مشرق وسطی

اردنی فرمانروا کا اسرائیل کو دیے گئے اراضی پر اپنی خودمختاری کا اعلان

شیعت نیوز :اردنی فرمانروا شاہ عبداللہ دوم نے اسرائیل کو پٹے پر دیے گئے دو قطعاتِ اراضی پر اپنی مکمل ’’خود مختاری‘‘  کا اعلان کردیا ہے۔

اردن نے اسرائیل کو یہ اراضی دونوں ملکوں کے درمیان طے شدہ تاریخی امن معاہدے کے تحت پچیس سال کے لیے لیز پر دی تھی۔

اردنی فرمانروا نے اتوار کو نئی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’اردن دو علاقوں غومر اور الباقورا پر اسرائیل کا تسلط ختم کردے گا اور ان کے ہر انچ پر ہم اپنی مکمل خود مختاری کانفاذ کریں گے۔‘‘

اسرائیل کا اس اراضی پر گذشتہ ستر سال سے کنٹرول ہے۔اس کو یہ زمین 1994ء میں طے شدہ امن معاہدے کے تحت مزید پچیس سال کے لیے اردن نے لیز پر دے دی تھی۔ان دونوں میں سے ایک علاقہ اسرائیل کے شمال میں واقع ہے اور عبرانی میں ’’امن کا جزیرہ‘‘ کے نام سے معروف ہے اور یہ ایک مشہور سیاحتی مقام بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : صیہونی ریاست اسرائیل کے خاتمے کا آغاز، دنیا بھر میں 100 سے زائد سفارتخانے بند

شاہ عبداللہ دوم نے اس معاہدے کے خاتمے کے اعلان کیا ہے جس کے تحت اسرائیلی باشندوں کو اردن کے بارڈرز کے اندر واقع دو سرحدی علاقوں تک رسائی حاصل تھی۔

اس امن معاہدے کے تحت دی گئی زمین کی لیز کی معیاد 25 برس تھی جو 10 نومبر سنہ 2019 (اتوار) کو مکمل ہو چکی ہے۔

اتوار کے روز لیز کی معیاد ختم ہونے کے بعد اردن، اسرائیل کی سرحد پر واقع گیٹس کو بند کر دیا گیا اور خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی کسانوں کو اردن میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔

اسرائیلیوں کو آج اردن کے سرحدی علاقے میں بھی داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی کیونکہ کاشت کاروں کوجس سمجھوتے کے تحت وہاں کام کے لیے آنے کی اجازت دی گئی تھی،اس کی مدت ختم ہوگئی ہے۔

گذشتہ ماہ اردن نے اسرائیل سے اپنے سفیر کو بھی احتجاج کے طور پر واپس بلا لیا تھا۔اس نے یہ فیصلہ دو اردنی شہریوں کو کسی ٹرائل کے بغیر زیر حراست رکھنے کے خلاف احتجاج کے طور پر کیا تھا۔ تاہم اس نے اپنے ان دونوں شہریوں کی رہائی کے بعد اپنے سفیر کو اسرائیل واپس بھیج دیا تھا۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close