مشرق وسطی

خائن بحرینی حکومت اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے والا چوتھا عرب ملک

اسرائیل اور بحرین نے اتوار کو ایک معاہدے پر دستخط کرکے باضابطہ سفارتی تعلقات کا آغاز کردیا۔ اس طرح ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد بحرین اسرائیل کے ساتھ امن کی طرف بڑھنے والا چوتھا عرب ملک بن گیا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق بحرین کے دارالحکومت منامہ میں اسرائیلی اور امریکی عہدیداروں کے وفد کے دورے کے بعد اس معاہدے پر دستخط ہوئے۔ اس سے قبل بحرین کے وزیر خارجہ نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین ‘ابراہیم معاہدے’ پر دستخط کے دوران امریکہ کا دورہ کیا تھا۔ تعلقات کو معمول پر لانے کے علاوہ اس معاہدے سے مختلف معاملات پر دوطرفہ تعاون کو وسعت ملتی ہے۔

اس معاہدے میں دونوں ممالک کے درمیان رسمی اور سفارتی تعلقات پر زیادہ توجہ دی گئی ہے۔

معاہدے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اسلحے کی پابندیاں اٹھانے پر اتفاق کیا گیا۔ واضح رہے کہ جی سی سی، عرب لیگ، بیشتر عرب ریاستوں اور اسرائیل نے بارہا ان پابندیوں کے خاتمے اور اس خطے کو درپیش خطرات کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اے پی کے مطابق دونوں فریقین آئندہ مہینوں میں ایک سفارت خانہ کھولنے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں جبکہ بحرینی حکام نے امریکی اور اسرائیلی وفد کے دورے کو ‘تاریخی’ قرار دیتے ہوئے دو طرفہ مذاکرات کو نتیجہ خیز قرار دیا ہے۔

اگرچہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے، تاہم بحرین بھی خطے میں تناؤ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ یہ رپورٹس بھی سامنے آرہی ہیں کہ سوڈان نے بھی اسرائیل کے ساتھ باضابطہ تعلقات استوار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسلامی انقلاب کے بعد مصر اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لایا تھا اور 15 سال بعد اردن نے بھی ایسا ہی کیا۔ لیکن اب متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ مختصر طور پر باضابطہ تعلقات استوار کرلیے ہیں اور توقع کی جارہی ہے کہ جلد ہی دنیا کے 30 سے ​​زیادہ ممالک، جن کے اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات نہیں ہیں، وہ اس ملک کے ساتھ امن کی طرف بڑھیں گے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close