لبنان

اسرائیلی خطرے اور دھمکیوں کے باوجود لبنانی صدر کا تیل نکالنے کا اعلان

شیعت نیوز: لبنان کی طرف سے اسرائیلی سرحدوں کے قریب واقع ذخائر سے تیل نکالنے کے لئے کھدائی کا آغاز کرنے پر اسرائیل کی طرف سے حتمی خطرہ لاحق ہے لیکن لبنانی صدر نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ ہر قیمت پر اپنی سمندری حدود کا دفاع کریں گے۔ اس حوالے سے لبنانی صدر میشل عون نے اعلان کیا ہے کہ عنقریب لبنان کا شمار بھی تیل نکالنے والے ممالک کی فہرست میں ہو گا۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز لبنانی صدر نے اپنی ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ جمعرات کا روز ایک تاریخی دن ہو گا جب لبنان تیل نکالنے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا۔

عرب نیوز چینل المیادین کے مطابق لبنانی صدر میشل عون نے کہا ہے کہ تیل نکالنے کے لئے تحقیق اور کھدائی کے کام کا آغاز سال 2013ء میں ہو جانا چاہئے تھا لیکن بین الاقوامی ہوس، مجبوری میں اُٹھائے گئے فیصلے اور کچھ بیانات اس کام میں رکاوٹ بن گئے۔

یہ بھی پڑھیں : صدی معاملے میں عرب ممالک کی موجودہ صورتحال افسوسناک اور درد آور ہے۔ لبنان

لبنانی صدر نے کہا کہ جیسے ہم نے ماضی میں اپنے حقوق اور اپنی سرزمین کے ہر ایک بالشت کی حفاظت کی ہے، اب بھی ہر قیمت پر اپنی سمندری حدود کی حفاظت کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ لبنانی تیل اور گیس کے ذخائر اس ملک کی ساری عوام کا حق ہیں جبکہ اس سے حاصل ہونے والا سرمایہ ایک ایسی قومی دولت ہو گا جس کے بارے میں کوتاہی نہیں برتی جا سکتی اور نہ ہی اسے کرپٹ اور تباہ کن ہاتھوں میں سونپا جا سکتا ہے۔

لبنانی صدر نے اسرائیل کے ساتھ اپنی مشترکہ سمندری حدود میں تیل اور گیس کے ذخائر پر تحقیق اور کھدائی کا کام شروع کئے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کام ہمارے ملک کے لئے گہری کھائی سے باہر نکلنے کی سیڑھی کے مانند ہے اور ایک ایسا معرکہ جو لبنانی معیشت کو مافیا اور مفادپرست عناصر کے چنگل سے آزاد کر کے ایک ایسی پیداوار سے مالامال کر دے گا جس میں ہماری ساری عوام شریک ہو گی۔

انہوں نے اسرائیلی خطرے اور دھمکیوں کے باوجود تیل نکالنے کے لئے کھدائی اور تحقیقات کا کام شروع کئے جانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جمعرات کے روز ہر صورت یہ کام شروع کر دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ لبنان اور غاصب صیہونی رژیم اسرائیل کے درمیان سمندری حدود میں اختلاف پایا جاتا ہے اور چونکہ ان دونوں ممالک کے درمیان موجود سمندری حدود کا علاقہ گیس اور تیل کے ذخائر سے مالامال ہے، اسرائیل نے بارہا لبنان کو دھمکایا ہے کہ وہ سمندری حدود میں واقع تیل و گیس کے ذخائر سے استفادہ کرنے کی کوشش نہ کرے۔

سال 2018ء میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان بلاک نمبر 9 پر پایا جانے والا اختلاف شدت اختیار کر گیا تھا جس پر امریکہ سمیت مختلف ممالک کی ثالثی سے یہ تناؤ بالآخر کم ہو گیا۔ بلاک نمبر 9 کا انکشاف سال 2009ء میں تب ہوا جب تیل کی ایک امریکی کمپنی نے بحیرۂ روم کے مشرقی حصے میں واقع 83,000 مربع کلومیٹر پر مشتمل تیل و گیس کے ذخائر کو دریافت کر لیا جو شام، لبنان، قبرص اور مقبوضہ فلسطین (اسرائیل) کی سمندری حدود میں واقع تھے۔

بحیرۂ روم کے مشرقی حصے میں واقع لبنانی سمندری حدود کا کل رقبہ 22,000 مربع کلومیٹر ہے جبکہ اسرائیل کے ساتھ متنازعہ لبنانی سمندری حدود کا رقبہ 854 مربع کلومیٹر ہے جسکو 10 بلاکس میں تقسیم کر دیا گیا ہے جبکہ لبنان نے سال 2018ء سے تاحال کئی مرتبہ وہاں سے تیل نکالنے کیلئے کام کے آغاز کا اعلان کیا ہے لیکن ہر مرتبہ کوئی نہ کوئی مشکل اسکے آڑے آ جاتی ہے تاہم اس مرتبہ لبنانی صدر متنازعہ علاقے کے بلاک 4 اور بلاک 9 میں واقع تیل و گیس کے ذخائر سے بھرپور فائدہ اُٹھانے میں پرعزم ہیں جسکے حوالے سے یہ امکان بھی موجود ہے کہ ان ذخائر سے حاصل ہونے والی آمدن احتجاجات و ہڑتالوں سے نیم مردہ لبنانی معیشت میں ایک نئی روح پھونک دے گی۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close