سعودی عرب

بن سلمان ثبوت مٹانے میں سرگرم، جمال خاشقجی قتل میں ملوث فوجی افسر کا قتل+ویڈیو

سعودی عرب کے مخالف صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث فوجی افسر کی ٹارگٹ کلنگ کر دی گئی۔

واشنگٹن پوسٹ سے وابستہ 59 سالہ جمال خاشقجی کو 2 اکتوبر 2018 کو ترکی کے شہر استنبول میں سعودی قونصلیٹ اندر قتل کر کے ان کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئے گئے تھے۔ مقدمے میں نامزد تمام ملزمان سعودی شہری ہیں۔

سعودی ولیعہد محمدبن سلمان پر الزام لگایا گیا کہ ان کے حکم پر جمال خاشقجی کو قتل کیا گیا لیکن انہوں نے اس الزام کی تردید کی تاہم ماورائے قانون قتل کے امور میں اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹر آگنیس کیلامارڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی ولیعھد محمد بن سلمان نے سعودی صحافی اور نقاد جمال خاشقجی کے قتل کے حکومتی ہونے کا اعتراف کرلیا ہے۔

کیلا مارڈ نے اس سلسلے میں مزید کہا کہ آزادانہ تحقیقات سے ایسے معتبر ثبوت و شواہد ملے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ خاشقجی کے قتل میں بن سلمان کا ہاتھ ہے۔

اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹر نے اسی کے ساتھ سعودی ولیعھد کی اس جرم سے خود کو دور کرنے کی کوششوں پر تنقید کی اور انھیں مشکوک قرار دیا اور کہا کہ وہ خود کو اس جرم سے کافی دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

آگنیس کیلامارڈ نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے اپیل کی ہے کہ وہ خاشقجی قتل کی آزادانہ تحقیقات کرائیں۔

سعودی ولیعھد محمد بن سلمان نے کچھ دنوں پہلے امریکی ٹی وی پی بی ایس کو انٹرویو دیتے ہوئے گذشتہ برس ہونے والے خاشقجی قتل کی ذمہ داری قبول کر لی تھی۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close