اہم ترین خبریںپاکستان

سندھ حکومت کی JDCکےعالمی جشن میلاد النبیؐ پرپابندی،اہل سنت مفتی گلزارنعیمی کا اظہاربرہمی

کل اگر میلاد کے دشمنوں نے انتظامیہ کو درخواست دی کہ اگر میلاد کا جلوس نکلا تو ہم اس کو روکیں گے اس پر آپ کو انتظامیہ کہے گی کہ لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ ہے تو آپ کے پاس کیا جواب ہوگا؟۔

شیعیت نیوز: سندھ حکومت کی JDCکےعالمی جشن میلاد النبیؐ پرپابندی پر اہل سنت مفتی گلزارنعیمی نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے ، سوشل میڈیا ذرائع پر جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ آج رات نمائش چورنگی کراچی میں ایک این جی او جے ڈی سی کے زیرانتظام جشن عید میلاد النبی کے حوالہ سے ایک بڑی کانفرنس منعقد ہونے جارہی تھی جس میں نہ صرف تمام مسالک کے جید علماء کرام نے شریک ہونا تھا بلکہ تمام مذاہب کے نمائندگان تشریف لا رہے تھے۔یہ کراچی کا ایک بڑا ایونٹ ہے جو ہر سال نمائش چورنگی پر ہوتا ہے۔اس سال بشپس اور پادری بھی آرہے تھے جنہوں نے فرانس کا بھرپور جواب دینا تھا۔

مگر ہمارے بعض "دوستوں” نےاس کانفرنس کو رکوانے کے لیےآئی جی سندھ کو درخواست دیکر لاء اینٍڈ آرڈر کا مسئلہ بناکر پیش کیا۔سندھ کی بزدل حکومت ان کے جھانسے میں آگئی اور خود سے جاری کیا ہوا این او سی منسوخ کردیا۔یہ بہت ہی قابل افسوس بات ہوئی ہے بلکہ میرے نزدیک میلاد النبی منانے والوں کے ساتھ ایک سانحہ ہوا ہے۔عین اس وقت جب وطن عزیز کو ایسے مشترکہ پروگراموں کی اشد ضرورت تھی اس وقت اس بڑے پروگرام پر پابندی لگوانا ایک بڑا مجرمانہ عمل ہے۔یہ وہ وقت ہے جب ہمیں اسلام دشمن قوتوں کااتحاد ویگانگت کے ساتھ مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ایسے پروگرام اتحاد امت کے لیے ایندھن کا کام کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ہمیں فرانسیسی مصنوعات کے ساتھ امریکی، برطانوی اور یہودی مصنوعات کا بھی بائیکاٹ کرنا ہوگا، علامہ امین شہیدی

اس سے اتحاد و یگانگت کی فضا بروئے کار آتی ہے۔یہ اہل محبت کے جذبات محبت کے لیے آپ حیات کا کام کرتے ہیں۔اس وقت ایسے پروگراموں کو وہی روکے گا جو ملک میں فساد کا حامی ہے، جو را، موساد اور سی آئی اے کے ایجنڈے کو اس ملک میں آگے بڑھانا چاہتا ہے۔جو امریکہ کی ملینز آف ڈالرز کی خطیر رقم سے استفادہ کررہا ہے۔مجھے اس کانفرنس کے منسوخ ہونے کا رنج وغم تو ہے ہی مگر میں مستقبل کی صورت حال کو دیکھ کر اور غمزدہ ہورہاہوں۔آج میلاد منانے والوں میں سے چند ناعاقبت اندیشوں نے اس پروگرام کو رکوا دیا ہے تو کل اگر حکومت کہے کہ ہم آپکو میلاد کا جلوس نہیں نکالنے دیں گے یا کانفرنس نہیں کرنے دیں گے کہ لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ ہے تو مجھے بتائیں آپ کے پاس کیا جواب ہوگا۔

کل اگر میلاد کے دشمنوں نے انتظامیہ کو درخواست دی کہ اگر میلاد کا جلوس نکلا تو ہم اس کو روکیں گے اس پر آپ کو انتظامیہ کہے گی کہ لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ ہے تو آپ کے پاس کیا جواب ہوگا؟۔آج آپکی جے ڈی سی کے پروگرام کو روکنے والی درخواست کل آپ کےخلاف بطور دلیل پیش ہوگی۔کیا آپ کو کسی عقلمند رہنماء کی صحبت میسر نہیں ہے اور کیا ” الیس منکم رجل رشید”؟آج جو آپکو تھپکیاں لگا رہے ہیں وہ آپکے مخالف کھڑے ہونگے۔

