اہم ترین خبریںپاکستان

جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کا دو تلوارچورنگی کلفٹن پر پُرامن احتجاجی مظاہرہ

انہوں نے کہا کہ ان لاپتہ افراد میں کتنے ہی ایسے افراد ہیں جن کے ماں باپ اپنی اولاد کو یاد کرتے کرتے دنیا سے رخصت ہوگئے

شیعت نیوز: جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کی جانب سے جبری گمشدہ شیعہ افراد کے اہل خانہ نے دو تلوار چورنگی کلفٹن پر پُرامن احتجاجی مظاہرہ کیا، اس احتجاجی مظاہرے میں شیعہ مسنگ پرسنز کے اہل خانہ اور شیر خواربچے بھی شامل تھے جو کہ ریاستی اداروں سے اپنے پیاروں کی بازیابی کا مطالبہ کررہے تھے ۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کی معروف دو تلوار چورنگی پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں شیعہ لاپتہ افراد کے اہلخانہ بھی موجود تھے جنہوں نے اپنے ہاتھوں میں لاپتہ افراد کی تصاویر بھی اُٹھا رکھی تھیں۔اس موقع پر شہریوں کی بھی کثیر تعداد موجود تھی ۔

یہ بھی پڑھیں: ٹانک، سکیورٹی اداروں کے آپریشن میں کالعدم ٹی ٹی پی کے دوتکفیری دہشتگردواصل جہنم

مقررین کا کہنا تھا کہ ہمارے بے گناہ لاپتہ افراد کے جرائم کیوں نہیں بتاتے کے آخر انہیں کس جرم میں لاپتہ کیا گیا ہے؟ کسی گھر سے کسی کے عزیز کا غائب ہونا قتل ہونے سے زیادہ المناک اور دردناک ہوتا ہے، قتل کی اذیت تو کچھ وقت بعد پھر بھی کم ہوجاتی ہے لیکن اگر کوئی لاپتہ ہوجائے تو پورا خاندان مسلسل اذیت میں مبتلا رہتا ہے، جن شہداء کی یاد میں شع روشن کررہے ہیں انکے گھر والے سکون میں ہیں وہ بہترین مقام پر ہیں لیکن یہاں موجود لاپتہ افراد کے اہل خانہ کا حال انتہائی خراب ہے کیونکہ انہیں یہ نہیں معلوم کے انکے پیارے زندہ ہیں بھی کہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان لاپتہ افراد میں کتنے ہی ایسے افراد ہیں جن کے ماں باپ اپنی اولاد کو یاد کرتے کرتے دنیا سے رخصت ہوگئے، کتنی ہی بیویاں ہیں جو اپنے سھاگ کے انتظار میں بال سفید کررہی ہیں اور اولاد کو مسلسل دلاسے دے دے کر تھک چکی ہیں، ان لاپتہ افراد میں بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے گھر کے واحد کفیل ہیں جن کی جبری گمشدگی کے باعث ان کا گھر معاشی بد حالی کا شکار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آرڈر خواہ 2009ء کا ہو یا 2020ء کا، جی بی کے عوام کیساتھ ناانصافی پر مبنی اقدام ہے، علامہ شیخ نیئرعباس

مقررین نے متعلقہ اداروں سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ اگرمذکورہ افراد نے کوئی جرم کیا ہے تو ایک شخص کےلئے آپ پورے خاندان کو سزا کیوں دے رہے ہیں؟ ان لاپتہ افراد کا وہ کون سا جرم ہے جس کو ادارے ظاہر نہیں کرنا چاہتے؟مقررین کا کہنا تھا کہ ان بے گناہ محب وطن شہریوں نے ایسا کونسا جرم انجام دے دیا جو دو سال، چار سال، گزرنے کے باوجود بھی معلوم نہ ہوسکااور آپ انہیں ان کے جرم کی سزا عدالتوں میں نہیں دلوا سکے۔ کیا یہ معزز عدالیہ کی توہین نہیں ہے؟ کیا ان پر توہین عدالت کو ئی قانون لاگو نہیں ہوتا؟مقررین نے مطالبہ کیا کہ ہمارے تمام لاپتہ افراد کو فوری بازیاب کیا جائے اور اگر ان میں کوئی قصور وار ہے تو اس عدالت میں پیش کیا جائے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close