اہم ترین خبریںپاکستان

73ویں یوم آزادی پربھی محب وطن شیعہ قید،جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنزکا16اگست کو گورنرہاؤس پراحتجاج کا اعلان

ان کا کہنا تھا کہ آج ریاستی اداروں کے خوف کا حال تو یہ ہے کہ وہ ایک 17 سال کے حافظ قرآن فضل عباس کاظمی جیسے دین دار و محب وطن نوجوانوں سے بھی خوفزدہ ہیں

شیعیت نیوز: جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کے رہنماؤں نے کراچی پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریاست عوام کی ماں ہوتی ہے لیکن پاکستان میں ریاستی اداروں نے ماں کا کردار ادا کرنے کے بجائے جلاد کا کردار کیا جو آئے روز دہشت گردوں کو رہا کرکے اپنے محب وطن شہریوں کو جبری طور پر گمشدہ کرتی رہتی ہے، لہذا ملت جعفریہ اتوار 16 اگست کو گورنر ہاؤس کے باہر احتجاجی مظاہرہ کرے گی، تفصیلات کے مطابق پاکستان میں بے گناہ شیعہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کام کرنے ادارے جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کے رہنماؤں نے کراچی پریس میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا اس موقع پر شیعہ لاپتہ افراد کے اہلخانہ بھی موجود تھے جنہوں نے اپنے ہاتھوں میں لاپتہ افراد کی تصاویر بھی اُٹھا رکھی تھیں۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ سات دہائیاں گزر چکی ہیں اور اس دوران ملت جعفریہ اپنے وطن کے دفاع و محبت میں ہزاروں جانیں قربان کرچکی ہے، مقررین کا کہنا تھا کہ ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے، دنیا نے دیکھ لیا کہ کس طرح عراق میں صدام کی حکومت ختم ہوئی، کس طرح شام و عراق سے داعش کا خاتمہ ہوا اور کس طرح افغانستان میں امریکا کو منہ کی کھانی پڑی، یہاں بھی ظالم کو بری طرح شکست کا سامنا کرنے پڑے گا اور ہمیں امید ہے کہ انشااللہ موجودہ نسل اپنی آنکھوں سے پاکستان سے ظلم و بربریت کو مٹا ہوا دیکھے گی۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی خوشنودی کی خاطر سعودی عرب کا پاکستانی قوم کے خلاف بڑا اقدام

مقررین کا شیعہ لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق کہنا تھا کہ سانحہ اے پی ایس و دیگر دہشت گردوی کے واقعات میں ملوث دہشتگرد احسان اللہ احسان کے گناہوں اور جرائم کو معاف کرکے اسے ملک سے فرار کروانے والے ہمارے بے گناہ لاپتہ افراد کے جرائم کیوں نہیں بتاتے کے آخر انہیں کس جرم میں لاپتہ کیا گیا ہے یا خوفزدہ ہیں کہ کہیں خود کے جرائم آشکار نا ہوجائیں؟ کسی گھر سے کسی کے عزیز کا غائب ہونا قتل ہونے سے زیادہ المناک اور دردناک ہوتا ہے، قتل کی اذیت تو کچھ وقت بعد پھر بھی کم ہوجاتی ہے لیکن اگر کوئی لاپتہ ہوجائے تو پورا خاندان مسلسل اذیت میں مبتلا رہتا ہے، یہاں موجود لاپتہ افراد کے اہل خانہ کا حال انتہائی خراب ہے کیونکہ انہیں یہ نہیں معلوم کے انکے پیارے زندہ ہیں بھی کہ نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آج ریاستی اداروں کے خوف کا حال تو یہ ہے کہ وہ ایک 17 سال کے حافظ قرآن فضل عباس کاظمی جیسے دین دار و محب وطن نوجوانوں سے بھی خوفزدہ ہیں، اور آخر کیوں نہ ہو خوفزدہ جو لوگ احسان اللہ احسان جیسے دہشت گردوں کو اپنا یار و عزیز بناکر رکھتے ہوں انہیں پاکستان کے محب وطن شہریوں سے خوف کھانا بھی چاہیے، یہ کہاں کا انصاف ہے کہ اگر کسی سے خوفزدہ بھی ہیں تو اسے جبری طور پر لاپتہ کردیا جائے۔ دنیا اپنے جوانوں کو تیار کرتی ہیں تاکہ وہ ملک کی خدمت کرسکیں اور پاکستان میں ملک کے معماروں کو لاپتہ کردیا جاتا ہے کہ وہ ملک کی خدمت نا کرنے لگے، ہم واضح کردینا چاہتے ہیں کہ ظلم اتنا ڈھاؤ جتنا بعد میں خود برداشت کرسکتے ہو، ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز نہ کرو کہ اگر ہمارے جوان بھپر گئے تو انہیں سنبھالنا ناممکن ہوجائے گا اور پھر تمہیں کہیں منہ چھپانے کی جگہ مسیر نہیں آئے گی۔

