا کے دورے کرکے اس کے ایجنڈا کو ترتیب دے دیا تھا۔امریکا کے زایونسٹ انتہاپسند جون بولٹن جو نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر(مشیر برائے امور قومی سلامتی) ہیں، وہ ہفتہ کے روز وہاں پہنچ چکے تھے۔

اصل میں اس سہ طرفہ اعلیٰ ترین سیکیورٹی حکام کے سربراہی اجلاس کا ہدف ایک ہی ہے کہ اسرائیل فلسطین پر مکمل قبضے کی راہ میں واحد رکاوٹ ایران کے خلاف امریکا کی طرح روس کو بھی اپنا ہمنوا بنانا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل جن مسلح مزاحمتی تحریکوں سے خوفزدہ ہے انکو ایران کی سرپرستی، مدد و حمایت حاصل ہے

اسرائیل کے میئر بن شبات اور روس کے نکولائی پٹروشیف اور بولٹن پر مشتمل سہ فریقی اجلاس خاص طور پر شام کے ایشو پر تبادلہ خیال ہے لیکن اس اجلاس میں شام سمیت پورے خطے میں ایران کے کردار اور خلیج فارس میں حالیہ کشیدگی پر امریکا اور اسرائیل کے اعتراضات اور خدشات پر روس کو ہم خیال بنانا اس اجلاس کا اصل مقصد ہے۔

لیکن ایک اور اہم ترین اتفاق یہ ہے کہ روس کے ساتھ اسرائیل اور امریکا کی یہ بیٹھک، بحرین میں ہونے والی دوروزہ بیٹھک کے آغاز سے ایک دن پہلے ہورہی ہے۔ گوکہ بحرین کی ورکشاپ فلسطین کی نابودی پر مبنی نام نہاد ڈیل آف دی سینچری کے اقتصادی پہلو وؤں پر اتفاق رائے کے لئے بلائی جارہی ہے اور روس نے اس میں شرکت سے انکار کیا ہے لیکن یروشلم میں اسکا زیر بحث آنا بھی خارج از امکان نہیں قرار دیا جاسکتا۔

اصل میں اس سہ طرفہ اعلیٰ ترین سیکیورٹی حکام کے سربراہی اجلاس کا ہدف ایک ہی ہے کہ اسرائیل فلسطین پر مکمل قبضے کی راہ میں واحد رکاوٹ ایران کے خلاف امریکا کی طرح روس کو بھی اپنا ہمنوا بنانا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل جن مسلح مزاحمتی تحریکوں سے خوفزدہ ہے انکو ایرن کی سرپرستی، مدد و حمایت حاصل ہے۔

جب سے روس بشار الاسد حکومت کا اتحادی بن کر شام میں موجود ہے تب سے اسرئیل اور امریکا روس پر زیادہ مہربان دکھائی دے رہے ہیں اور صرف یہ دونوں ہی نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ کی بہت سی عرب حکومتیں جو امریکی بلاک کا حصہ ہیں، انہوں نے بھی روس کے ساتھ قربتوں میں اضافہ کردیا ہے۔ اور یہ سبھی ایک نئے منصوبے پر کام کررہے ہیں کہ کسی طرح روس،امریکا اور برطانیہ کے ساتھ مل کر ویسی ہی مثلث بنالے جیسی دوسری جنگ عظیم کے دوران یورپی ممالک کی بعد از جنگ قسمت کے فیصلے کرنے اس وقت سوویت یونین کے شہر یالٹا میں جمع ہوئے تھے اسی طرح کوئی یالٹا دوم اجتماع ہوجہاں یہ مشرق وسطیٰ کی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لئے کسی ایک لائحہ عمل پر متفق ہو جائیں۔

مقبوضہ یروشلم کا یہ اجلاس یقینا منفی پیش رفت ہے لیکن اس اجلاس سے جو مثبت پیغام فلسطین دوست مقاومتی بلاک لے سکتے ہیں، وہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو کمتر نہ سمجھیں، سپر یا ہائی ٹیکنالوجی کی حامل بر تر طاقتوں نے روس کو اپنے ساتھ ملانے کے لئے جو کوششیں کی ہیں، یہ روس کی نہیں بلکہ یہ مقا ومت کے محور اور اسکے سربراہ ایران کی طاقت اور اثر و رسوخ کا اعتراف ہے!

امریکی حکومت خود بھی روس کو اپنا ہمنوا بنانے کے لئے اعلیٰ ترین سطح کے رابطوں اور مذاکرات میں مصروف ہے۔ امریکا روس سے نہ صرف ایران بلکہ وینزویلا کے ایشو پر بھی اختلاف رکھتا ہے۔ اسی طرح وہ یوکرین و جارجیا میں بھی روس کے کردار کا مخالف ہے۔یعنی صرف شام ایک مسئلہ نہیں ہے۔ اسرائیل کے موضوع پر ویسے ہی روس کوئی خاص مخالفت نہیں رکھتا بلکہ اسرائیل کے ساتھ اسکے اچھے تعلقات ہیں۔ یقینا روس امریکا سے جو رعایتیں چاہے گا، وہ سب سے پہلے یوکرین اور اسکے اپنے پڑوس میں ہی چاہے گا۔ پھر امریکا کے لئے وہ کس کوقربان کرے گا، یہ ہے ملین ڈالر کا سوال! صرف شام، صرف ایران، صرف وینزویلا، یا پہلے دو یا پھر تینوں؟!

ایران کا روس پر انحصار کبھی نہیں رہا۔ شام کی حد تک دونوں ممالک کی تزویراتی قربتیں ضرور ہیں۔ البتہ امریکا اور اسرائیل کا پورا زور اس بات پر ہے کہ شام میں بھی روس پر یہ باور کروایا جائے کہ شام میں اسکے اور ایران کے مفادات متصادم ہیں اور اس زاویے سے روس کو امریکا و اسرائیل کا ساتھ دینا چاہئے۔ یہاں مفادات سے انکی مراد اثر رورسوخ اور شام کے تعمیر نو کے ٹھیکے یا کاروباری تعلقات ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ روس نے اسرائیل اور امریکاکے مطالبے پر ایران کو مقبوضہ جولان سے اسی کلومیٹر دور رہنے پر آمادہ کیا ہے۔ یعنی اسرائیل اور امریکا شام میں ایران کے کردار کو کم کرنے یا ایران کی موجودگی ختم یا کم کرنے کے لئے بھی روس کا کاندھا استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

یہ ہے وہ پس منظرجس کے تناظر میں آج کا مقبوضہ یروشلم کا سہ فریقی اجلاس ہورہا ہے۔ البتہ اس خطے میں مقاومتی بلاک کی مستحکم حیثیت ہی اس بات کا باعث بنی ہے کہ اسرائیل اور امریکا روس کے ساتھ سودے بازی پر مجبور ہوئے ہیں۔ اور اس مقاومتی بلاک کی سربراہی بحیثیت ایک ریاست ایران کررہا ہے۔ مقبوضہ یروشلم کا یہ اجلاس یقینا منفی پیش رفت ہے لیکن اس اجلاس سے جو مثبت پیغام فلسطین دوست مقاومتی بلاک لے سکتے ہیں، وہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو کمتر نہ سمجھیں، سپر یا ہائی ٹیکنالوجی کی حامل بر تر طاقتوں نے روس کو اپنے ساتھ ملانے کے لئے جو کوششیں کی ہیں، یہ روس کی نہیں بلکہ یہ مقا ومت کے محور اور اسکے سربراہ ایران کی طاقت اور اثر و رسوخ کا اعتراف ہے!

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close