میلاد کانفرنس کو رکوا کر آپ نے اپنے پاؤں پر کلہاڑا مارا ہے مگر اسکا زخم اب نہیں کچھ عرصے بعد آپکو نظر آئے گا۔لیکن اس وقت اس زخم کے لیے آپکو مرحم پٹی کہیں سے نہیں ملے گی۔میری دانست میں تو میلاد کی محفل کوئی غیر مسلم بھی سجائے توہمیں اسکی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے بلکہ اگر دعوت ہو تو بھرپور شرکت بھی کرنی چاہیے۔اس کانفرنس میں میلاد النبی کی خوشی میں انتظامیہ نے برقی قمقموں کے ساتھ ساتھ ایک لاکھ دیے جلانے کا بھی انتظام کیا ہوا تھا۔اتنی بڑی خوشی پر آپ نے پانی پھیر دیا، اچھا نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان ڈیموکریٹک الائنس کے جلسوں میں جی بی کے عوام کی امنگوں کے خلاف ہرزہ سرائی بھارتی موقف کی حمایت ہے،علامہ راجہ ناصرعباس

آپ اپنے رویہ پر غور کریں یہ کوئی اچھی بات نہیں ہوئی۔ایک آرگنائزیشن کے لاکھوں روپئے ضائع ہو گئے لیکن آپ کو کیا ملا؟؟؟ میلاد النبی کی ایک عظیم الشان کانفرنس منسوخ ہوگئی، آپ ہی بتائیں فائدہ کس کے بیانیے کو پہنچا؟؟؟۔ہم نے اپنے آپ کےساتھ دشمنی کی ہے۔اپنے عقیدے اور عقیدت کو مجروح کیا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ میلاد النبی کی محافل منعقد کرنے کا اعزاز اہل سنت کو ہی حاصل رہا ہے اور ہم ہی ان محافل کے بانیان میں سے ہیں ۔لیکن ہماری اجارہ داری نہیں ہے۔میرے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو سب کے ہیں۔وہ تو صرف مسلمانوں کے ہی نہیں غیر مسلموں بلکہ مخلوقات عالم کے نبی ہیں۔اگر کوئی آپ سے عقیدت کا اظہار کرتا ہے تو ہمیں رکاوٹ بننے کی بجائے اس عقیدت کو منانے کے لیے اسکا سہولت کار بننا چاہیے۔

چلیں اگر آپ کسی کی فکر سے ہم آہنگ نہیں ہیں تو آپ اس کے پروگرام میں نہ جائیں لیکن رکاوٹیں کھڑی کرنا شدت پسندوں اور انتہاء پسندوں کے طور طریقے ہیں۔آپ اگر لیڈر ہیں یا بننا چاہتے ہیں تو لیڈر کا کام لوگوں کو جوڑنا ہے توڑنا نہیں ہے۔لیڈر اتحاد واتفاق کی چھوٹی چھوٹی نسبتیں تلاش کرتے ہیں اور ان نسبتوں کو حوالہ بنا کر اتحاد کی عمارت کھڑی کرتے ہیں۔ہم تو بڑی نسبتوں کو نظر انداز کررہے ہیں۔یہ کونسی اور کیسی قیادت ہے جو میلاد النبی منانے کو صرف اپنا حق سمجھتی ہے؟. اگر آپ نبی سے محبت کے دعویدار ہیں تو اپنی محفلوں میں دوسرے لوگوں کو بھی شریک کریں اور اگر کوئی ایسی محفل سجاتا ہے تو اسکی حوصلہ افزائی کریں۔وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم پاکستان نے 12 ربیع الاول سے 19 ربیع الاول تک ہفتہ عشق رسول منانے کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی و سعودی ایجنٹ مسلم لیگ ن کی وطن دشمنی پر ترجمان پاک فوج کا دبنگ بیان سامنے آگیا

وفاقی وزیر مذہبی امور جناب پیر نورالحق قادری نے پریس بریفنگ میں کہا کہ اس ہفتہ میں سید خیرالانام کا خوب چرچہ کیا جائے گا۔سیرت کانفرنسز، سیمینارز اور فروغ عشق رسول کے حوالہ سے دیگر سرگرمیوں کا انعقاد کیا جائے گا۔یہ بہت ہی عجیب اور حیران کن بات ہے کہ وفاقی حکومت فروغ عشق رسول کے لیے مجالس منعقد کرنے کی ترغیب دے رہی ہے اور حکومت سندھ پہلے سے جاری میلاد رسول کانفرنس پر پابندی عائد کررہی ہے۔

میں جناب وزیراعظم پاکستان عمران خان اور وفاقی وزیر مذہبی امور سے گزارش کرونگا کہ وہ کراچی میں نمائش چورنگی پر ہونے والی میلاد کانفرنس کے این او سی کی منسوخی کا نوٹس لیں۔میں سندھ کے گورنر کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے اس کانفرنس میں آنے کا نہ صرف وعدہ کیا تھا بلکہ انتظامیہ کے ساتھ بھی بھرپور تعاون بھی کیا تھا۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close