یہ بھی پڑھیں: کالعدم سپاہ صحابہ کے رہنما کی مسجد میں ایسی شرمناک حرکت کہ سن کرسرشرم سے جھک جائے

کمیٹی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ دو روز بعدپاکستان کا 73 واں یوم آزادی آرہا ہے جو ملک بھر میں جوش و خروش سے منایا جائے گا اور ادارے بھی اپنی کارکردگی جشن آزادی کے موقع پر پیش کریں گے لیکن اصل کارکردگی تو دنیا سامنے سے پہلے سے موجود ہے کہ آپ بانیان پاکستان کی اولادوں کو کس کا لاپتہ کررہے ہو، جنہوں پاکستان کی آزادی کےلیے اپنا گھر بار قربان کیا آپ نے انہیں کی اولادوں کو گمشدہ کردیا، جنکے آباؤ اجداد نے پاکستان کی بنیادوں کی اپنے خون سے آبیاری کی آپ نے انہیں کی اولادوں کو خون کے آنسو رلادیا، آخر یہ کہاں کا انصاف ہے کیا وطن عزیز کی عدلیہ نے اپنی آنکھیں بند کرلی ہیں سڑک پر ہونے والے تجاوزات پر ازخود نوٹس لیتی ہے لیکن قانون سے تجاوز کرنے والے اداروں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان لاپتہ افراد میں کتنے ہی ایسے افراد ہیں جن کے ماں باپ اپنی اولاد کو یاد کرتے کرتے دنیا سے رخصت ہوگئے، کتنی ہی بیویاں ہیں جو اپنے سھاگ کے انتظار میں بال سفید کررہی ہیں اور اولاد کو مسلسل دلاسے دے دے کر تھک چکی ہیں، ان لاپتہ افراد میں بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے گھر کے واحد کفیل ہیں جن کی جبری گمشدگی کے باعث ان کا گھر معاشی بد حالی کا شکار ہے۔ مقررین نے متعلقہ اداروں سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ اگرمذکورہ افراد نے کوئی جرم کیا ہے تو ایک شخص کےلئے آپ پورے خاندان کو سزا کیوں دے رہے ہیں؟ ان لاپتہ افراد کا وہ کون سا جرم ہے جس کو ادارے ظاہر نہیں کرنا چاہتے؟

یہ بھی پڑھیں: اہل بیت ؑ دشمن تحفظ بنیاداسلام بل،داعشی رہنمامعاویہ اعظم پنجاب اسمبلی کی تقسیم کے مشن پر کاربند

مقررین کا کہنا تھا کہ ان بے گناہ محب وطن شہریوں نے ایسا کونسا جرم انجام دے دیا جو دو سال، چار سال، گزرنے کے باوجود بھی معلوم نہ ہوسکا اور آپ انہیں ان کے جرم کی سزا عدالتوں میں نہیں دلوا سکے۔ کیا یہ معزز عدالیہ کی توہین نہیں ہے؟ کیا ان پر توہین عدالت کا کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا؟ مقررین نے 16 اگست بروز اتوار گورنر ہاؤس کے باہر احتجاجی مظاہرے کا اعلان کرتے ہوئے بااثر اداروں سے مطالبہ کیاکہ ہمارے تمام لاپتہ افراد کو فوری بازیاب کیا جائے اور اگر ان میں کوئی قصور وار ہے تو اس عدالت میں پیش کیا جائے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close