اہم ترین خبریںپاکستان

سعودی آقاؤں کی خوشنودی کی خاطر محکمہ داخلہ پنجاب نے چہلم امام حسینؑ پر نئے جلوسوں اور مجالس روکنے کی ہدایت کردی

ریاستی اداروں کو سوچنا ہوگاکہ وہ ان کا یہ دہرا معیار نفرتوں کو جنم دے گا، عزائے نواسہ رسول ؐ امام حسینؑ کسی ایک خاص مکتب کی نہیں بلکہ ہر حسینی ؑ کی میراث ہے چاہے وہ شیعہ ہو یا سنی ، ہندو ہو یا عیسائی لہذٰا وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور آرمی چیف سمیت چیف جسٹس آف پاکستان وزارت داخلہ پنجاب کے اس متعصبانہ اقدام کا فوری نوٹس لیں۔

شیعیت نیوز: تکفیری جماعتوں کو شیعہ کافر ریلیاں نکالنے کی کھلی اجازت ،سعودی آقاؤں کی خوشنودی کی خاطر محکمہ داخلہ پنجاب نے چہلم حضرتِ امام حسینؑ کے موقع پر نئے جلوس اور نئی مجلس ہر صورت روکنے کی ہدایت کر دی۔محکمہ داخلہ نے تمام ڈی پی اوز اور ڈپٹی کمشنرز کو مراسلہ ارسال کر دیا ہے۔

محکمہ داخلہ کی جانب سے بھجوائے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ صرف لائسنس یافتہ اور روایتی جلوس ہی نکالنے کی اجازت دی جائے۔ محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ جن کے پاس لائسنس نہیں اُنہیں جلوس نکالنے یا مجلس کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو امن کمیٹیوں سے رابطہ کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔پنجاب حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ چہلم حضرتِ امام حسینؑ کے موقع پر سیکورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو پیرالائز کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،چہلم شہدائے کربلاشیعہ سنی وحدت کا شاندار مظہر ہوگا،علامہ ناصرعباس جعفری

واضح رہے کہ یوم عاشورا کے بعد سے اب تک کراچی ، لاہور ، اسلام آباد، ملتان اور ملک کے دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں ملک دشمن سعودی نواز کالعدم وہابی دہشت گرد تنظیم سپاہ صحابہ /لشکر جھنگوی اور ناصبی بریلوی تنظیم تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے پاکستان کے دوسرے سب سے بڑے مکتب فکر ملت جعفریہ کے خلاف کھلم عام تکفیر آمیز ریلیاں نکالی گئیں اور جلسے جلوس منعقد کیئے گئے لیکن ریاستی اداروں نے انہیں روکنے کے بجائے مکمل سہولیات اور سکیورٹی فراہم کی لیکن نواسہ رسولؐ  کی یاد میں جلوس نکالنے پر رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: 765 شیعہ سنی علماء نے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کو ذلت آمیز قرار دے دیا+نام

ریاستی اداروں کو سوچنا ہوگا کہ ان کا یہ دہرا معیار نفرتوں کو جنم دے گا، عزائے نواسہ رسول ؐ امام حسینؑ کسی ایک خاص مکتب کی نہیں بلکہ ہر حسینی ؑ کی میراث ہے چاہے وہ شیعہ ہو یا سنی ، ہندو ہو یا عیسائی لہذٰا وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور آرمی چیف سمیت چیف جسٹس آف پاکستان وزارت داخلہ پنجاب کے اس متعصبانہ اقدام کا فوری نوٹس لیں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close