اہم ترین خبریںپاکستان

خان صاحب! ریاست مدینہ کے دعوےکی لاج رکھیں اور شیعہ مسجد کی سیل کھلوائیں

شہر یار آفریدی کے حلقے میں شیعہ مسلمانوں کو اپنی ہی مسجد میں نماز پڑھنے پر پابندی لگائی گئی ہیں اورنمازی مسجد کے ساتھ ملحقہ روڈ پر نماز پڑھ رہے ہیں۔

شیعت نیوز: ریاست مدینہ کے اولین شہر کوہاٹ جہاں کے ایم این اے اور وفاقی وزیر شہر یار آفریدی بات بات پر قسمیں کھانے اور صلوات و اسلام کی باتیں کرکے نہیں تھکتے۔ اسی شہر میں ان کے نظروں کے نیچے شیعہ مسلمانوں کو اپنے ہی مسجد میں نماز پڑھنے پر پابندی لگائی گئی ہیں اورنمازی مسجد کے ساتھ ملحقہ روڈ پر نماز پڑھ رہے ہیں۔

کوہاٹ شہر میں اہل تشیع کے ووٹ ہی فیصلہ کن ہوتے ہیں کہ اس حلقے کا ایم این اے اور ایم پی اے کون ہوگا؟؟ 2018 کے انتخابات میں شیعہ قوم نے بلاتفاق اپنے ووٹ ریاست مدینہ قائم کرنے کی دعویدار جماعت کودیئےتھے اور آج ان کے ہوتے ہوئے اسلامی رواداری کے خلاف ملک دشمن کالعدم دہشت گرد جماعت سپاہ صحابہ کے دو چار شرپسند عناصر کی ایماء پر کے ڈی اے کوہاٹ میں ڈی پی او کوہاٹ نے مسجد کو سیل کردیا ہے۔

کوہاٹ کے ماحول کو ہمیشہ سے القاعدہ ،داعش و طالبان کے کرتا دھرتا اور ماضی میں سپاہ صحابہ کے ممبر قومی اسمبلی ابراھیم پراچہ ہی خراب کرتے رہےہیں۔ لہذا خیبرپختونخواہ حکومت نےان کو نکیل ڈالنے کے بجائے پرامن اہل تشیع کے خلاف ہی ایکشن لیتے ہوئے مسجد کو سیل کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کالعدم سپاہ صحابہ کا بدنام زمانہ دہشتگرد تاجی کھوکھر پورےکینگ سمیت گرفتار,بھاری اسلحہ برآمد

ایک جانب عمران خان صاحب کی حکومت انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سکھوں کو راہداریاں بناکر اور ان کی پاکستان آمد میں مشکلات کا خاتمہ کرکے انہیں مذہبی رسومات کی ادائیگی میں آسانیاں پیدا کررہی تو دوسری جانب اپنی ہی ریاست میں شیعہ مسلمانوں سے نماز کی ادائیگی کیلئے چھت بھی چھین رہی ہے ۔

یہی نیازی سرکار بھارت میں مودی سرکار کے ہاتھوں تاریخی بابری مسجد پر ہندوانتہاپسندوں کے قبضے کےخلاف احتجاج کرتی دکھائی دیتے ہے اور اپنی کی ریاست میں شیعوں کو ان کی عبادت گاہ سے بے دخل کرنے پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے یہ اس ریاست مدینہ کے والی کے قول وفعل کا کھلا تضاد نہیں تو اور کیا ہے ۔

ریاست مدینہ والوں سے اتنی عرض ہے کہ خدا را اس نام کی لاج رکھیئےیا برائے مہربانی آئندہ سیدھے سادھے مسلمانوں کو اس مقدس نام والی ریاست کے نام پر دھوکہ نا دیں ۔ شکریہ

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close