اہم ترین خبریںپاکستان کی اہم خبریں

ریاست کے ہوتے ہوئےکوئی شخص یا مسلح گروہ جہاد کا اعلان نہیں کر سکتا، پیر نورالحق قادری

ان کا کہنا تھا کہ جس اسلامی ریاست میں جہاد کے لیے ایک ادارہ موجود ہے تو وہاں پرائیویٹ کمپنیوں کی طرف سے جہاد کا نقصان ہو گا۔

شیعت نیوز: وفاقی وزیربرائے مذہبی امورپیر نورالحق قادری نے کہا ہے کہ فعال ریاست کے ہوتے ہوئے انفرادی شخص یا کوئی مسلح گروہ جہاد کا اعلان نہیں کر سکتا۔ ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے نور الحق قادری نے کہا کہ جہاد ایک جاری عمل ہے لیکن ماضی میں پاکستان کے اندر جہادی تنظیموں کی موجودگی سے نقصان ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام مخالف عناصر نے جہاد کو غلط انداز میں استعمال کیا جس کے منفی اثرات ہوئے ہیں۔ کشمیر میں مسلمانوں کی مدد کیسے کی جائے جب عسکری طریقہ کار دنیا کو قابل قبول نہیں؟

اس سوال کے جواب میں وزیر مذہبی امور نے کہا کہ پیام پاکستان کے نام سے ایک ڈرافٹ تیار ہے، جس میں واضح کر دیا گیا ہے کہ پاکستان کا ایک مسلح ادارہ ہے، فوج جس کا عزم جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس اسلامی ریاست میں جہاد کے لیے ایک ادارہ موجود ہے تو وہاں پرائیویٹ کمپنیوں کی طرف سے جہاد کا نقصان ہو گا۔

وفاقی وزیر نے کہا جب ریاست کہے کہ فوج کو عوام کی مدد چاہیئے تو بے شک علما عوام کو جہاد کا کہیں۔ مولانا بشیر فاروقی نے مذکورہ بالا سوال کے جواب میں کہا کہ ریاست ہی تمام قوانین بناتی ہے اور عوام کو اس کا حق حاصل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ریاست مکمل ناکام نہ ہو جائے اس وقت تک کوئی مسلح گروہ جہاد کا اعلان نہیں کر سکتا۔ اس وقت پاکستان کی ریاست مکمل فعال ہے اور مسئلہ کشمیر پر ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

مولانابشیر فاروقی نے کہا کہ امت کو چاہیے مظلوم کشمیریوں کے لیے کم سے کم دعا ضرور کریں۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نے کہا کہ دو قومی نظریے کے ساتھ وابستگی کا مقصد کلمہ تھا اور پاکستان ایک دن اپنی بنیاد کی طرف ضرور آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم جس ملک کی بات کرتے ہیں وہ یقیناََ ریاست مدینہ ہے۔

مولانا بشیر فاروقی نے کہا یہ اللہ کی توفیق ہے کہ کس انسان سے کیا کام لینا ہے، پاکستان ریاست مدینہ جیسا نہیں لیکن اس طرف بڑھ رہا ہے۔ بچوں کیساتھ زیادتی اور قتل کے متعلق سوال کے جواب میں وزیر برائے مذہبی امور نے کہا کہ جب تک سر عام سزا نہیں ملے گی، جرم ختم نہیں ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ جرائم ختم کرنے کے لیے مسجد، منبر، محراب اور میڈیا عوام کی کردار سازی میں ناکام ہیں اور اگر حکومت قانون سازی نہیں کر رہی تو وہ بھی شریک جرم ہے۔ مولانا بشیر فاروقی نے جواب دیا کہ جب تک مجرم کی پکڑ نہیں ہو گی، جرم کا تدارک ممکن نہیں۔ عدالتوں کو جلد فیصلے کرنے چاہیں اور مجرم کو سخت سزا ملنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگ تمام ذمہ دارا اپنا اپنا کام بہتر طریقے سے انجام دیں تو بہتری ہو سکتی ہے۔

اسلاموفوبیا کے سوال پر جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مسلمان اپنی طاقت کھوچکا ہے اور یہ ہماری اپنی کمزوری ہے۔ ناموس رسالت کے سوال پر انہوں نے جواب دیا کہ عدالتوں کو سخت ری ایکشن لینا چاہیے اور شرعی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے سزائیں دے۔ انہوں نے کہا کہ جب عدالتیں برقت فیصلے دیں گی اس وقت تمام مسائل خود بخود ختم ہوجائیں گے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close