اہم ترین خبریںپاکستان

اتحاد بین المسلمین وقت کی اہم ضرورت ہے، علامہ شہنشاہ حسین نقوی

علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ ہماری زندگیوں کا حاصل حب علی (ع) ہے۔

شیعت نیوز :معروف عالم دین علامہ شہنشاہ حسین نقوی ڈیرہ اسماعیل خان میں مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اتحاد بین المسلمین وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں 20 فروری 2009ء کو برپا ہونے والے سانحہ کے شہداء کی برسی مرکزی امام بارگاہ امام حسین ؑ میں نہایت عقیدت اور روحانی جذبے سے منائی گئی۔

سانحہ 20 فروری 2009ء کے شہداء کی گیارہویں برسی کے سلسلے میں مرکزی امام بارگاہ تھلہ بموں شاہ پر مجلس عزاء کا انعقاد کیا گیا۔ جس سے معروف عالم دین علامہ شہنشاہ حسین نقوی، ذاکر غلام عباس بلوچ، ذاکر عمران خادم سمیت دیگر ذاکرین نے خطاب کیا۔

علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے ڈیرہ کو شہرِ کربلا اور شہرِ فدا کاری و قربانی کا نام دیتے ہوئے کہا کہ پورے پاکستان میں 5 ایسے شہر میں جنہوں نے دین مبین کی سربلندی کیلئے اپنی جانیں دی ہیں جن میں سے ایک شہر ڈیرہ اسماعیل خان ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں سلام پیش کرتا ہوں ڈی آئی خان کے مومنین کو کہ جنہوں نے قربانیوں کی ایک داستان رقم کی، انہوں نے بتایا کہ ملک کے جس شہر میں سب سے زیادہ شہادتیں ہوئیں وہ ڈی آئی خان ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس قوم کے دلوں سے خوف نکل جائے وہ قوم میوزیم میں نہیں ملتی بلکہ میدانوں میں ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر شخص کل کی تلاش میں ہے یہ صدی ہماری ہے۔ آنے والا کل ہمارا ہے۔ ظالم کا آج ہوتا ہے، مظلوم کا ’کل‘ ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں کراچی میں زہریلی گیس سے اموات کی شفاف تحقیقات کے بعد حقائق منظرعام پر لائے جائیں، علامہ ساجد نقوی

انہوں نے اتحاد بین المسلمین پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو اور تفرقے میں نہ پڑھو ، اہلسنت ہمارے بھائی ہی نہیں بلکہ ہماری جان ہیں، کوئی محلہ کوئی شہر ایسا نہیں جہاں شیعہ سنی ایک ساتھ نہ رہتے ہوں کوئی ادارہ ایسا نہیں ہے جہاں شیعہ سنی ایک ساتھ کام نہ کرتے ہوں۔

علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے مزید کہا کہ منبر حسینی الجھنیں بڑھانے کی جگہ نہیں ہے۔ کوئی عالم یا ذاکر غلط بات کرے تو فوراً روکیں اور کہیں کہ ہمارے شہر کے حالات خراب نہ کریں۔ ہمارے درمیان الجھنیں نہ بڑھائیں، منبر پر جوڑنے کی بات کیجئے، توڑنے کی بات نہ کیجئے۔ ہماری زندگیوں کا حاصل حب علی (ع) ہے۔

علامہ شہنشاہ نقوی نے کہا کہ اپنے علماء کے بارے میں منفی باتیں، تبصرے مخالفت چھوڑ دیں۔ اگر ایک عالم آپ کو اچھا نہیں لگتا تو اس کو چھوڑ دیں، دوسرے کی طرف چلے جائیں لیکن سسٹم نہ توڑیں۔ ہمیں بریلوی عالم، دیوبندی عالم کا احترام کرنا چاہئے کیونکہ اگر عالم معاشرے میں نہیں ہوتا تو بات کس سے ہو گی؟انہوں نے کہا کہ آپس میں پیار بانٹیں، تنگ نذری ختم کریں، گھٹن کا ماحول ختم کریں، کسی مومن سے مسکرا کر بات کرنا حج بیت اللہ کے برابر ثواب ہے، اس طرح لڑائی جھگڑے ختم ہو جائیں گے، تناؤ ختم ہوجائیگا۔

واضح رہے کہ 20 فروری 2009ء کو شہید شیرزمان کے جنازے کے اجتماع میں کالعدم دہشتگرد تنظیم لشکر جھنگوی کے دہشتگرد نے خودکش حملہ کیا تھا، جس میں پچاس سے زائد افراد شہید ہو گئے تھے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close