مقبوضہ فلسطین

اسرائیلی فوج کےحملے میں فلسطینی لڑکےکی شہادت کی عالمی تحقیقات کامطالبہ

فلسطینی اتھارٹی نے گذشتہ روز غرب اردن میں قابض اسرائیلی فوج کے ہاتھوں 18سالہ ایک فلسطینی عامر صنوبر کی بے دردی کے ساتھ شہادت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی جرم قرار دیا ہے۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں‌کہا گیا ہے کہ صنوبر کی شہادت اسرائیلی فوج کے ہاتھوں نہتے فلسطینی کاماورائے عدالت قتل ہے۔ اس مجرمانہ واقعے کی عالمی سطح پر تحقیقات کی جانی چاہئیں۔

بیان میں عالمی اداروں، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ عامر صنوبرکے قتل کے واقعے کا نوٹس لیں اور اس کے مجرمانہ قتل میں ملوث اسرائیلی فوجیوں کو قرار واقعی سزا دلائیں۔

فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس میں کل اتوار کےروز ایک دہشت گرد اسرائیلی فوجی نے نہتے فلسطینی لڑکے کو اسپتال کے باہر بے دردی کے ساتھ تشدد کرتے ہوئے شہید کردیا تھا۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق صہیونی فوجی اہلکار نے 18 سالہ فلسطینی عامر عبدالرحیم صنوبر کو اس کی گاڑی سے اتارا اور اس کی گردن پر بندوق کے بٹ مارے، جس کے نتیجے میں وہ موقعے پر دم توڑ گیا۔
یہ واقعہ رام اللہ اور نابلس کے درمیان ترمسعیا کے مقام پر پیش آیا۔

مقامی فلسطینی ذرائع نے بتایا کہ صہیونی فوجیوں نے صنوبر کی گاڑی روکی اور بغیر کسی وجہ کے اسے گھیسٹ کر باہر نکالا۔ اس کے بعد اس پر وحشیانہ تشدد شروع کردیا گیا۔ قابض‌فوجی نے اس کی گردن پر بندوق کے بٹ مارے جس کے نتیجے میں وہ بے ہوش ہوگیا۔ اسے قریب ہی فلسطین میڈیکل کمپلیکس لے جایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

ادھر فلسطینی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ شہید صنوبر کے جسم اور گردن پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ اسے بے دردی کے ساتھ تشدد کا نشانہ  بنا کر شہید کیا گیا۔

بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close