دنیا

جاپان کا ایٹمی بمباری کی روک تھام کا مطالبہ

شیعت نیوز : جاپان کے وزیر اعظم شینزو آبے نے کہا کہ ہیروشیما اور ناگاساکی پر ہونے والی ایٹمی بمباری جیسے واقعات کبھی دوہرائے نہیں جانے چاہیے۔

جاپان کے وزیر اعظم شینزو آبے نے اپنے ملک کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر کی گئی ایٹمی بمباری کی پچھترویں برسی کی مناسبت سے اپنے ایک بیان میں امریکی دہشت گردی سے متاثر ہونے والے خاندانوں سے ہمدری جتائی اور اس عزم کا اعلان کیا کہ ان کا ملک ایٹمی ہتھیار بنانے، انھیں محفوظ رکھنے یا انھیں برآمد کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

امریکہ کی ایٹمی بمباری میں مرنے والے جاپانی شہریوں کے اہل خانہ کے نام اپنے تعزیتی پیغام میں وزیر اعظم آبے شینزو کا کہنا تھا کہ ان کا ملک ایٹمی ہتھیاروں نہ رکھنے کے اصول کا پابند ہے۔

یہ بھی پڑھیں : دنیا بھر میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کا کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار

جاپان کے وزیراعظم نے ہیرو شیما اور ناگا ساکی جیسے شہروں پر امریکہ کی ایٹمی بمباری کی پچھترویں برسی کے موقع پر ایسے سانحات کی روک تھام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

جاپان کے وزیر اعظم جمعرات کو ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر امریکہ کی ایٹمی بمباری کی پچھترویں برسی کے موقع پر ایک خصوصی پروگرام میں شرکت بھی کریں گے۔

قابل ذکر ہے کہ امریکی فوج نے اس وقت کے امریکی صدر ہیری ٹرومین کے حکم سے چھے اگست انیس سو پینتالیس کو جاپان کے شہر ہیرو شیما پر ایٹم بم سے حملہ کیا تھا۔

امریکہ کی ظالم حکومت نے ہیرو شیما میں ایٹمی تباہ کاریوں کا مشاہدہ کرنےکے باجود صرف تین روز کے بعد جاپان کے ایک اور شہر ناگاساکی پر دوسرا ایٹم بم گرایا تھا۔جاپان پر امریکہ کی وحشیانہ ایٹمی بمباری میں دو لاکھ بیس ہزار کے قریب لوگ لقمہ اجل بن گئے تھے۔

امریکہ عام انسانوں کے خلاف ایٹم بم استعمال کرنے والا دنیا کا واحد ملک ہے اور اس نے آج تک اپنے غیر انسانی اور وحشیانہ اقدام پر باضابطہ معافی بھی نہیں مانگی ہے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close